کوالالمپور: وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ ملائیشیا کے دوران دونوں ممالک نے تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
دونوں وزرائے اعظم نے مشترکہ پریس کانفرنس میں دوطرفہ روابط، علاقائی صورت حال اور غزہ پر اسرائیلی مظالم کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔
ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا کہ انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ عالمی و علاقائی امور پر بات چیت کی۔ دونوں ممالک فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنے اور غزہ میں جاری انسانی المیے کے خاتمے کے لیے یکساں موقف رکھتے ہیں۔
انور ابراہیم کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ اسلام آباد اور کوالالمپور کے تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رہے گا جب کہ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی بحالی ناگزیر ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پرتپاک استقبال پر ملائیشین قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا ان کے لیے دوسرا گھر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات تاریخی اور بہترین ہیں اور وہ وزیراعظم انور ابراہیم کی قائدانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
شہباز شریف نے ملائیشیا کو پاکستان سے 20 کروڑ ڈالر مالیت کے حلال گوشت کی برآمدات کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ وقت کے ساتھ تجارت کے دائرے کو مزید وسعت دی جائے گی۔
ان کے مطابق بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ ملائیشیا میں زیر تعلیم ہیں جب کہ دونوں ممالک مشترکہ منصوبوں کے ذریعے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے ملائیشین ہم منصب کی تصنیف ’’اسکرپٹ‘‘ کو فکری اور تہذیبی روابط کا ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ یہ کتاب اسلام آباد اور کوالالمپور کے درمیان ایک فکری پل ثابت ہوگی۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے انور ابراہیم کی خواہش پر علامہ اقبال کے اشعار بھی سنائے۔
اس سے قبل وزیراعظم آفس آمد پر انور ابراہیم نے پاکستانی وزیراعظم کا پرجوش استقبال کیا۔ اس موقع پر ملائیشین مسلح افواج نے گارڈ آف آنر پیش کیا اور دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔











