اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ہفتے میں دو بار، منگل اور جمعرات کو، جیل میں ملاقات بحال کرنے کا حکم دیدیا، تاہم ان ملاقاتوں کے بعد میڈیا سے گفتگو پر پابندی عائد کر دی۔
عدالت نے واضح کیا کہ جو بھی عمران خان سے ملاقات کرے گا، وہ میڈیا سے بات نہیں کرے گا، اور صرف وہی افراد ملاقات کے مجاز ہوں گے جن کے نام ان کے کوآرڈینیٹر سلمان اکرم راجہ فراہم کریں گے۔
قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ہدایت دی کہ اگر بچوں سے ملاقات درکار ہو تو اس کے لیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کیا جائے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا واقعی دو دن کی ملاقات کے بجائے ایک ہی دن میں دو ملاقاتیں کرائی جا رہی ہیں؟ اس پر وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ یہ تمام نکات اپیل میں پہلے ہی طے ہو چکے ہیں۔
عدالت نے سلمان اکرم راجہ کی بطور کوآرڈینیٹر حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہی طے کریں گے کہ ملاقات کے لیے کون اہل ہوگا، اور ہر شخص کے لیے ملاقات کی درخواست منظور نہیں کی جا سکتی۔
چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجہ سے دریافت کیا کہ کیا ملاقات کے بعد سیاسی بیانات نہیں دیے جائیں گے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ اکتوبر کے بعد سے ملاقات ہی ممکن نہیں ہوئی۔
عدالت نے فیصلہ سنایا کہ بانی پی ٹی آئی کے کوآرڈینیٹر کی جانب سے دیے گئے ناموں کے مطابق ہی ملاقات کی اجازت دی جائے گی، اور ہر کوئی ملاقات کے لیے درخواست نہیں دے سکتا۔