دنیا بھر میں اعصابی جنگ کا سویزرلینڈ کی خوبصورت فضاء میں فی الحال ختم ہوگیا الحمداللہ، فی الحال اسلئے تحریر کیا ہے کہ امریکی صدر اسرائیل کے دباؤ میں پھر نہ کوئی مسئلہ کھڑا کردیں۔ مگر دنیا جس امن کی منتظر تھی وہ پاکستان کی امن کیلئے دن رات کی کوششوں سے متحارب ایک جگہ جمع ہوگئے، ہاتھ نہ ملانا، گروپ فوٹو نہ بنوانا سب ثانونی چیزیں ہیں،دنیا کی تاریخ پرپہلا عظیم کام ہوا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ بیان ظاہر کرتا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کسی ایک شخص کا بھی جانی نقصان تکلیف دہ ہے۔ پاکستان کی کوشش میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر اعظم میاں شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈاراور سرگرم وزیر داخلہ محسن نقوی کی دن رات کی کوششوں نے نہ صرف جنگ کے بادلوں کو مزید برسنے سے رکوادیا بلکہ دنیا کو موقع فراہم کردیا کہ وہ جس معاشی بحران کا سامنا کررہے تھے وہ تھم گیا ہے اب وہ اپنی معیشت کی بہتری کی طرف توجہ دے سکتے ہیں، پاکستان کی کوششوں میں پاکستان کے دوست ملک سعودی عرب کاساتھ بھی رہا۔جس نوبل انعام کا ذکر ہوتا ہے اس کا حقد ار اسوقت پاکستان ہے چونکہ اس سے بڑا معاہدہ اوراہم کام اس کرہ ارض پر کبھی نہ ہوا، دوران متوقع مذاکرات کے دوران جب ایرانی وفد کے سربراہ وزیر اعظم شہباز شریف سے ہاتھ ملا کر کسی بات پر واپس چلے گئے اسوقت وزیر اعظم شہباز شریف کے چہرے کے تاثرات دیکھے جاسکتے تھے انہوں نے فوری ایران سے بات چیت کے کوارڈینیٹر وزیر داخلہ کی طرف اشارہ کیا اور وہ فوری ایرانی وفد کے پاس گئے اور ایرانی وفد واپس آگیا یہ منظر دنیا نے دیکھا ، مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرات سے دوچار کیا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان نے ایک محتاط، متوازن اور فعال سفارتی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے خود کو ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر منوانے کی کوشش کی۔ یہ حقیقت ہے کہ اگرچہ پاکستان اس تنازع کا براہِ راست فریق نہیں تھا، تاہم سفارتی میدان میں اس کی حیثیت اور اہمیت نمایاں طور پر بڑھ کر سامنے آئی۔امریکہ، جو اسرائیل کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے، اس کشیدگی میں ایک اہم کردار ادا کرتا رہا۔ اس صورتحال نے دنیا بھر میں یہ خدشات پیدا کیے کہ کہیں یہ تنازع ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے۔خطے کے بیشتر ممالک کو یہ احساس تھا کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی سلامتی بھی متاثر ہوگی۔پاکستان نے ابتدا ہی سے کسی ایک فریق کی کھلی حمایت کرنے کے بجائے تحمل، مذاکرات اور سفارتی حل پر زور دیا۔ اسلام آباد نے اپنے سرکاری بیانات میں بین الاقوامی قوانین، ریاستی خودمختاری اور علاقائی استحکام کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے بیک وقت مختلف عالمی اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ اپنے روابط برقرار رکھے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور سرحدی تعلقات موجود ہیں جبکہ دوسری طرف امریکہ کے ساتھ طویل المدتی سفارتی اور اقتصادی روابط بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہیں۔بین الاقوامی سفارتی
حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان نے مختلف ممالک کے درمیان رابطوں اور پیغامات کی ترسیل میں تعمیری کردار ادا کیا۔ اگرچہ ایسے
معاملات اکثر پسِ پردہ رہتے ہیں، لیکن سفارت کاری کی دنیا میں خاموش کوششیں ہی بعض اوقات بڑے نتائج پیدا کرتی ہیں۔پاکستانی قیادت نے متعدد عالمی رہنماؤں کے ساتھ رابطے کیے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیا اور سفارتی مبصرین نے پاکستان کے کردار کو مثبت انداز میں دیکھا۔یہ بحران پاکستان کے لیے اپنی سفارتی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا ایک موقع ثابت ہوا۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان معاشی مشکلات اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے، لیکن اس بحران کے دوران اس کی خارجہ پالیسی نسبتاً متوازن اور حقیقت پسندانہ نظر آئی۔امن کیلئے کوششوں میں پاکستان نے یہ پیغام دیا کہ وہ صرف جنوبی ایشیا کا ایک اہم ملک ہی نہیں بلکہ وسیع تر اسلامی دنیا اور مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران مسلم دنیا میں مختلف ردِعمل سامنے آئے۔ بعض ممالک نے سخت موقف اختیار کیا جبکہ بعض نے محتاط سفارت کاری کو ترجیح دی۔ پاکستان نے جذباتی نعروں کے بجائے عملی سفارت کاری کو اہمیت دی اور امن و استحکام کے اصولی مؤقف کو برقرار رکھا۔اس حکمت عملی نے پاکستان کو ان ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا جو تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سیاسی ذرائع پر یقین رکھتے ہیں۔سفارتی سرگرمیوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ کسی ملک کی اقتصادی ساکھ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ جب کوئی ملک عالمی بحرانوں میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا ہے تو بین الاقوامی سرمایہ کار، مالیاتی ادارے اور شراکت دار اس پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ امریکہ ایران، اسرائیل جنگ متحارب نے جنگ نہیں جیتی یہ فتح پاکستان کی ہے اب یہ ہمارے متعلقہ اداروں کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کی اس حیثیت کو ملکی معیشت کی مضبوطی اور بیرون ملک سرمایہ کاروں کے سامنے اپنی اس حیثیت کو کس طرح اپنے ملکی معیشت کی مضبوطی کی طرف موڑ سکتے ہیں پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو اقتصادی تعاون، تجارتی معاہدوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے استعمال کرے۔امن مذاکرات کے بعد بھی خدشات اپنی جگہ موجود ہیں مگر پاکستان نے اپنی حیثیت کو جس طرح عروج پر پہنچایا ہے اس پر قائم رہتے ہوئے اب توجہ ملک کے اندر مہنگائی، گورنرس کے مسائل پر توجہ دے چونکہ اندرون ملک ہر ادارہ رشوت پر کام کررہا ہے جو عوام میں ملک دشمنوں کے پروپگنڈے کاشکار ہوتا ہے۔ بہت سارے یوٹیوبرز، ٹی وی اینکرز جو مالی فوائد کیلئے اپنے چینلز بنائے بیٹھے ہیں وہ روتے ہیں کہ آج بھی اڈیالہ، نومئی والوں کی تعداد اس ملک میں زیادہ ہے اور اڈیالہ کا دروازہ کھلنے کی تمنا لئے بیٹھے ہیں تعداد کی بات کی جائے تو وہ یہ نہ جانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہماری آبادی کا 37 فیصد حصہ ناخواندہ ہے اور یہ ہی ناخواندہ آبادی جھوٹ پر مبنی انکے وی لاگ دیکھ اور سنکر اپنی رائے بناتے ہیں،اگر موجودہ حکومت مہنگائی پر بھی قابو پالے، ضروریات زندگی کے اداروں میں نیچے سے اوپری سطح پر کرپشن اور بد انتظامی پر قابو پالے تو عالمی سطح پر سفارتی کامیابی حاصل کرنے والی حکومت ملک کے اندر بھی سرخرو ہوجائے گی ۔بیرون ملک سے یوٹیوب چینلز بناکر نازیبا خبریں پھیلانے والوں کا شائد حکومت کوئی تدارک نہ کرسکے مگر ملک کے اندر کے فتنوں کو تو روک سکتی ہے جو آزادی اظہار کا سہارہ لیکر عوام کے ذہنوں کو پراگندہ کرتے ہیں، یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر حکومت عوامی مسائل کو ایسا حل کرے کہ وہ نظر بھی آئیں منفی پروپگنڈہ بازوں کی سیاسی موت واقع ہوجائیگی۔ پاکستان کی امن کو کوششوں کے
دوران ہمارے پڑوسی جو پاکستان کو ہروقت دہشت گرد ہونے کا پروپگنڈہ کرتا ہے اسکے لئے یہ ہی سوال ہے کہ ”تیرہ کیا ہوگا کالیہ ”؟؟











