سائنس دانوں نے کالی کھانسی کے علاج کے لیے ایک نئی ویکسین تیار کی ہے جس کے لیے انجیکشن کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ اسے ناک کے ذریعے جسم میں داخل کیا جا سکے گا۔
ٹرینیٹی کالج لندن کے محققین کی ٹیم کے مطابق یہ ویکسین نہ صرف بیماری سے مؤثر تحفظ فراہم کرتی ہے بلکہ بیکٹیریا کے پھیلاؤ کو بھی نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ ویکسینز اگرچہ جان بچانے میں مدد دیتی ہیں، تاہم وہ گلے اور ناک میں بیکٹیریا کی افزائش روکنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوتیں، جس سے بیماری دوسروں تک منتقل ہونے کا امکان برقرار رہتا ہے۔
نئی ویکسین کی خاص بات یہ ہے کہ یہ انفیکشن کے مقام پر براہِ راست مدافعتی نظام کو فعال کرتی ہے اور زیادہ مضبوط تحفظ فراہم کرتی ہے۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے نیچر مائیکروبایولوجی میں شائع ہوئی ہے، جو دنیا بھر میں ویکسینیشن کے جدید اور غیر روایتی طریقوں پر توجہ بڑھانے کا سبب بن رہی ہے۔











