میڈیا کو درپیش چیلنجز

زندگی یا موت؟ انتخاب آپ نے کرنا ہے ، مصطفےٰ صفدر بیگ کا کالم

زندگی یا موت؟ انتخاب آپ نے کرنا ہے
تحریر: مصطفےٰ صفدر بیگ
جب بارش کی بوندیں آسمان سے اتر کر زمین کو بوسہ دیتی ہیں تو مٹی کی خوشبو سے فضا مہک اُٹھتی ہے، کھیتوں میں لہلہاتی فصلیں جیسے اپنی کوکھ میں نئی زندگی کا جشن مناتی ہیں اور دریا اپنے نیلگوں پانیوں سے گنگنانے لگتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب بارش رحمت محسوس ہوتی ہے۔ لیکن جب یہی بوندیں بے وقت برسیں، جب پہاڑوں سے اُترنے والا پانی شہر کے بام و در اُکھاڑ کر رکھ دے، جب ندی نالوں کے کنارے بستے ہوئے گھر یوں بہہ جائیں جیسے وہ کبھی تھے ہی نہیں تو اس وقت یہ بارش نعمت نہیں رہتی بلکہ نصیب میں لکھی ایک لرزہ خیز سزا بن جاتی ہے۔
گزشتہ چالیس گھنٹوں کی بارش نے خیبرپختونخوا میں 308 چراغ بجھا دیے۔ ان میں تیرہ ننھے پھول، پندرہ مائیں اور دو سو اناسی گھرانے کے وہ چراغ تھے جو اپنے اپنے آشیانوں کے کماندار تھے۔ بارش نے ان گھروں کی بنیادیں ہلا ڈالیں۔ پشاور، مردان اور چارسدہ کے چوہتر گھر مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئے جبکہ تریسٹھ ادھورے زخموں کی طرح کھڑے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ بارش کیوں ہوئی یا کتنی ہوئی؟ سوال یہ ہے کہ ہم نے اس قیمتی پانی کو روکنے کے لیے چھوٹے بڑے ڈیم کیوں نہ بنائے؟ ہم نے سیلاب کی پگڈنڈی پر مکانات کیوں کھڑے کردیے؟ یہی دو سوال ہر سال ہمیں آ کر گھیر لیتے ہیں اور ہر سال ہم ان کے جواب دینے کے بجائے آنکھیں چرانے لگتے ہیں۔
دنیا نے تو اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا مگر ہم نے سبق لینے سے صاف انکار کردیا۔ ہالینڈ کو دیکھیے کہ 1953 میں آنے والے سیلاب نے اٹھارہ سو جانیں لیں۔ مگر اس کے بعد ڈچ قوم نے ’’ڈیلٹا ورکس‘‘ کے نام سے دنیا کا عظیم ترین حفاظتی نظام تعمیر کیا۔ اُنہوں نے دریا کے قدرتی بہاؤ کی راہیں کبھی بند نہیں کیں بلکہ سمندری طوفانوں سے بچاؤ کے لیے فولادی بندھ باندھے اور اپنے شہروں کو پانی کے نقشے کے مطابق تعمیر کیا۔ جاپان کی مثال لے لیں! 2011 کے توہوکو زلزلے اور سونامی نے انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا مگر جاپانیوں نے ساحلی آبادیوں کو بلند مقامات پر منتقل کیا، فولادی دیواریں کھڑی کیں اور وارننگ سسٹم کو جدید ترین بنادیا۔ چین نے یانگسی دریا کے سیلابوں کے بعد تھری گیرجز ڈیم تعمیر کرکے لاکھوں جانیں محفوظ کرلیں۔
مگر ہم؟ ہم نے تو 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو بھی فراموش کردیا۔ وہ معاہدہ جس کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب ہمارے حصے میں آئے۔ اس زمانے میں تربیلا اور منگلا جیسے بڑے منصوبے بنے مگر اس کے بعد پورے چونسٹھ برس گزر گئے اور ہم نے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں ایک انچ کا اضافہ نہیں کیا۔ کالا باغ ڈیم کو ہم نے سیاست کی ٹھوکروں میں رکھ دیا۔ چھوٹے ڈیموں کا ذکر تو بہت دور کی بات ہے ہم تو گھریلو سطح پر بارش کے پانی کے لیے چھت پر ٹینک لگانے تک پر تیار نہیں ہوتے۔
اس سارے عرصے میں ہم نے دو بڑے قومی گناہ کیے۔ پہلا گناہ دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی پانی کی قدرتی گزرگاہوں پر قبضے اور تعمیرات کا گناہ تھا۔ یہ صرف خیبرپختونخوا کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا نوحہ ہے۔ کراچی میں ملیر اور لیاری کی ندیوں کو رہائشی بلاک بنا دیا گیا۔ لاہور میں برساتی نالے اور چھوٹے آبی راستے کالونیوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اسلام آباد میں نالہ لئی اور کورنگ نالے کے کناروں پر پلاٹ تقسیم ہوئے۔ پشاور میں دریائے کابل کے کناروں پر خودرو پودوں کی طرح مکانات کے جنگل اُگ آئے، سوات میں دریا کے ساتھ ہوٹلوں کی قطاریں کھڑی ہوگئیں۔ یہ سب کرتے ہوئے ہم بھول گئے کہ پانی اپنی گزرگاہ واپس لینے آتا ہے اور جب دریا لوٹتا ہے تو کسی کی پروا نہیں کرتا۔ ہم نے اس کی راہ میں کنکریٹ کے جنگل کھڑے کردیے اور سمجھا کہ ہم جیت گئے مگر ہر سال یہی پانی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل فاتح تو وہی ہے۔
ہمارا دوسرا قومی گناہ پانی ذخیرہ کرنے سے صریحا انکار ہے۔ آج پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے جو سب سے زیادہ پانی ضائع کرتا ہے۔ وزارت آبی وسائل کی 2022 کی اپنی رپورٹ کے مطابق ہر سال ایک سو اکیس ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں بہہ جاتا ہے جس کی قیمت 15 ارب ڈالر بنتی ہے اور یہ اتنا پانی ہے جو مصر جیسے ملک کی سال بھر کی ضرورت پوری کرسکتا ہے۔ اگر ہم چاہتے تو ہر ضلع، ہر تحصیل اور ہر یونین کونسل میں تالاب، چھوٹے بند اور زیرزمین ٹینک بنا سکتے تھے۔ مگر یہ ہماری ترجیحات میں شامل ہی کہاں ہیں؟ ہمارے حکمران ڈیم بنانے کے بجائے سڑکوں اور میٹرو بسوں پر فخر کرتے ہیں اور پھر ان منصوبوں کا بڑا حصہ ہر سال بارش کے پانی میں بہہ جاتا ہے۔
جی ہاں! میں ان دونوں جرائم کو جرم سے بڑھ کر گناہ ہی سمجھتا ہوں۔
یہ بارشیں ہمیں بتا رہی ہیں کہ یہ صرف ’’قدرتی آفات‘‘ نہیں بلکہ یہ فطرت کے ساتھ ہمارے سودے کا حساب ہے۔ یہ وہ قرض ہے جو ہم نے زمین سے لیا اور واپس نہیں کیا۔ اب زمین ہم سے سود سمیت اپنا حق مانگ رہی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش نہ سنبھالا تو ہر نیا موسمِ باراں مزید المناک خبریں لے کر آئے گا اور تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
ہر سیلاب کے بعد ایک ہی المیہ دہرایا جاتا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں سے وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے قافلے متاثرہ بستیوں کے دورہ کرتے ہیں، مصیبت زدہ خاندانوں سے ہمدردی کے چند رسمی جملے ادا کیے جاتے ہیں، فوٹوگرافروں کے کیمرے امدادی سامان کی تقسیم کے مناظر قید کرتے ہیں، اربوں روپے کی امداد کے اعلانات ہوتے ہیں اور پھر ۔۔۔۔۔ پھر ماحول طویل خاموشی کی ایک دبیز چادر اوڑھ لیتی ہے۔ جیسے ہم سب اگلے طوفان کے منتظر ہوں۔
سوال تو ہر بار اٹھتے ہیں مگر جواب کبھی نہیں ملتے۔ وہ قدرتی گزرگاہیں جن پر انسانی قبضہ ہوا، کیوں خالی نہ کرائی گئیں؟ وہ منصوبے جن کا چرچا میڈیا میں ہوا، ان پر عمل درآمد کیوں نہ ہوا؟ اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لیے مختص فنڈز کہاں گم ہوگئے؟
یاد رکھیے، سیلابوں کو روکا نہیں جا سکتا لیکن ان کے قہر کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم سب سے پہلے قدرت کے “حقِ گزر” کو تسلیم کرلیں۔ دریاؤں اور ندی نالوں کے کنارے ممنوعہ علاقے قائم کیے جائیں، ساحلی پٹیوں پر قبضے، چاہے وہ کس قدر طاقتور ہاتھوں کے کیوں نہ ہوں، جرأت کے ساتھ ختم کیے جائیں۔ یاد رکھیے، پانی کی راہ چھوڑے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔
دوسرا فریضہ یہ ہے کہ ہم چھوٹے ڈیموں اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبوں کو قومی عزم کا حصہ بنائیں۔ ہر ضلع میں کم از کم ایک چھوٹا ڈیم تعمیر ہو، ہر تحصیل میں بارش کا پانی محفوظ کرنے کے تالاب اور زیرِ زمین ٹینک ہوں۔ یہ چھوٹے ڈیم نہ صرف سیلاب کے طوفان کو روکیں گے بلکہ خشک سالی کے دنوں میں زراعت کو سہارا بھی دیں گے، پیاسے دیہات کو آبِ حیات مہیا کریں گے اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو بھی زندہ رکھیں گے۔
حکومت کو چاہیے کہ جدید ترین انتباہی اور پیش گوئی نظام اپنائے۔ موسمیاتی ریڈارز نصب کیے جائیں، سیلاب کے خطرات بتانے والے سوفٹ ویئر دیہی علاقوں تک بروقت خبر پہنچائیں، موبائل نیٹ ورک اور کمیونٹی الرٹ سسٹم مضبوط بنائے جائیں تاکہ کوئی گاؤں اچانک آنے والے ریلے کے نیچے نہ دب جائے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ موسمیاتی تغیرات صرف بارشوں تک محدود نہیں۔ پگھلتے گلیشیئر، بے دریغ جنگلات کی کٹائی اور پہاڑوں کی ویرانی بھی انہی آفات کو جنم دیتی ہے۔ اگر ہم شجرکاری کو فروغ دیں، زمین کو سبزہ زار واپس لوٹائیں اور پہاڑوں کے دامن میں فطرت کا توازن بحال کردیں تو یہ قہر بھی کم ہو سکتا ہے۔
لیکن سب سے بڑھ کر عوامی شعور بیدار کرنا ہوگا۔ لوگوں کو تعمیرات کے اصولوں کا پابند بنانا ہوگا، اسکولوں میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ پڑھانا ہوگا اور ہر فرد کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ پانی کو روکنا جنگ نہیں بلکہ زندگی کا معاہدہ ہے۔
خیبرپختونخوا کے سیلاب میں ڈوبنے والے 308 افراد محض اعداد نہیں ہیں بلکہ وہ ہمارے اجتماعی گناہوں کا نوحہ ہیں۔ جب تک ہم فطرت کی راہ میں حائل دیواریں نہیں گراتے اور جب تک ہم پانی کے ذخیرے نہیں بناتے تو یہ ماتم بار بار لکھا جائے گا۔ آج بھی پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید بارشیں ہوں گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اب تک اپننے پیاروں کی لاشوں سے کوئی سبق سیکھا ہے؟ کیا ہم آئندہ سیلاب سے پہلے فطرت کا حق واپس لوٹا دیں گے؟ اگر نہیں تو پھر اگلے سیلاب میں بھی جنازے اٹھیں گے، آنسو بہیں گے، تصویریں اتریں گی اور ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔
یاد رکھیے، فطرت کا انتقام دراصل ہماری اپنی حماقتوں کی سزا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم موت کی راہوں کو بند کریں اور زندگی کے در کھولیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں