کنویں سے آتی آواز

کنویں سے آتی آواز کو گائوں والے تین دن تک بھوت کی آواز کیوں سمجھتے رہے؟

آخر کار سکیورٹی عملے نے تین دن بعد کنویں سے آتی آواز کا پتہ لگایا اور 12 میٹر گہرے کنویں کے نیچے پھنسے 22 سالہ نوجوان کو باہر نکالا۔

تھائی لینڈ میانمار کی سرحد کے قریب پیش آنے والے ایک عجیب و غریب واقعہ کے نتیجہ میں ایک چینی باشندہ تین دن تک کنویں میں پھنسا رہا اور مدد کیلئے آوازیں بھی دیتا رہا لیکن گائوں کے لوگ کنویں سے آتی آواز کو کسی بھوت کی آواز ہی سمجھتے رہے۔

تھائی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کی سرحد پر موجود ایک گائوں کے مکینوں نے قریبی جنگل سے عجیب و غریب چیخیں سنیں لیکن انہوں نے ان کو بھوت کی آوازوں کے طور پر لیا اور تین دن تک جنگل سے دور ہی رہے۔

بعد ازاں پولیس نے ان آوازوں کی جانکاری کے لئے ریسکیو اہلکاروں کو جنگل کی طرف بھیجا، جنہوں نے جنگل میں جا کر ان آوازوں کا سراغ لگایا تو 22 سالہ لیو چوانی کو 12 میٹر گہرے کنویں کے نیچے پھنسا ہوا پایا، جس پر ریسکیو آپریشن کیا گیا جو کہ 30 منٹ تک جاری رہا اور نوجوان کو باہر نکالا گیا۔

ریسکیو اہلکاروں نے جا لیو چوانی کو بارہ میٹر گہرے کنویں سے باہر نکالا تو وہ اس وقت انتہائی کمزور حالت میں تھا اور تین دن اور راتوں تک بغیر خوراک اور پانی کے پھنسے رہنے کی وجہ سے وہ شدید زخمی بھی تھا جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں