جیسی کرنی ویسی بھرنی؛ نیتن یاہو اپنے منطقی انجام کے بہت نزدیک پہنچ گئے

اسرائیل کی وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے وزیراعظم نیتن یاہو کو کرپشن کیسز میں صدارتی معافی دینے کی سفارش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عبرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے اپنی قانونی رائے مکمل کرنے کے بعد اسے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو بھیج دی۔

یہ دستاویز وزیرِ انصاف کی ہدایت پر وزیرِ ثقافت و ورثہ کو دی گئی ہے جو صدارتی دفتر تک باضابطہ کارروائی مکمل کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ وزیراعظم کی معافی کی درخواست قانونی تقاضوں پر پوری نہیں اترتی اس لیے معافی دینا مشکل ہوگا۔

خیال ہے کہ نیتن یاہو کے خلاف مقدمہ ابھی زیرِ سماعت ہے اور انہیں ابھی تک کسی جرم میں سزا نہیں سنائی گئی۔

علاوہ اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی معافی کی درخواست میں نہ تو جرم کا اعتراف کیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار کیا ہے جو قبل از وقت معافی کے لیے اہم شرط سمجھی جاتی ہے۔

اسرائیل کی ہائی کورٹ پہلے ہی یہ قرار دے چکی ہے کہ کسی شخص کو سزا سے پہلے بھی معافی دی جا سکتی ہے لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ درخواست گزار اپنے جرم کا اعتراف کرے۔

ادھر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی صدر پر نیتن یاہو کو معافی دینے کے لیے دباؤ ڈالنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں