حکومت نے 27ویں آئینی ترمیمی بل میں مزید تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اضافی ترامیم قومی اسمبلی میں پیش کی جائیں گی جبکہ حکومت اور اپوزیشن کی الگ الگ تجاویز بھی فہرست میں شامل ہیں۔
قومی اسمبلی سے ترامیم کی منظوری کے بعد بل دوبارہ سینیٹ کو بھیجا جائے گا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس ترمیم کے تحت بغاوت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 6 میں تبدیلی کی جائے گی، خاص طور پر شق 2 اے میں ترمیم متوقع ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ترمیمی مسودے میں سپریم کورٹ کے ساتھ وفاقی آئینی عدالت کا ذکر بھی شامل کیا جائے گا۔ کسی بھی بغاوتی اقدام کو، جو ذیلی شق 1 یا 2 میں درج ہو، وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ سمیت کوئی بھی عدالت توثیق نہیں دے سکے گی۔
ادھر سینیٹ کا اجلاس بھی ایک روز پہلے طلب کرلیا گیا ہے اور اب یہ اجلاس آج شام پانچ بجے ہوگا۔ حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حکومت اضافی ترامیم پارلیمنٹ میں پیش کرے گی، جب کہ اپوزیشن کی گیارہ ترامیم بھی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
ترمیمی بل کی منظوری کے معاملے پر تحریک انصاف کے منحرف سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے استعفے پر کارروائی روک دی گئی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے ان کے استعفے پر دستخط نہیں کیے، اسی وجہ سے آرٹیکل 63 اے کے تحت ریفرنس بھی نہیں بھجوایا جا سکا۔ سیف اللہ ابڑو نے کچھ روز قبل پارلیمان میں اپنا استعفیٰ جمع کرایا تھا۔
اسی دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ملاقات کی، جس میں نوید قمر، شیری رحمان، مرتضیٰ وہاب اور اٹارنی جنرل بھی شریک تھے۔ ملاقات کے بعد صحافیوں کے سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک فرد کو نوازنے سے متعلق جو باتیں ہو رہی ہیں، ان پر وہ ایوان میں اظہار خیال کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی پر ہمیشہ تنقید ہوتی رہی ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں۔
بعد ازاں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق دو سے تین اہم تجاویز پر مشاورت جاری ہے اور آج ہی ووٹنگ متوقع ہے۔ ان کے مطابق اگر قومی اسمبلی میں بل میں کوئی تبدیلی کی گئی تو وہ سینیٹ سے صرف اسی حد تک دوبارہ منظور کرایا جائے گا۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اگر کسی شق پر ابہام پایا جاتا ہے تو اس پر ایوان میں تفصیلی بحث کی جائے گی تاکہ تمام نکات واضح ہو سکیں۔











