امریکہ ، اسرائیل اور ایران کشیدگی، اصل لڑائی ہے کیا ؟

آفاق فاروقی
دنیا کی بڑی جنگیں اچانک نہیں بھڑکتیں؛ وہ آہستہ آہستہ بنتی ہیں، سرمایہ کے ارتکاز، طاقت کے توازن میں بگاڑ، اور عالمی نظام کے اندر پیدا ہونے والی دراڑوں کے ذریعے، بیسویں صدی کے آغاز پر لینن نے جس “مالیاتی سرمایہ” کی بات کی تھی، وہ دراصل ایک ایسا مرحلہ تھا جہاں بینک اور صنعت ایک ہو کر نہ صرف معیشت بلکہ سیاست اور جنگ کے فیصلے بھی اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ آج جب امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے تو یہ سوال پھر سر اٹھارہا ہے کیا ہم اسی عمل کی ایک نئی شکل دیکھ رہے ہیں؟
لینن نے اپنی معروف تشریح میں سرمایہ داری کے اس مرحلے کی پانچ بنیادی خصوصیات بیان کیں، پہلی، پیداوار اور سرمایہ کا ارتکاز جس سے اجارہ داریاں جنم لیتی ہیں، دوسری، بینکنگ اور صنعتی سرمایہ کا انضمام جس سے مالیاتی اشرافیہ وجود میں آتی ہے، تیسری، سرمائے کی برآمد جو اشیاء کی برآمد پر غالب آ جاتی ہے، چوتھی، عالمی منڈی کی بندر بانٹ بڑی اجارہ داریوں کے درمیان، اور پانچویں، دنیا کی جغرافیائی تقسیم بڑی طاقتوں کے درمیان، اگر ان نکات کو آج کے تناظر میں دیکھا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ خاکہ کتنا مانوس محسوس دکھتا ہے، صرف اس کی شکل بدل گئی ہے
پہلی عالمی جنگ سے قبل طاقت کا اظہار ریلوے لائنوں، اسٹیل کی پیداوار اور کالونیوں کے ذریعے ہوتا تھا۔ آج وہی طاقت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کے کنٹرول میں منتقل ہو چکی ہے، ایلون مسک سے بل گیٹس ، مارک زکر برگ ، بل گیٹس یا علی بابا سے ایموزون جیسے کردار اس نئے دور کے “مالیاتی و تکنیکی اشرافیہ” کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے پاس وہ طاقت ہے جو کبھی صرف ریاستوں کے پاس ہوا کرتی تھی: معلومات پر کنٹرول، عالمی رسائی، اور فیصلہ سازی پر اثراندازی۰
یہاں فلسفہ ایک بار پھر سیاست سے جڑ جاتا ہے کارل مارکس نے کہا تھا کہ سرمایہ اپنی فطرت میں پھیلاؤ چاہتا ہے، وہ رک نہیں سکتا، جبکہ Michel Foucault کے مطابق طاقت صرف نظر آنے والی نہیں ہوتی بلکہ وہ نظاموں، اداروں اور علم کے ذریعے بھی کام کرتی ہے، آج کی دنیا میں یہ دونوں تصورات ایک ساتھ زندہ نظر آتے ہی، سرمایہ پھیل رہا ہے، اور طاقت غیر مرئی نظاموں میں سرایت کر چکی ہے
لیکن اس تجزیے کا ایک اہم مخالف پہلو بھی ہے، جس کی نمائندگی لینن اور Karl Kautsky جیسے مفکرین نے کی، ٹراٹسکی نے “مسلسل انقلاب” کا نظریہ پیش کیا اور یہ سمجھا کہ سرمایہ داری کے تضادات بالآخر عالمی سطح پر ایک انقلابی تبدیلی لائیں گے، مگر اس کا اندازہ یہ تھا کہ یہ عمل زیادہ براہِ راست اور تیز ہوگا، تاریخ نے دکھایا کہ سرمایہ داری نے خود کو ڈھالنے، پھیلانے اور نئی شکلیں اختیار کرنے کی غیر معمولی صلاحیت دکھائی، اس لحاظ سے ٹراٹسکی کا سادہ خطی تصور کمزور پڑتا ہے، کیونکہ آج سرمایہ داری نہ صرف باقی ہے بلکہ پہلے سے زیادہ پیچیدہ اور مضبوط ہو چکی ہے
اسی طرح کاوٹسکی نے یہ امید ظاہر کی تھی کہ بڑی طاقتیں باہمی مفاہمت کے ذریعے ایک “الٹرا سامراجی” نظام بنا سکتی ہیں جس میں جنگ کی ضرورت کم ہو جائے گی، آج کی عالمی معیشت، جہاں ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں، اس خیال کی جھلک ضرور دیتی ہے، مگر مکمل طور پر نہیں، کیونکہ مقابلہ ختم نہیں ہوا، بلکہ اس نے نئی شکل اختیار کر لی ہے
موجودہ ایران،امریکہ، اسرائیل کشیدگی کو اگر اس نظریاتی فریم میں دیکھا جائے تو یہ صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ عالمی طاقت کے ڈھانچے کا عکس لگتی ہے، توانائی کے راستے، اسٹیریجک علاقے ، اور علاقائی اثر و رسوخ وہی پرانے عناصر ہیں، مگر اب ان کے ساتھ ڈیٹا، سائبر جنگ اور مالیاتی پابندیاں بھی شامل ہو چکی ہیں، جنگ اب صرف بندوقوں سے نہیں بلکہ کوڈ، الگورتھم اور کرنسی کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہے
یہاں ایک اور بنیادی سوال جنم لیتا ہے، اگر مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام غالب آ جاتے ہیں تو انسانی محنت کا کیا ہوگا؟ سرمایہ داری کی بنیاد ہی محنت اور پیداوار کے تعلق پر ہے، اگر مشینیں محنت کی جگہ لے لیں تو نہ صرف روزگار کا بحران پیدا ہوگا بلکہ وہ سماجی توازن بھی بگڑے گا جس پر معیشت کھڑی ہے، اس صورت میں طاقت مزید محدود ہاتھوں میں سمٹ سکتی ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی کے مالک ہی اصل حکمران بن جائیں گے
اسی طرح اگر جنگ کا مرکز ڈیٹا اور مالیاتی نظام بن جائے تو چھوٹے اور کمزور ممالک کے لیے بقا کا سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے، وہ نہ تو بڑے ڈیجیٹل نیٹ ورکس بنا سکتے ہیں اور نہ ہی عالمی مالیاتی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں، نتیجتاً وہ یا تو بڑی طاقتوں کے ساتھ جڑنے پر مجبور ہوتے ہیں یا پھر حاشیے پر چلے جاتے ہیں، یہ ایک نئی قسم کی “غیر مرئی نوآبادیات” ہے جہاں قبضہ زمین پر نہیں بلکہ نظام پر ہوتا ہے
مگر تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ طاقت ہمیشہ یکطرفہ نہیں رہتی، بڑی سلطنتیں اکثر اپنے ہی بوجھ تلے دب جاتی ہیں، اگر مالیاتی نظام حد سے زیادہ پیچیدہ اور غیر مستحکم ہو جائے، یا اگر اندرونی تضادات بڑھ جائیں، تو ممکن ہے کہ کمزور نظر آنے والے عناصر بھی طاقتور کو چیلنج کر دیں، یہ وہ امکان ہے جسے مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، کہ ایک کمزور یا “ خود مختار “ قوت کسی بڑی طاقت کو غیر روایتی میدان میں شکست دے دے، چاہے وہ مالیات ہو، ٹیکنالوجی ہو یا عوامی مزاحمت
آج کی دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں پرانے سامراجی اصول اور نئی ٹیکنالوجیکل حقیقتیں آپس میں گتھم گتھا ہیں، نہ یہ مکمل طور پر ماضی کی تکرار ہے اور نہ ہی ایک بالکل نئی کہانی، بلکہ یہ ایک تسلسل ہے ، جس میں کردار بدل گئے ہیں، اوزار بدل گئے ہیں، مگر بنیادی کشمکش وہی ہے، کنٹرول، وسائل، اور طاقت کی؟
آخرکار سوال یہ نہیں کہ کیا ایک اور عالمی جنگ ناگزیر ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا انسان اس بار اپنے ہی بنائے ہوئے نظام کو سمجھ کر اس کے انجام کو بدل سکتا ہے، کیونکہ اگر تاریخ ہمیں کچھ سکھاتی ہے تو وہ یہ کہ جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ نظریات، معیشتوں اور نظاموں کے اندر بھی لڑی جاتی ہیں، اور ان کا فیصلہ بھی وہیں ہوتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں