ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے ملک میں جاری مظاہروں اور حکومتی دباؤ کے پیشِ نظر پلان بی تیار کیا ہے جس کے تحت وہ انتہائی حالات میں ایران چھوڑ کر روس جاسکتے ہیں۔
برطانوی اخبار دی ٹائمز کی انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر ایران میں حکومت مخالف احتجاج اتنا بڑھ گیا کہ سیکیورٹی فورسز مظاہروں سے نمٹنے میں ناکام یا ان کے احکامات ماننے سے انکار کر دیں تو سپریم لیڈر ایران چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای اپنے قریبی حلقے، اہلِ خانہ اور ممکنہ طور پر اپنے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ایران سے روس منتقل ہونے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔
انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ آیت اللہ خامنہ ای بھی ماسکو کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھتے ہیں جیسا کہ سابق شامی صدر بشار الاسد نے کیا تھا۔
روسی حمایت اور سفارتی تعلقات اس انتخاب میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایران میں مہنگائی، کرنسی کی قیمت میں کمی، بے روزگاری، اور امریکی پابندیوں کے باعث عوام پر اضطراب بڑھ رہا ہے، جس نے بڑے پیمانے پر مظاہروں کو جنم دیا ہے۔











