جنیوا: یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث 21 جون سے اب تک 1300 سے زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ کئی ممالک میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جانے کے بعد صحت اور ٹرانسپورٹ کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق گرمی کی حالیہ لہر نے یورپ کے متعدد ممالک کو متاثر کیا ہے۔ اسپتالوں، ریسکیو اداروں اور ایمرجنسی سروسز پر غیر معمولی دباؤ بڑھ گیا ہے اور امدادی کالز میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یورپ کے بیشتر گھروں، دفاتر اور تعلیمی اداروں کو اتنے شدید درجہ حرارت کو برداشت کرنے کے لیے تعمیر نہیں کیا گیا، جس کے باعث گرمی کے اثرات مزید سنگین ہو رہے ہیں۔











