صدر مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کر لیے۔
صدر مملکت کے آفیشل ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کر لیے۔
واضح رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے گزشتہ روز استعفے دیے تھے، جسٹس منصور علی شاہ نے 13صفحات پر مشتمل استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوایا تھا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ سینیئر ترین جج کی حیثیت سے سپریم کورٹ سے استعفیٰ دیتا ہوں۔
https://x.com/alexbruesewitz/status/1989324279557611742?s=20
انہوں نے اپنے استعفیٰ میں مؤقف اپنایا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم آئین پاکستان پر سنگین حملہ ہے، 27ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔
جسٹس منصور علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا، 27 ویں آئینی ترمیم نے ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی۔
استعفے میں انہوں نے کہا تھا کہ انصاف عام آدمی سے دور، کمزور اور طاقت کے سامنے بے بس ہو گیا، اعلیٰ عدالت کو منقسم کر کے عدلیہ کی آزادی پامال کی گئی۔
انہوں نے مزید لکھا تھا کہ تاریخ گواہ ہے، آئینی نظم میں ایسی تبدیلیاں دیرپا نہیں ہوتیں، میرے پاس دو راستے تھے، ادارے کی بیخ کنی یا احتجاجاً استعفیٰ دوں، عہدے پر رہنا آئینی دراندازی پر خاموش رضا مندی کے مترادف ہوتا۔











