واشنگٹن: امریکا نے پاکستان، چین، متحدہ عرب امارات، ایران، فرانس، سینیگال، برطانیہ اور افریقہ سے تعلق رکھنے والی 70 کمپنیوں پر برآمدی پابندیاں نافذ کر دی ہیں، جن میں 19 پاکستانی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق، امریکا نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ کمپنیاں ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو اس کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے خلاف ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر تجارتی تنازعات اور اسٹریٹیجک مسابقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب پاکستانی کمپنیوں پر ایسی پابندیاں لگائی گئی ہوں۔ 2024 میں امریکا نے پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک بعض کمپنیوں کو بھی پابندیوں کی زد میں لایا تھا، جبکہ 2021 میں جوہری اور میزائل پروگرام میں معاونت کے الزامات پر 13 پاکستانی کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ 2018 میں 7 پاکستانی انجینئرنگ کمپنیوں کو امریکی نگرانی کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی پابندیاں نہ صرف پاکستان اور چین کی دفاعی و تجارتی صنعتوں پر اثر ڈال سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر اقتصادی تناؤ میں بھی اضافہ کر سکتی ہیں۔
پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق، ان پابندیوں سے پاک-امریکا تجارتی تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔