فیکے ای فیکے

پیارے پڑھنے والے !
تمہیں شاید معلوم نہی کہ ہمارے ارد گرد بہت سارے فیکے ہیں بلکہ ہم چاروں طرف سے فیکوں میں گھرے ہوئے ہیں۔
یہ بھی ہو سکتا ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ تم خود بھی اندر سے ایک چھوٹے موٹے فیکے ہو ۔ کیونکہ خربوزہ ، خربوزہ کو دیکھ کے رنگ پکڑتا ہے۔ یقیناً تم سوچ رہے ہو گے کہ یہ فیکہ کیا بلا ہے یا فیکے سے کیا مراد ہے۔ تو اس کی وضاحت کے لئیے مجھے ایک لطیفہ سنانا پڑے گا۔ یوسفی صاحب نے adult joke / dirty joke کا ترجمہ کثیفہ کیا ھے.
چونکہ میں یہ تصور کر رہا ہوں کہ تم زہنی طور پر بالغ ہو تو یہ کثیفہ سنایا جا سکتا ہے۔ تو قصہ کچھ یوں ہے کہ
ایک سکول ٹیچر کا تبادلہ کسی دیہات میں ہو گیا ۔ ماسٹر صاحب کلاس میں پہنچے ۔پہلا دن تھا تو سوچا کہ بچوں سے تعارف ہو جائے۔ چنانچہ انہوں نے بچوں سے ان کے نام پوچھنے شروع کر دئیے۔ نام پوچھتے پوچھتے وہ آخری بیک بینچر تک پہنچے اور اس کا نام پوچھا ۔ تو اس نے اپنا نام فیکہ بتایا ۔ ماسٹر صاحب نے پیار سے، نرم لہجے میں کہا بیٹا فیکہ کوئی نام نہیں ہوتا ۔ اپنا پورا نام بتاؤ ۔ لیکن طالب علم جواباً شرما رہا تھا اور پورا نام بتانے سے گریزاں تھا۔ کچھ دیر نرمی سے اصرار کرنے کے بعد ماسٹر صاحب نے ڈپٹ کے پوچھا کہ اپنا پورا نام بتاؤ ۔ تو جواباً طالب علم نے ہچکچاتے ہوئے کہا کہ کی فیکہ ۔۔۔۔ دا۔
برخوردار نے جو جواب دیا وہ یہاں ناقابل اشاعت ہے ۔ اس خالی جگہ کو پر کرنے کے لئیے میں اسے آپ کی چشم تخیل ہے چھوڑ دیتا ہوں۔ حسب منشاء و خواہش اسے پر کر لیجئیے گا۔
تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ وطن عزیز میں فیکے ایک کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔ پچھلے 78 برسوں میں ہمارے جتنے بھی حکمران گزرے ہیں خواہ وہ جمہوری تھے ، مارشلائی تھے یا مارشل لا کی گود میں پرورش پا کر ہم پر مسلط رہے ان کی بڑی تعداد درحقیقت فیکوں پر ہی مشتمل تھی ۔ انہی کی دیکھا دیکھی ھر شعبے میں ، ھر ادارے میں فیکوں نے جنم لینا شروع کر دیا۔ یہ فیکے بیوروکریسی میں بھی ہیں، عدالتوں میں بھی ، بلکہ جتنی بڑی عدالت ہے اتنا ہی بڑا فیکہ وہاں موجود ہے۔ یہ فیکے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں بھی ہیں اور مزہبی رہنماؤں کی شکل میں بھی دستیاب ہیں ۔ بلکہ ایک سے بڑھ کے ایک فیکہ موجود ہے۔ حکمران ہوں یا اپوزیشن ۔۔۔یہ فیکے ھر جگہ موجود ہیں۔ بلکہ ان فیکوں کی دیکھا دیکھی عوام الناس میں یہ جراثیم سرایت کر گئے ہیں۔ 24 کروڑ میں سے کم ازکم ہمارے ہاں 23 کروڑ فیکے تو ھوں گے ہی۔ ہمارے ہر طرف ۔۔۔دائیں بائیں ،اوپر نیچے فیکے ہی فیکے ہیں۔
ہمارے پاس ھر رنگ ، ھر سائز کا فیکہ موجود ہے۔ عجیب بات یہ ہے ھر فیکہ یہ سمجھتا ھے کہ دوسرا فیکہ اس سے بڑا فیکہ ہے۔ ھر فیکہ دوسرے فیکے سے آزردہ خاطر ہے ۔ حالانکہ وقت آنے پر وہ خود کسی بھی فیکے سے کم نہی ۔
صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے ۔ ان کے تذکرے کے بنا یہ تحریر ادھوری رہ جاتی ۔۔تو عرض یہ کہ وہاں بھی فیکوں کی یلغار ہے بلکہ فروغ فیکہ سازی میں ان کے کردار اور خدمات کو نظر انداز کرنا بہت بڑی صحافتی بد دیانتی ہو گی ۔
و ما علینا الاالبلاغ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں