چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے قائد کی گرفتاری پر ادارے پر حملہ کیا اگر یہی قدم پی پی اٹھاتی تو نہ جانے ہمارا کیا حشر کیا جاتا پی ٹی آئی کے ساتھ تو کچھ ہوہی نہی رہا۔
لاڑکانہ چلڈرن اسپتال میں آئی سی یو کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ پاکستان میں سیاسی استحکام اور جمہوریت کی بقا کے لیے حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں دونوں کو کردار ادا کرنا ہوگا، اگر انتہاپسندی کی سیاست کی جائے گی تو اس کے جواب میں جو سختی ہوتی ہے اس پر شکایت نہیں ہونی چاہیے، انگریزی محاورہ ہے کہ اگر آپ باورچی خانے میں گرمی کی شدت برداشت نہیں کرسکتے تو باہر چلے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے لیڈر پر ایک چھوٹا سا نیب کیس بنتا ہے اور آپ اپنے قائد کی گرفتاری کے ردعمل پر ہمارے قومی ادارے پر حملہ کریں گے تو بعد میں آپ شکایت نہیں کریں کیوں کہ پھر تو قانون کے مطابق آپ کے خلاف ایکشن ہوگا۔
بلاول نے کہا کہ گزشتہ روز میں نے گڑھی خدابخش میں اپنے کارکنوں سے یہی سوال کیا اور آپ سے بھی یہی سوال کرتا ہوں کہ یہ تو پی ٹی آئی کی بات ہورہی تھی اگر اپنے قائد کی گرفتاری پر پی پی ادارے پر حملہ کرتی تو ہمارا کیا حشر کیا جاتا؟ تحریک انصاف کے ساتھ تو کچھ ہو ہی نہیں رہا۔











