اسلام آباد ۔سپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئینی ترمیم کی منظوری دی گئی۔ آئینی ترمیم کے حق میں 234 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ جے یو آئی کے 4 ارکان کی جانب سے مخالفت کی گئی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد آئینی ترمیم کا بل ایوان میں پیش کیا جسے دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا گیا۔
وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ 27ویں ترمیم کے بل کے خدوخال سینیٹ میں سامنے رکھ دیے تھے جو سینیٹ میں دوتہائی اکثریت سے پاس ہوگئی، اس کے بعد آئینی تقاضوں کے مطابق یہ بل اسمبلی میں بھی پیش کیا گیا جس پر اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے اپنی تقاریر میں رائے بھی دی۔
وزیر قانون نے خطاب میں کہاکہ چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ برقرار رہے گا، اور جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس پاکستان رہیں گے، عدلیہ سے متعلق ترمیم میں ابہام تھا جسے دور کردیا گیا۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم کی قومی اسمبلی سے منظوری پر کہا ہے کہ آج اس ایوان نے قومی اتحاد کو فروغ دیا۔ ملک کو آگے لے کر جانے کے لیے گالم گلوچ کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا۔
آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ میں ارکان اسمبلی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور مبارکباد دیتا ہوں۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں گالم گلوچ اور افراتفری کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا، اس وقت اللہ نے پاکستان کو عسکری اور سفارتی محاذ پر جو عزت دی، وہ اس سے قبل نہیں تھی۔
وزیراعظم نے کہاکہ معرکہ حق کے بعد جب ہم نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا تو پوری قوم نے اس کو سراہا، اب جب آئین میں اس کو شامل کیا جارہا ہے تو اس میں کیا بری بات ہے۔ قومیں اپنے ہیروز کو ایسے ہی عزت دیتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ معرکہ حق کے بعد اب ہم جس ملک میں جاتے ہیں وہاں ہمارا فقید المثال استقبال ہوتا ہے، لیکن اس سے قبل ہم نے ایسا کبھی سوچا نہیں تھا۔
وزیراعظم نے کہاکہ میں ہر اس چیز کے خلاف ہوں جو وفاق کو کمزور کرے۔ کالا باغ ڈیم ملک کے مفاد میں ہے لیکن اس سے وفاق کے کمزور ہونے کا خطرہ ہے، اس لیے میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔
شہباز شریف نے کہاکہ ہماری اور بلاول بھٹو کی سوچ میں کوئی فرق نہیں، اتفاق رائے کے بغیر 18ویں ترمیم میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ ہم کچھ اہم معاملات پر مل بیٹھ کر بات کریں گے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کسی کا باپ بھی چاہے تو 18ویں ترمیم ختم نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہاکہ ایک سال پہلے 26ویں ترمیم پاس ہوئی، اس وقت ہم نے کوشش کی تھی کہ سب کی مشترکہ کوششوں اور مشاورت سے آئین سازی ہو، 1973 کا آئین ہو یا 18ویں ترمیم ہو وہ ہم نے مشاورت کے ساتھ پاس کی، ہم نے 26ویں ترمیم بھی مشاورت سے کی، جس کے تحت آئینی بینچز بنے، اس کے لیے پوری سیاسی مشاورت ہوئی۔











