محترم خالد خان کی تنقید کا جواب۔۔۔

ماشاءاللہ ۔۔۔۔۔ اس کہانی پے جو تنقید ہے وہ بلکل بے سروپا ہے۔ صاف پتا چل رہا کہ مبصر ملتان کی گرمی سے بوکھلایا ہوا ایسی باتیں کررہا ہے جو ملتانی گرمی کے نتیجے میں ہی ممکن ہیں۔
ہر لکھنے والا اپنی مرضی سے لکھتا ہے اور جیسا محسوس کرتا ہے ویسا ہی لکھتا ہے۔
پیارے مبصر ! یہ ایک خوبصورت اور دل کو چھو لینی والی کہانی ہے جس کا آپ نے ایم آر آئی یا سٹی سکین کیا ہے۔
مصنف نے ایسا کیوں لکھا یا ویسا کیوں نہیں لکھا بلکل بے معنی بات ہے ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ھم یہ کہیں کہ محمد رفیع ، کشور کمار یا طلعت حسین بے شک بڑے سنگر ہوں گے لیکن نہ تو انہوں بے شوپنہار کو ، نہ ہی ارسطو کو نہ ہی مکیاویلی کو پڑھا تھا اور ان کی گلو کاری سے اندرا گاندھی کی حکومت کو طوالت نصیب ہوئی اور نہ خالصتان کا قیام عمل میں ا سکا ۔ “ننھا مانجھی” سے تحریک پاکستان کو کوئی توانائی نہی ملی۔ الٹا قائد اعظم کی ایمبولینس کو فراہمی پٹرول میں رکاوٹ کا باعث بنی۔
فاضل مبصر ہر چیز میں فلسفہ گھسیٹنے پے تلا ہوا ہے جبکہ فلسفے سے زیادہ واہیات چیز ابھی انسان نے ایجاد ہی نہیں کی ۔ اگر نور جہاں اور لتا منگیشکر نے نطشے کے افکار سے استفادہ کیا ہوتا تو ہیرا منڈی کا جدلیاتی نقشہ کچھ اور ہوتا ۔
آپ کی یہ تحریر سے شیخ بوٹا شجر پوری کا یہ تقریباً سنہرا قول یاد آتا ھے کہ “دن نوں راج فرنگی دا تے رات نوں راج ملنگی دا”۔
آپ “ننھا مانجھی” کی مٹی پلید کرنے کی بجائے اس سے بہتر کہانی لکھ سکتے ہیں کوشش کر سکتے ہیں۔
چونکہ یہاں بھی سڑی ہوئی گرمی پڑ رہی تو میں بھی پہلی تنقید کا مختصراً جواب دیتا ہوں اور اسے مزاح پے معمول کیا جائے۔
میں نے زیشان ساحل کو یاد کیا ہے نہ کہ اس کا مرثیہ لکھا ہے ۔ ایک کالم بھر میں جو لکھا جا سکتا تھا بس وہی لکھا ہے ۔ نہ میں نے زیشان کا موازنہ انیس و دبیر لکھا ہے نہ ہی یہ پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا ہے جسے لکھنے والے کے سوا کوئی نہی پڑھتا۔ یہ فقیر ایک عام آدمی جو اس بات پے نازاں ہے کہ وہ ایک بڑے مصنف کا ہم شہر ہے اور اس کے لئے فخر کی فقط یہی ایک وجہ ہے۔
اب میں دال چاول پکانے جا رہا ہوں ۔ باقی مکالمہ بعد میں
ہو گا۔

” تاہم پیارے پڑہنے والوں کیلئے مبصر کی ایک پرانی تحریر معہ تنقید چھوڑے جا رہا ہوں جسے آپ ملاحظہ فرمائیں اور خود فیصلہ کریں کی فاضل مبصر جناب خالد خان کی جانب سے تنقید ضروری تھی یا مجبوری۔۔۔۔

ننھا مانجھی یا بڑا مصنف؟ (محمد خالد اختر کے افسانے پر ایک شائستہ فلسفیانہ و مزاحیہ مطالعہ)

اردو ادب کا بھی ایک عجیب دستور ہے؛ یہاں بعض اوقات مصنف کہانی لکھنے بیٹھتا ہے، مگر بے خبری میں اپنی سوانحِ عمری لکھ اٹھتا ہے۔ قاری سمجھتا ہے کہ وہ ایک ملاح، کسان یا فقیر کی داستان پڑھ رہا ہے، مگر چند صفحات بعد اسے معلوم ہوتا ہے کہ اصل موضوع تو مصنف کا اپنا ضمیر، اپنی حساسیت اور اپنی اخلاقی عظمت ہے۔ محمد خالد اختر کا مشہور افسانہ “ننھا مانجھی” بھی انہی تحریروں میں سے ہے جہاں کردار سے زیادہ مصنف زندہ رہتا ہے۔ افسانہ ختم ہونے کے بعد سوہنا ذہن میں کم رہ جاتا ہے، محمد خالد اختر زیادہ یاد رہتے ہیں۔
بظاہر یہ ایک غریب، خوددار اور فطرت سے ہم آہنگ ملاح کی کہانی ہے، لیکن اگر اسے ذرا بے رحمی سے پڑھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ننھا مانجھی تو محض ایک آئینہ ہے جس میں مصنف کو اپنا چہرہ دیکھنا مقصود ہے۔ پہلی ملاقات ہی میں سوہنے کا سراپا اس طرح بیان ہوا ہے جیسے وہ دریا کا ملاح نہیں بلکہ یونانی دیوتاؤں کا کوئی مقامی نمائندہ ہو۔ اس کے گھنگھریالے بال، سنہرا جسم، نڈر آنکھیں اور جنگل کے شہزادوں جیسی چال دیکھ کر لگتا ہے کہ ابھی ابھی زیوس نے اسے اولمپیا سے چھٹی دے کر پنجاب کے دریا میں بھیج دیا ہو۔
یہاں تک تو شاعرانہ مبالغہ سمجھ میں آتا ہے، لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب یہی بارہ تیرہ سال کا لڑکا چند صفحات بعد شاعر، موسیقار، فلسفی، ماہرِ حیاتیات اور قدرتی سائنس کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا بھی نکل آتا ہے۔ ادیب جب کسی کردار پر فریفتہ ہوتا ہے تو اسے انسان نہیں رہنے دیتا؛ پہلے اس کی تعریف کرتا ہے، پھر تقدیس، اور آخر میں اس کی پوجا شروع کر دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سوہنے کی سب سے بڑی خوبی مچھلی پکڑنا نہیں، بلکہ مصنف کی تشبیہوں کا بوجھ سہنا ہے۔ اگر ان تشبیہوں کا کوئی مادی وزن ہوتا، تو بیچاری وہ ننھی کشتی پہلے ہی صفحے پر غرق ہو چکی ہوتی۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ محمد خالد اختر عمر بھر خود اردو ادب میں رومانوی غباروں سے ہوا نکالنے اور خود ساختہ دانشوروں کا تمسخر اڑانے کے لیے مشہور رہے، مگر “ننھا مانجھی” لکھتے ہوئے وہ خود اسی دامِ ہمنشیں کا شکار ہو گئے جس کا وہ دوسروں کی تحریروں میں مذاق اڑایا کرتے تھے۔
سوہنے کی غربت بیان کرتے ہوئے مصنف کا قلم ایک عجیب رومانوی مسرت سے کھل اٹھتا ہے۔ اس کے پاس چارپائی نہیں (کیا فطرت سے قربت ہے!)، لحاف نہیں تو گڑ کھا کر چٹائی اوڑھ لیتا ہے (کتنی حکمت ہے!)، پھٹا ہوا جال ہے (کیا سادگی ہے!)۔ غریب آدمی جس چیز کو اپنی مجبوری اور محرومی کہتا ہے، مڈل کلاس کا ادیب اسی کو حسن بنا کر پیش کرتا ہے۔ یہ ادب کی پرانی بیماری ہے جہاں بھوک کو ریاضت، ننگے پاؤں چلنے کو آزادی اور اس سارے تماشے کو جمالیات کا نام دے دیا جاتا ہے۔ مصنف یہ نہیں سوچتے کہ اس بچے کی معاشی آزادی کیسے ممکن ہو یا اسے تعلیم ملنی چاہیے؛ وہ بس اس کی محرومی کو اپنی خوبصورت نثر کے لیے بطور خام مال استعمال کرتے ہیں۔
افسانے کا سماجی تضاد اس وقت کھل کر سامنے آتا ہے جب مصنف اپنے جابر چچا کی طرف سے سوہنے کو دو روپے دینے پر ڈانٹنے کا تو برا مناتے ہیں، مگر چند صفحات بعد خود ایک مخدوم صاحب کے ساتھ نہایت محبت سے حقہ نوش فرماتے ہوئے ان کی جاگیریں چھن جانے کا ماتم سنتے ہیں۔ جاگیرداری پر اعتراض بھی ہے اور جاگیردار کی صحبت بھی۔ چچا کی سنگ دلی تو بری لگتی ہے، مگر وہ سنگ دلی مصنف کو ایک ایسا منظر دے جاتی ہے جو ان کی اپنی انسان دوستی کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیتا ہے۔ اگر معاشرے میں ظالم کردار نہ ہوں، تو حساس ادیبوں کی دکان کیسے چلے؟
جب کہانی نفسیات کی طرف مڑتی ہے، تو مصنف اپنی ازدواجی زندگی کے جھگڑوں، شہری زندگی کی اکتاہٹ اور تہذیب سے بیزاری کا ذکر چھیڑتے ہیں۔ لیکن ان تمام مسائل کا حل وہ کسی گہرے نفسیاتی تجزیے کے بجائے اچانک دور دریا میں نمودار ہوتی سوہنے کی کشتی میں تلاش کرتے ہیں۔ اگر اس دور میں ماہرینِ نفسیات اس “سوہنا تھراپی” کا نام سن لیتے تو فرائیڈ بھی چونک اٹھتا۔ سوہنا دراصل وہ انسان ہے جو مصنف خود بننا چاہتے تھے مگر بن نہ سکے۔ وہ دفتر کی فائلوں، بجلی کے بلوں اور افسران کی خوشامد سے آزاد ہے۔ اسی لیے مصنف اس سے محبت نہیں کرتے، بلکہ اس پر رشک کرتے ہیں۔
افسانے کے آخر میں سوہنا بیمار ہو جاتا ہے، اور یہیں مصنف کے سطحی طبی اور ماحولاتی مشاہدے کی قلعی بھی کھلتی ہے۔ کہانی کے آغاز میں جس بچے کو دریا کی تند و تیز لہروں سے لڑنے والا، دھوپ میں تپا ہوا، لوہے کی طرح مضبوط اور “یونانی دیوتا” جیسا صحت مند دکھایا گیا تھا، اسے اچانک دق (ٹی بی) جیسا پھیپھڑوں کا موذی مرض لاحق ہو جاتا ہے، جو مادی طور پر ناممکن لگتا ہے۔ مصنف کا یہ انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ ان کا میڈیکل کا علم کس قدر روایتی اور سطحی تھا۔ وہ یہاں کسی ایسی بیماری کا انتخاب کر سکتے تھے جو ملاحوں کے پروفیشن، مرطوب موسم، ندی کے پانی اور ان کے مخصوص ماحول سے میل کھاتی ہوتی۔ مگر چونکہ اردو ادب میں مظلومیت اور تقدیس کو عروج پر پہنچانے کے لیے ‘دق’ سے بہتر کوئی برانڈ دستیاب نہیں تھا، اس لیے سوہنے کو بھی اسی روایتی ادبی بیماری کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔
المیہ صرف بیماری کا انتخاب نہیں، بلکہ اس کا نباہ بھی ہے۔ دق کا مریض بسترِ مرگ پر درد سے کراہتا ہے، نڈھال ہوتا ہے اور موت کے خوف سے کانپتا ہے، مگر مصنف سوہنے کی موت کو بھی ایک جمالیاتی تجربہ بنا دیتے ہیں۔ وہ مرتے ہوئے بھی ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے فلسفیانہ باتیں کرتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ وہ پسماندہ بچہ مرتے وقت بھی وہ ادبی لغت اور تراکیب بول رہا ہے جو صرف لاہور یا کراچی کے ادبی رسائل کے مدیروں کو آتی ہیں۔ مصنف نے سوہنے سے عام انسان بننے، ڈرنے یا شکوہ کرنے کا حق بھی چھین لیا، کیونکہ اگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی ٹوٹ جاتا تو مصنف کی بنائی ہوئی رومانوی عمارت زمین بوس ہو جاتی۔
سوہنا “چوہڑے کا بیٹا” ہے، جو اس افسانے کا سب سے طاقتور سماجی پہلو ہو سکتا تھا۔ مگر مصنف ذات پات کے نظام کی بدصورتی پر وار کرنے کے بجائے صرف سوہنے کی انفرادی پاکیزگی دکھانے پر اکتفا کرتے ہیں۔ فلسفہ پوچھتا ہے کہ ایسا نظام کیوں موجود ہے جہاں انسان کی قدر اس کی ذات سے طے ہو، مگر ادب اکثر ایک خوبصورت استثنا دکھا کر مطمئن ہو جاتا ہے۔
یہ افسانہ سوہنے کے لیے نہیں لکھا گیا تھا، کیونکہ غریب اور نچلی ذات کا وہ ملاح اردو رسائل کا قاری نہیں تھا۔ یہ دراصل آرام دہ کرسیوں پر بیٹھ کر آنسو بہانے والے متوسط طبقے کے ضمیر کے لیے لکھا گیا تھا، تاکہ وہ اسے پڑھیں اور یہ اطمینان حاصل کر سکیں کہ اب بھی دنیا میں انسانیت باقی ہے۔
پوری کہانی میں محمد خالد اختر بار بار اس ادبی آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ سے کہتے ہیں کہ “میں ابھی مکمل طور پر بے حس نہیں ہوا”۔ ننھا مانجھی پوری زندگی دریا میں مچھلیاں پکڑتا رہا، لیکن مصنف نے اس کی کشتی میں بیٹھ کر اپنی اخلاقی عظمت اور ادبی وجدان کا شکار کیا۔ اور شاید یہی ہر بڑے ادیب کا سب سے مہذب فریب ہوتا ہے؛ وہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ وہ اپنے کردار کی تصویر بنا رہا ہے، جبکہ وہ خاموشی سے اپنے ہی باطن کا کینوس سجا رہا ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں