چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ اچکزئی کے پاس اگر مینڈیٹ موجود ہے تو ضرور مذاکرات کریں لیکن اگر علیمہ خان کہہ رہی ہیں کہ کسی کے پاس مذاکرات کے اختیارات موجود نہیں تو ضرو کوئی مسیج آیا ہوگا۔
راولپنڈی داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ آج ملاقات کا لگ تو نہیں رہا لیکن ملاقات ضرور ہونی چاہیے، مسائل بڑھ رہے ہیں ملک پہلے مشکلات سے دوچار ہے کچھ نہ ہو تو سال ختم ہونے سے قبل ملاقات ہونی چاہیے، بہنوں کی ملاقات پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے، بشریٰ بی بی کی فیملی کو بھی ملاقات کی اجازت ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے معلوم ہونا چاہیے یہ ہمارا حق بنتا ہے، بانی پی ٹی آئی کے کیسز پر فیصلے ہوچکے ہوتے تو وہ باہر ہوتے، یہ سب نہیں ہوسکا تو ملاقات ہونا بنیادی حق ہے، بد قسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے ملاقات بند کرنے کا مشورہ دیا ملاقات نہ ہونے سے لوگوں میں غلط پیغام جارہا ہے حالات نفرت کی طرف جارہے ہیں کب تک ایسا چلے گا؟ ہر منگل کو آتے ہیں ملاقات نہیں ہونے دیتے آخر وجہ کیا ہے؟ اگر ملاقات کے لیے فیملی کو اجازت ملتی تو اچھی خبریں آئیں گی ایک دفعہ کوشش کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جو مذاکرت کی باتیں ہورہی ہیں اس پر علیمہ خان کا موقف موجود ہے میں کوئی بات نہیں کروں گا، اچکزئی کے پاس اگر مینڈیٹ موجود ہے تو ضرور بات کرلیں، میرے پاس جو تحریری طور پر موجود ہے اس کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس ہی مذاکرات کریں اگر مذاکرات نہیں کرنے تو نہ کریں یہ اختیار بھی ان کے پاس ہے، اگر علیمہ خان کہہ رہی ہیں کہ کسی اور کے پاس مذاکرات کے اختیارات موجود نہیں ہے تو اور کوئی مسیج آیا ہوگا۔











