اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب میں کرپشن کے الزامات کے ذریعے حکومت کو کمزور اور بدنام کرکے نئے سیاسی گروپ یا متبادل انتظام کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بعض سرمایہ دار گزشتہ 8 سے 10 ماہ سے سرگرم ہیں اور ایک نئے سیاسی گروپ کی تشکیل کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دو سال بعد انتخابات ہونے ہیں اور ممکن ہے نئی سیاسی ٹیم سامنے لانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہو۔
خواجہ آصف نے کہا کہ کرپشن صرف پنجاب نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے اور عام شہری روزمرہ زندگی میں اس کا سامنا کرتے ہیں۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے اختلافات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلافات کو اس حد تک نہیں بڑھانا چاہیے کہ باہمی احترام بھی ختم ہوجائے۔ انہوں نے تحریک انصاف پر بھی گزشتہ چار سال کے دوران سیاسی ماحول میں تلخی پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔
وزیر دفاع نے کسی فکسڈ سیاسی گیم کا حصہ ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مقدمات واپس نہیں لے گی کیونکہ کسی ڈیل کی قیمت بالآخر حکومت کو ادا کرنا پڑے گی۔











