پروفیسر ذوالقرنین کے کالم پر دلچسپ تبصرہ

تحریر: خالد خان
آپ کا کالم پڑھا۔ پہلے تو یہی گمان ہوا کہ زیشان ساحل پر مضمون ہے، لیکن آہستہ آہستہ معلوم ہوا کہ زیشان ساحل تو اس تحریر میں مہمانِ خصوصی ہیں، اصل تقریب تو آپ کی اپنی ذات کے اعزاز میں منعقد ہوئی ہے۔

آپ نے کمال مہارت سے ایک فلسفیانہ تجربہ کیا۔ موضوع زیشان تھا، مگر ہر چند سطروں کے بعد قاری کو یاد دلاتے رہے کہ آپ محمد خالد اختر کے ہم شہر بھی تھے، پڑوسی بھی تھے، یوسفی صاحب سے بھی ملے، اجمل کمال سے بھی ملے، جاوید چوہدری نے ہوٹل بھی دلوایا، امریکہ بھی گئے، اور آخر میں زیشان بھی کہیں نہ کہیں موجود تھے۔ یوں لگا جیسے سورج گرہن کے دوران چاند کو دیکھنے نکلے ہوں، مگر ہر چند منٹ بعد کوئی اپنی سیلفی درمیان میں لے آئے۔

فلسفے میں ایک دلچسپ تصور ہے کہ انسان کبھی حقیقت کو براہِ راست بیان نہیں کرتا، بلکہ اپنی ذات کے آئینے میں منعکس کر کے پیش کرتا ہے۔ اس لحاظ سے آپ کا کالم ایک نفسیاتی دستاویز ہے۔ آپ نے زیشان ساحل سے کم اور “میں” سے زیادہ ملاقات کرائی۔ اگر کسی ماہرِ لسانیات کو صرف ضمیروں کی گنتی کرنی ہو تو شاید “میں” پوری تحریر میں سب کرداروں پر بھاری پڑ جائے۔

ویسے اس میں آپ اکیلے نہیں۔ ہم سب کی یہی عادت ہے۔ جب کوئی کہتا ہے کہ “میں نے فلاں عظیم آدمی کو دیکھا تھا”، تو اس جملے میں اصل خوشی عظیم آدمی کو دیکھنے کی نہیں ہوتی، بلکہ اس بات کی ہوتی ہے کہ تاریخ کے کنارے پر ہماری بھی ایک تصویر آ گئی۔
آپ نے بڑے پیار سے بتایا کہ محمد خالد اختر آپ کے شہر کے تھے۔ اس سے مجھے ایک پرانا سوال یاد آ گیا۔ اگر ارسطو کا ہمسایہ ہونا علم کی ضمانت ہوتا تو یونان کے سارے محلے فلسفی ہوتے۔ اگر غالب کے پڑوس میں رہنے سے شاعری آتی تو گلی قاسم جان آج بھی دیوانوں سے بھری ہوتی۔ عظمت جغرافیے سے منتقل نہیں ہوتی، مکالمے سے منتقل ہوتی ہے۔

پھر آپ نے یوسفی صاحب کا جملہ نقل کیا۔ خوب نقل کیا۔ لیکن ذرا سوچیے، اگر ہر عظیم آدمی کے ہر فقرے کو سند مان لیا جائے تو فلسفہ ختم ہو جائے گا۔ فلسفہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں حوالہ ختم ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے۔

زیشان ساحل کی شاعری کی اصل طاقت یہ نہیں تھی کہ وہ اداس تھی، بلکہ یہ تھی کہ وہ خود کو درمیان سے ہٹا دیتی تھی۔ اس کی نظموں میں شاعر کم اور زندگی زیادہ بولتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دل میں اتر جاتی ہیں۔ اس کے برعکس جب مصنف ہر صفحے پر قاری کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہے، “دیکھو، میں بھی یہاں موجود ہوں”، تو تحریر کبھی کبھی ادب سے زیادہ تعارف نامہ بن جاتی ہے۔

آپ نے ایک جگہ لکھا کہ دوست دل میں رہتے ہیں، رابطوں میں نہیں۔ یہ جملہ خوبصورت ہے، مگر فلسفیانہ طور پر ذرا خطرناک بھی ہے۔ اگر رابطے غیر ضروری ہوتے تو زبان ایجاد نہ ہوتی، خط نہ لکھے جاتے، کتابیں نہ چھپتیں، اور یہ کالم بھی وجود میں نہ آتا۔ محبت دل میں رہتی ہے، مگر اظہار ہمیشہ باہر آتا ہے۔ خاموش محبت صرف صاحبِ محبت کو معلوم ہوتی ہے، دنیا کو نہیں۔

اور اب ایک چھوٹی سی شرارت۔

آپ نے لکھا کہ زیشان کی نظم پڑھتے ہوئے آنسو آ جاتے ہیں۔ اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ مرد بھی روتے ہیں، عورتیں بھی روتی ہیں، فلسفی بھی روتے ہیں۔ لیکن ادب میں آنسو دلیل نہیں ہوتے۔ اگر رونا ہی معیارِ ادب ہوتا تو پیاز دنیا کا سب سے بڑا شاعر قرار پاتا۔

آخر میں صرف ایک گزارش۔

اگلی بار اگر آپ زیشان ساحل پر لکھیں تو صرف زیشان پر لکھیے۔ محمد خالد اختر، یوسفی، جاوید چوہدری، امریکہ، بہاولپور، پرنسپل ہاؤس، سرکلر روڈ اور اپنی ملاقاتوں کو تھوڑی دیر کے لیے آرام کرنے دیجیے۔ ہمیں بھی ذرا اس آدمی سے ملنے دیجیے جس کے نام پر کالم شروع ہوا تھا۔

کیونکہ بعض اوقات سب سے بڑی خراجِ عقیدت یہ نہیں ہوتی کہ ہم بتائیں ہم کس کس سے ملے تھے؛ بلکہ یہ ہوتی ہے کہ ہم خود خاموش ہو جائیں تاکہ جس کے بارے میں لکھ رہے ہیں، وہ بول سکے۔

اور اگر یہ بات سمجھ میں آ جائے تو شاید زیشان ساحل کہیں مسکرا کر کہے:

“آخرکار اس بار کالم میرے بارے میں بھی تھا۔” 😃😄😄😄😄

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں