مودی سرکار مسلم دشمنی میں علی گڑھ کا نام تبدیل کرنے پر تل گئی

Facebook
Twitter
LinkedIn

لکھنؤ: بھارت کی مودی سرکار مسلم دشمنی میں الٰہ آباد اور فیض آباد کے بعد اب علی گڑھ کا نام بھی تبدیل کرنے جا رہی ہے۔

بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیم بی جے پی کی مرکزی حکومت  کے دوسرے دور میں بھی وزیراعظم نریندر مودی کی  آشیرباد سے مسلم مخالف مہم عروج پر ہے جب کہ سیاسی فائدے اٹھانے کے لیے بی جے پی اور اس کی ذیلی انتہا پسند تنظیمیں مسلم مخالف کارڈز کو ہمیشہ سے استعمال کرتی رہی ہیں۔

بھارت سے مسلم شناخت مٹانے کے درپے  مودی سرکار اپنی ہندوتوا پالیسی پر عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کی کھلی حمایت سے ہندو انتہا پسند تنظیمیں کبھی  مساجد پر حملے کرتی ہیں تو کبھی عمارتیں مسمار کرتی ہیں۔ بھارت میں اسلامی تاریخ اور ثقافت مٹانے کے عزم کے ساتھ مودی سرکار کبھی ریلوے اسٹیشنز کا نام بدل رہی ہے تو کبھی شہروں کے نام اور ان کی پہچان تبدیل کی جا رہی ہے۔

بھارتی ریاست اتر پردیش میں   میں الٰہ آباد کے بعد اب ایک اور اسلامی شناخت کے حامل شہر کا نام بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے تحت علی گڑھ میونسپل کارپوریشن نے شہر کا نام  بدل کر ہری گڑھ رکھنے کی تجویز منظور کرلی ہے۔ یہ تجویز شہر کے میئر پرشانت سنگھل کی جانب سے گزشتہ روز کے اجلاس میں پیش کی گئی تھی، جس کی میونسپل کارپوریشن کے تمام کونسلرز نے متفقہ طور پر حمایت کی ہے۔