اسلام آباد : سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کا چیئرمین تعینات ہونے کے بعد، آج ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے باضابطہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔ ڈاکٹر سدھو کمیشن میں وزیراعظم کے اعلان کردہ اکنامک گورننس ریفارمز کے مطابق اصلاحات شروع کریں گے۔
پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کو مستحکم بنانا، سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو بڑھانا ، کاروبار کرنے میں آسانیوں کو فروغ دینا، انشورنس سیکٹر کا فروغ اور نان بینکنگ سیکٹر کے ذریعے مالیاتی شمولیت کو وسعت دینا ہے، ان کے اصلاحاتی ایجنڈے کی ترجیحات ہیں۔
چئیرمین ایس ای سی پی تعینات ہونے سے پہلے، ڈکاٹڑ کبیر سدھو چئیرمین کمپٹیشن کمیشن کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ وفاقی حکومت نے ڈاکٹر سدھو کے چئیرمین سی سی پی کے عہدے سے استعفی کو باضابطہ منظور کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔
ڈاکٹر سدھو کے وژن کا محور ایک منصفانہ، شفاف اور جامع مالیاتی نظام کی تشکیل ہے جو سرمایہ کاری، جدت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دے۔ ریگولیٹری کمپلائنس کی کاسٹ میں کمی ، فائلنگ کو سہل بنانا اور کارپوریٹ و مالیاتی ریگولیٹری فریم ورک مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنا ان کی ترجیح ہو گا۔
کیپٹل مارکیٹس میں سرمایہ کاروں کی تعداد کو بڑھانا، مارکیکٹ میں نئی کمپنیوں کی لسٹنگ کی حوصلہ افزائی اور نئے پراڈکٹ کا اجراء جیسے کہ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز، ڈیریویٹوز، ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (ریٹس)، گرین بانڈز اور فریکشنل سرمایہ کاری جیسی متنوع مالیاتی مصنوعات متعارف کرانے پر زور دیا جائے گا۔ ان اقدامات کا مقصد مارکیٹ میں وسعت پیدا کرنا ، لیکویڈیٹی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانا ہو گا، تاکہ پاکستان کی مارکیٹس بہترین عالمی روایات سے ہم آہنگ ہو سکیں۔
ڈاکٹر سدھو کی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو نان بینکنگ فنانس کمپنیز (این بی ایف سیز) کے شعبے کا فروغ اور احیاء ہے۔ ڈاکٹر سدھو نے لیزنگ کمپنیوں، ڈیجیٹل لینڈنگ، مارگیج فنانس، ہاؤسنگ فنانس اور پیئر ٹو پیئر پلیٹ فارمز کی اہمیت پر زور دیں گے تاکہ بالخصوص چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں، پہلی بار قرض لینے والوں اور عام طبقات کی چھوٹے قرض تک رسائی کو فروغ دیا جا ے۔ ایس ای سی پی اس شعبے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے حوصلہ افزا ریگولیٹری ماحول فراہم کرے گا۔
ڈاکٹر سدھو انشورنس سیکٹر کو خصوصی توجہ دیں گے ۔ ڈیجیٹل مائیکرو انشورنس، تکافل، پیرا میٹرک موسمیاتی انشورنس اور پالیسیوں و کلیمز کے عمل میں شفافیت کے ذریعے انشورنس کی رسائی بڑھایا جائے گا اور غیر رسمی معا شی سیکٹر تک بھی انشورنس کی کوریج کو بڑھایا جائے گا۔
ڈاکٹر کبیر سدھو کمیشن کی ڈیجیٹلائزیشن کے سفر کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ، اور شفافیت کلے پیش نظر لائسنسنگ کے نظام کو فوری طور پر ڈیجیٹل کرنے پر زور دیا۔ کمپنیوں کے لئے دیگرلیٹری کمپلائنس کو سہل باننے کے نلئے اسمارٹ کمپلائنس سسٹم متعارف کرایا جائے گا تاکہ کمپنیوں کی کاروباری لاگت کو کم اور امور کی پراسیسنگ کو تیز کیا جا سکے۔
ڈاکٹر کبیر سدھو پاکستان اور بیرون ملک دو دہائیوں سے زائد قانونی، ریگولیٹری اور انسٹیٹیوشنل مینجمنٹ کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر سدھو یونیورسٹی آف مانچسٹر سے قانون میں پی ایچ ڈی، بینکنگ، انشورنس اور انٹرنیشنل بزنس لا میں ایل ایل ایم کی ڈگری رکھتے ہیں اور فنانشل مینجمنٹ ، مارکیٹ گورننس اور انسٹیٹیوشنل ریفارمز کی مہارت رکھتے ہیں۔











