اسلام آباد: بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز سے امریکا کا ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے بہانے 93 لاکھ روپے وصول کرنے کے کیس میں ملزم محمد نعمان بدی الزمان کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایک خاتون سمیت دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزم نعمان کو اسلام آباد پولیس نے ایک گھر کے تہہ خانے سے گرفتار کیا جہاں وہ چھپا ہوا تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ کی ہدایت پر متعلقہ اداروں نے کارروائی کی جبکہ ملزم سے تفتیش جاری ہے۔
ایف آئی اے اسلام آباد زون کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے لائبہ اعجاز کے اہل خانہ کی درخواست پر مقدمہ درج کیا۔ مقدمے میں محمد نعمان بدی الزمان اور فاطمہ سرور کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمہ نمبر FIR-AHTC-ICT-977/26 مورخہ 10 اکتوبر 2026 کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 419، 420 اور 109 جبکہ امیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعات 18 اور 22 کے تحت درج کیا گیا۔
ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر باہمی ملی بھگت سے لائبہ اعجاز کو امریکا کا ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کا جھانسہ دے کر ان کے ماموں امجد الرحمان سے مجموعی طور پر 93 لاکھ روپے وصول کیے۔ ملزمان نے مبینہ طور پر جعلی اسکالرشپ ایوارڈ لیٹرز، یونیورسٹی میں داخلے کے آفر لیٹرز اور فیس کی ادائیگی کی رسیدیں تیار کرکے خاندان کو دھوکے میں رکھا۔
تحقیقات کے مطابق 29 لاکھ روپے لائبہ اعجاز کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے جبکہ باقی رقم نقد وصول کی گئی۔ مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مالی فراڈ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ذہنی اذیت کے بعد لائبہ اعجاز انتقال کر گئیں۔
لائبہ اعجاز امریکا کی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرکے سائنس دان بننے کی خواہش رکھتی تھیں۔ ان کی تدفین کے بعد اہل خانہ نے ایف آئی اے سے رجوع کیا جس پر کارروائی شروع کردی گئی۔











