27 ویں ترمیم کیلئے کھینچ تان کر دو تہائی اکثریت حاصل کی جارہی ہے، فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کھینچ تان کر دو تہائی اکثریت حاصل کی جارہی ہے جس کا نقصان ہوگا، ایسے اقدامات جمہوریت اور پارلیمنٹ کی توہین ہیں، 18ویں ترمیم میں اگر صوبوں کے اختیارات کم کرنے کی کوشش کی گئی تو مخالفت کریں گے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ آج ہماری پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں 27 ویں ترمیم کے معاملے پر بات ہوئی، حکومت کی طرف سے 27ویں آئینی ترمیم کا کوئی مسودہ سامنے نہیں آیا۔

انہوں ںے کہا کہ 26 ویں ترمیم میں حکومت 35 شقوں سے دست بردار ہوئی تھی، ہم یہ واضح کردیں گے 27ویں ترمیم میں اگر 26 ویں ترمیم سے نکالی گئی شقوں کو شامل کیا گیا تو مخالفت کریں گے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کھینچ تان کر دو تہائی اکثریت حاصل کی جارہی ہے جس کا نقصان ہوگا، ایسے اقدامات جمہوریت اور پارلیمنٹ کی توہین ہیں، 18ویں ترمیم میں اگر صوبوں کے اختیارات کم کرنے کی کوشش کی گئی تو مخالفت کریں گے، صوبوں کے حق پر ڈاکا نہیں ڈالنے دیں گے، صوبوں کے حقوق میں اضافہ کیا جاتا ہے کمی نہیں، ہم صوبوں کو مزید بااختیار بنانے کے حامی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم میں کوئی دو فریق ایک دوسرے کے مخالف نہیں تھے تمام لوگ متفق تھے، جتنی ترامیم ماضی میں ہوئیں ان تمام ترامیم کا ایک ایک کرکے جائزہ لیا گیا پورے پارلیمنٹ نے اسے متفقہ طور پر پاس کیا ہر پارٹی نے اپنا حصہ شامل کیا، ہمیں کہا گیا کہ تین دن میں پاس کرلیں مگر ایسا نہیں ہوا ایک مہینہ لگ گیا، اب یہ ترمیم سامنے آئے گی اس کا حجم دیکھیں گے پھر اندازہ ہوگا کہ کب پاس ہوگی۔

فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ اسمبلی کو ہم نے کبھی بھی عوام کی نمائندہ نہیں کہا، مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق بھی کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے، مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے، سود کے خاتمے کے لیے کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں