اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر ظفر مرزا نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ڈاکٹر رانا جواد، ڈاکٹر قائد سعید اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک میں ایچ آئی وی (HIV) کے بڑھتے ہوئے کیسز پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اسے ہیلتھ کیئر سسٹم کی مجموعی ناکامی قرار دیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ تونسہ شریف کے ہسپتال میں عملے کی نالائقی اور ایک ہی سرنج کے بار بار استعمال سے درجنوں افراد اس مہلک مرض کا شکار ہوئے، جو کہ انتہائی لرزہ خیز ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 70 فیصد خون کی منتقلی کے عمل میں مناسب اسکریننگ نہیں ہو رہی، جو ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس اور ملیریا جیسے امراض کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے۔
انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ گلوبل فنڈنگ کا آڈٹ کرایا جائے، پنجاب حکومت کے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ عام کی جائے اور صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔











