پاکستان میں بچے محفوظ ہیں ؟

یکے بعد دیگر ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ بچوں بڑوں سب کے دل لرز گئے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں بچے محفوظ ہیں؟ ہر صبح ایک ماں اپنے بچے کے بال سنوارتی ہے، اس کی یونیفارم درست کرتی ہے، بستہ کندھے پر رکھتی ہے اور ماتھے پر بوسہ دے کر دعا دیتی ہے کہ “اللہ تمہیں اپنی امان میں رکھے۔” اس لمحے اس کے ذہن میں یہ خیال بھی نہیں آتا کہ وہ اپنے بچے کو علم حاصل کرنے بھیج رہی ہے یا موت کی طرف روانہ کر رہی ہے۔ باپ روزی کمانے نکل جاتا ہے، اس یقین کے ساتھ کہ شام کو گھر میں بچوں کی ہنسی اس کی ساری تھکن اتار دے گی۔ مگر کچھ شامیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو صرف اندھیرا لے کر آتی ہیں، جن میں دروازے پر دستک تو ہوتی ہے مگر بچے نہیں، ان کی لاشیں آتی ہیں۔ لاہور کے ایک ٹیوشن سینٹر میں پیش آنے والا سانحہ بھی ایسی ہی ایک شام کی داستان ہے۔ نہ آسمان سے بجلی گری، نہ زلزلہ آیا، نہ کوئی سیلاب امڈا۔ صرف ایک خستہ حال چھت گری، اور اس کے ساتھ کئی خاندانوں کی دنیا بھی بکھر گئی۔ وہ بچے جو چند لمحے پہلے کتابوں میں اپنے مستقبل کے خواب تلاش کر رہے تھے، پلک جھپکتے ہی ملبے کے نیچے دب گئے۔ کسی کے ہاتھ میں پنسل تھی، کسی کی کاپی کھلی ہوئی تھی، کوئی سبق دہرا رہا تھا اور کوئی شاید دوست سے آہستہ آہستہ ہنس کر بات کر رہا تھا۔ پھر اچانک شور برپا ہوا، گرد اڑی، چیخیں بلند ہوئیں، اور زندگی خاموش ہو گئی۔ معصوم بچوں کا قصور کیا تھا؟ صرف اتنا کہ وہ پڑھنا چاہتے تھے۔ وہ ڈاکٹر، انجینئر، استاد، پولیس افسر یا فوجی بننے کے خواب دیکھتے تھے۔ ان کے والدین نے اپنی ضرورتیں کم کر کے ان کی تعلیم پر خرچ کیا تھا، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ تعلیم ہی ان کے بچوں کی قسمت بدل سکتی ہے۔ مگر افسوس، اس ملک میں قسمت بدلنے سے پہلے عمارتیں گر جاتی ہیں۔ بچے کی موت صرف ایک فرد کی موت نہیں ہوتی۔ ایک بچہ مرتا ہے تو اس کے ساتھ ایک پوری کائنات دفن ہو جاتی ہے۔ ایک ماں کی دعائیں بے آواز ہو جاتی ہیں، ایک باپ کی امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں، ایک بہن اپنے کھیل کے ساتھی سے محروم ہو جاتی ہے اور ایک بھائی زندگی بھر اس خالی کرسی کو دیکھتا رہتا ہے جہاں کبھی اس کا ہم عمر بیٹھا کرتا تھا۔ گھروں میں کھلونے رہ جاتے ہیں مگر ان سے کھیلنے والے ہاتھ نہیں رہتے۔ بستے باقی رہ جاتے ہیں مگر انہیں کندھے پر اٹھانے والے قدم ہمیشہ کے لیے رک جاتے ہیں۔ یہ سانحہ صرف ایک گری ہوئی چھت کی کہانی نہیں، یہ اس نظام کی ناکامی کا اعلان ہے جس میں انسانی جان کی قیمت تعمیراتی سامان سے بھی کم رہ گئی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ چھت کیوں گری، سوال یہ ہے کہ وہ چھت گرنے کے قابل کیوں تھی؟ کس نے اس عمارت کو بچوں کے لیے محفوظ قرار دیا؟ کس نے اس کی نگرانی کی؟ کس نے آنکھیں بند رکھیں؟ اور سب سے بڑھ کر، ہر سانحے کے بعد ذمہ دار آخر کیوں بچ نکلتے ہیں؟ یہ پہلا واقعہ نہیں۔ کبھی اسکول کی عمارت گر جاتی ہے، کبھی کشتی ڈوب جاتی ہے، کبھی بس کھائی میں جا گرتی ہے، کبھی اسپتال میں آگ لگ جاتی ہے، کبھی کھیل کے میدان میں کرنٹ لگ جاتا ہے۔ ہر بار چند دن شور مچتا ہے، ٹی وی اسکرینوں پر بحث ہوتی ہے، تحقیقات کا اعلان ہوتا ہے، کمیٹیاں بنتی ہیں، چند معطلیاں ہوتی ہیں، پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ صرف وہ گھر معمول پر نہیں آتے جن کے چراغ بجھ چکے ہوتے ہیں۔ ہم ہر سانحے کے ساتھ جینے کے عادی ہو چکے ہیں۔ خبریں بدلتی رہتی ہیں، موضوع بدلتے رہتے ہیں، مگر غفلت، کرپشن اور غیر ذمہ داری کا چہرہ کبھی نہیں بدلتا۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس معاشرے میں انسانی جان کی قیمت صرف تعزیتی بیانات تک محدود رہ گئی ہو۔ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے بچوں کو سب سے قیمتی سرمایہ سمجھتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں اگر کسی اسکول یا تعلیمی ادارے میں معمولی سی دراڑ بھی نظر آ جائے تو عمارت خالی کرا دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں پوری عمارتیں خستہ حال ہوتی ہیں، مگر بچوں کی زندگیاں پھر بھی انہی دیواروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جاتی ہیں۔ یہ صرف انتظامی غفلت نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہمیں صرف گری ہوئی چھتوں کی مرمت نہیں کرنی، پورا نظام تعمیر کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں کی باقاعدہ جانچ، تعمیراتی قوانین پر سختی سے عمل، ذمہ دار افراد کا بلاامتیاز احتساب اور بچوں کی جان کو ہر قیمت پر مقدم رکھنا ہوگا۔ اگر آج بھی ہم نے سبق نہ سیکھا تو کل کسی اور شہر، کسی اور اسکول، کسی اور ٹیوشن سینٹر سے پھر یہی خبر آئے گی، اور ہم ایک بار پھر چند آنسو بہا کر خاموش ہو جائیں گے۔ آج خود احتسابی کی ہے۔ ہر اس شخص کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا جس کے اختیار، قلم یا فیصلے نے اس نظام کو کمزور کیا۔ کیونکہ جب ایک معصوم بچہ ملبے تلے دب کر جان دیتا ہے تو صرف ایک خاندان نہیں روتا، پوری قوم اپنے مستقبل کا ایک باب کھو دیتی ہے۔ کاش وہ دن آئے جب کسی ماں کے دل میں یہ خوف نہ ہو کہ اس کا بچہ تعلیم حاصل کرنے گیا ہے یا موت کے منہ میں۔ کاش ہمارے تعلیمی ادارے علم کی روشنی بانٹنے والے محفوظ آشیانے بنیں، نہ کہ معصوم خوابوں کی قبریں۔ کیونکہ قوموں کا مستقبل ایوانوں میں نہیں، بچوں کی مسکراہٹوں میں پروان چڑھتا ہے۔ اگر ہم ان مسکراہٹوں کی حفاظت نہ کر سکے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں