پیارے پڑہنے والے!
مجھے آوارہ گردی کا بہت موقع ملا اور میں نے جی بھر کے کی بھی۔ میرا باپ ایک بہت شاندار آدمی تھا ۔ ایک خوبصورت ، پڑھا لکھا صاحب علم آدمی۔ ایک نہایت شاندار اور نفیس آدمی۔ جس کا دل بادشاہوں سے زیادہ کشادہ تھا۔ میرے باپ نے جب مجھے پہلی دفعہ سکاوٹنگ پے بھیجا تو میں اس وقت پانچویں جماعت کا طالب علم تھا اور ہم نے گھوڑا گلی میں سمر کیمپ میں شرکت کی اور جی ٹی ایس کی سرخ رنگ کی بس میں گھوڑا گلی پہنچے۔ اس زمانے میں مری روڈ پے تانگے چلتے تھے اور وہ تانگے خوبصورتی کا شاہکار ہوا کرتے تھے۔ صاف ستھرے تانگے اور ان میں جتے ہوئے صحتمند گھوڑے اور اس زمانے میں صابن دانی کی شکل کی مورس گاڑیاں ہوا کرتی تھیں۔ جن کی باڈی سیاہ اور چھت پیلے رنگ کی ہوا کرتی تھی۔ مری روڈ پے جہاں اب دکانوں کی بھر مار اور یلغار ہے وہاں کشادہ کوٹھیاں ہوا کرتی تھیں جن میں خوبانی کے درخت ہوا کرتے تھے اور ان کی شاخیں پہلے اور لال رنگ خوبانیوں کے بوجھ سے جھکی ہوتی تھیں۔ اور ہم ان کو حیرت اور اشتیاق سے دیکھتے تھے ہم صحرائی بچے تھے اور ہمارے علاقے میں کھجوروں اور بیریوں کے علاؤہ کوئی اور خاص پھل نہی ہوتے تھے ۔ ہاں البتہ آم جسے پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے کے باغات تھے۔
آوارہ گردی کا سلسلہ بشکل سکاوٹنگ کالج تک جاری رہا اور میں نے پہلا بین الاقوامی سفر بطور سکاؤٹ ایران کا کیا۔ ہم نے بطور سکاؤٹ شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی تاج پوشی میں شرکت کی ۔
سفر میرے لئیے ہمیشہ ایک دل کش تجربہ رہا ہے اور میں اس سے کبھی بھی اکتاتا نہیں۔ نئے منظر ، نئی جگہیں نئے لوگ ہمیشہ میرے لئے باعث کشش رہے ہیں ۔
پھر کوئی چودہ پندرہ سال امریکہ نوردی میں بسر کئے اور وہ ایک اور ہی دنیا ہے ۔ یہ ایک طویل قصہ ہے جو میں پھر کبھی سناؤں گا ۔ فی الحال جو بات میں کہنا چاہ رہا ہوں وہ یہ کہ ہم غریب نہیں، نہ ہی ہم بزدل اور نالائق ہیں ۔ ہاں البتہ ہم بے وقوف، بزدل اور نالائق لوگوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں اور ان جونکوں کی وجہ سے ہم غربت اور بے بسی کا شکار ہیں ۔
ہمارے اجداد نے کمال کر دیا انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ہمیں ایک خوبصورت۔ شاندار اور بہترین ملک دیا ۔ ایک وسیع و عریض ملک جس میں دریا، صحرا، پہاڑ، سمندر اور سب کچھ تھا ۔ ہمیں ایک ایسا خطہ زمین دیا جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ۔ جس کے ست رنگے موسم ہیں، ایک ملک جو پھلوں ،پھولوں اور زرخیز زمینوں پے مشتمل ہے ۔ ہمارے پاس محنتی کسان ہیں جو دنیا جہان کا غلہ اگاتے ہیں۔ ہمارے پاس بے پناہ محنت کش اور ھنر مند لوگ ہیں ۔ ہمارے پاس اچھے تاجر ہیں جنہیں دنیا کی سوجھ بوجھ اور وہ بین الاقوامی سطح پے کاروبار کی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔
ہمارے پاس اہل علم ہیں۔ ہمارے سکول کالج اور مدرسے ہیں۔
ہمیں کسی بھی چیز کی کمی نہیں۔ ہمارے لوگ اچھے دل کے مالک ہیں، خدا ترس ہیں اور اللہ رسول کے ماننے والے ہیں ۔ ہمارے ملک میں کم از کم چار کروڑ سے زائد حجاج ہیں ۔ چھ لاکھ سے اوپر مساجد ہیں ۔لیکن ۔۔۔لیکن اگر ہمارے پاس اگر کچھ نہیں ہے تو فقط اچھے رہنما نہیں ہیں اور اس معاملے میں ہم بہت ہی غریب ہیں۔ انتہائی مفلس اور نادار ہیں ۔بلکہ اس اعتبار سے ہمارا شمار دنیا کے نادار ترین لوگوں میں کیا جا سکتا ہے ۔
میں امریکہ میں پندرہ سال رہا ہوں اور اللہ جانتا ہے امریکہ میں رہنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ وہاں ہر آدمی ھفتے میں کم ازکم چالیس گھنٹے کام کرتا ہے۔ان کام کرنے والوں کی عمر 18 سال سے لیکر 75 سال تک ہے ۔وہاں پے بہت کم لوگ ہیں جنہیں کام کرنے کے لئیے بیٹھنے کی سہولت میسر ہوتی ہے ۔ زیادہ تر لوگ کھڑے ہو کر کام کرتے ہیں۔اٹھ گھنٹے کی شفٹ میں صرف آدھ گھنٹے کی بریک ہوتی ہے۔ ان تیس منٹوں میں آپ کھاپی لیں باقی ساڑھے سات گھنٹے آپ نے مسلسل کام کرنا ھے۔ نہ آپ بیٹھ سکتے ہیں نہ گپ لگا سکتے نہ بچوں کو لینے سکول جا سکتے ہیں ۔ یہ ساڑھے سات گھنٹے آپ نان سٹاپ کام کر رہے ہوتے ہیں ۔ مہینے میں 320 گھنٹے آپ کام کرتے ہیں ۔ جتنا کام آپ کا ایک کلرک پورے مہینے میں کرتا ہے اس سے زیادہ کام وہاں کا کلرک ایک شفٹ میں کرتا ھے ۔ اگر آپ دو دفعہ لیٹ ہو گئے ہیں تو باس آپ کو کسی بھی وقت کھڑے کھڑے فائر کر سکتا ہے ۔ صبح سات بجے سارا امریکہ ناشتہ کر چکا ہوتا ھے ، گیارہ بجے لنچ اور پانچ بجے ڈنر۔
آلو دو ڈالر کے پاؤنڈ، پالک دو ڈالر کی پاؤنڈ ۔ ایک مینگو دو ڈالر کا ہے ۔مینگو بھی وہ جسے خریدنے کے بعد دس دن کھیس میں لپیٹ کے رکھنا پڑتا ہے۔ پھر کہیں جا کے کھانے کے قابل ہوتا ۔ زائقے کے اعتبار سے وہ ہمارے معمولی ترین آم کا مقابلہ نہی کر سکتا۔ وہاں کا سیب ہمارے آلو جیسا ہے ہلکا سا میٹھا لیکن خوشبو کا نام و نشان نہیں ۔
مجھے مکئی کی روٹی بہت پسند ہے ۔ یہ وہاں کی ایک فوڈ چین پر دستیاب ہے اس چین کو Whole Food کہتے ہیں۔ چار روٹیاں جنہیں سپینش میں تورتیا کہتے ہیں ۔ جی ہاں صرف چار روٹیاں وہ بھی پوڑی کے سائیز کی صرف چھ ڈالر کی ۔ پاکستانی روپوں میں یہ تقریبا 1700روپے بنتے ہیں۔
ہم امریکہ سے کوئی سو گنا زیادہ امیر ہیں ۔ جی یہ بات میں دعویٰ سے کہہ رہا ہوں ۔
پہلی بات یہ پاکستانی امریکی آپ کو وہاں کے بارے میں سچ نہیں بتاتے وجہ یہ کہ وہ ہمیں باقاعدہ کمی کمین سمجھتے ہیں۔ باقاعدہ ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ جس کا آئے دن کہیں نہ کہیں اظہار بھی ہوتا رہتا ھے۔ گورے بہت اچھے ایکٹر ہیں ۔ ایک نقلی سی مسکراہٹ پیش کرتے ہیں اور ہمارے دیسی لم لیٹ ہو جاتے ہیں۔
بہرحال مجھے کوئی غلط فہمی نہیں کہ وہ ہمیں کیا سمجھتے ہیں۔ میں ان کی رگ رگ سے واقف ہوں۔
خیر تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ ہم غریب نہیں، لیکن ہمیں گھٹیا ، پسماندہ اور نادار لیڈر ملے ہیں جو درحقیقت خون پینے والی جونکیں ہیں۔ جن کی کل اوقات اور ذہنی اپروچ یہ ہے کہ وہ کم سے کم وقت میں پاکستان کو زیادہ سے زیادہ لوٹ سکیں، اور مرنے سے پہلے اپنی منحوس اور مردود اولاد کو یہ کام سونپ جائےکہ اب تم لوٹو ۔ مرنے سے پہلے وہ چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا یا بیٹی وزیر اعظم بن جائے ۔ اس کے لئیے وہ امریکن سفیر کو اپنی ماں بہن بھی پیش کرنے کے لئیے تیار ہوتا ہے بلکہ اسے اعزاز سمجھتا ھے۔ اسی طرح ہمارے پاس ایک چول سی اسٹیبلشمنٹ جو ہر پانچ سال کے بعد مارشل لاء لگا کے بیٹھ جاتی ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب مشرف صدر بنا تو پاکستان اس وقت آٹھ بلین ڈالر کا مقروض تھا۔ جب موصوف سے جان چھوٹی تو پاکستان کا قرض سو بلین ڈالر سے اوپر جا چکا تھا۔
ہماری بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ میں زیادہ تر لوئر مڈل کلاس کے لوگ ھوتے ہیں جن کی رگ رگ میں بھوک رچی ہوئی ہے ۔ ان کی کل اوقات ایک گرین کارڈ ، امریکہ کا ویزہ یا پھر بچے کا کسی کالج یونیورسٹی میں داخلہ ہے۔ ان کا بس چلے تو یہ کھڑے کھڑے سارا ملک بیچ دیں ۔ بے ضمیر جج ہیں۔ ججی سے استعفی دینا تو دور کی بات ہے یہ کہیں چپڑاسی لگے ہوں تو اس سے استعفی نہیں دے سکتے ۔ یہ ہمارے ایک پست قامت چیف جسٹس کا بیان ہے ۔ ہماری پولیس سب سے بڑی قانون شکن ہے ۔ تھانوں کی بولیاں لگتی ہیں ۔ ایک دو ٹکے کا ڈپٹی کمشنر ہوتا ہے اور اس کے گھر سے اربوں روپے برآمد ہوتے ہیں۔ سوچیں اس حرامی نے دوران سروس اس ملک کو کتنا نقصان پہنچایا ہو گا۔
ہمیں غریب رکھنے میں ان سب کا ہاتھ ہے ۔ یہ انتہائی لالچی اور مکروہ لوگ ہیں جن کو کسی بھی شئہ کی رتی برابر پروا نہیں ۔ بیورو کریسی کا ایک چھوٹا سا پرزہ جو سیکشن آفیسر ہوتا ہے ، اس کا بس چلے تو وہ سیکریٹیریٹ کا پورا بلاک ہی بیچ دے۔
فیڈرل پبلک سروس کمیشن یہ نمونے ہمیں منتخب کر کے دیتا ہے ۔ پتا نہیں وہ منحوس سائیکاٹرسٹ کہاں کا پڑھا ہوتا جو پرسنلٹی analysis کرتا ہے۔
اس ملک کو غریب رکھنے میں یہ سب مردار کھانے والے گدھ حسب توفیق اپنا اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان کو اپنے بیوی بچوں سے بہت پیار ہے ۔ یہ بڑے family oriented لوگ ہیں۔ ان حرام خوروں کو اپنے پیدا کئیے ہوئے نمونوں سے اتنا پیار ہے کہ ان کے لئیے یہ پورے پاکستان کے بچوں کو بھوکا مار دیں۔ یہ ان کے لئیے ہر طرح کی لوٹ مار کو روا سمجھتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ شاید ان کی اولادیں ان کے مزار بنوائیں گی اور جمعرات کی جمعرات ان کے مزار ہے قوالی کروائیں گی ۔ یہ توقع وہ اپنی اس اولاد سے کر رہے ہیں جن کا ایک ایک نوالا حرام کی کمائی سے خریدا گیا ہے ۔
اس ملک کو غریب رکھنے میں ان سب مردودوں کا ہاتھ ہے جو اپنی اولاد سے بہت محبت فرماتے ہیں ۔ کیا یہ واقعی اپنی اولاد سے محبت کرتے ہیں؟؟؟؟؟
مجھے یہ مجرم کم اور پاگل زیادہ لگتے ہیں۔
یہ سارے مردار خور گدھ پاکستان کو نوچنے کھسوٹنے میں بہت بری طرح مصروف ہیں۔ نہ یہ تھکتے اور نہ ہی یہ مرتے ہیں ۔ ہم سب عزرائیل علیہ السلام کے منتظر ہیں۔











