زیشان ساحل کی یاد میں

پیارے پڑھنے والے !
یہ حبس آلود گرمیوں کے دن تھے اور میں کسی کام کے سلسلے میں کراچی رکا ہوا تھا۔
میرے پاس انتظار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔
جیسا کہ تم جانتے ہی ہو کے انتظار کرنا ایک نہایت صبر آزما کام ہے ۔ تم نے عربی کا وہ محاورہ تو سن ہی رکھا ہو گا ” الانتظار اشد من الموت” انتظار موت سے شدید ہوتا ہے ۔
اس کیفیت سے نبرد آزما ہونے کے لئیے میں نے اپنے لئیے ایک مصروفیت ایجاد کی۔۔۔اور وہ یہ تھی کہ کیوں نہ کراچی کے اہل علم و ادب سے رابطہ کیا جائے ۔ پتا نہی کیسے بہرحال مجھے پتا چلا کہ محمد خالد اختر صاحب ان دنوں کراچی میں ہیں۔ یہ جان کر میرا دل کھل اٹھا ۔
پیارے پڑھنے والے ! میں تمہیں یہ بات زرا فخر سے بتانا چاہوں گا کہ محمد خالد اختر صاحب کا تعلق میرے شہر بہاولپور سے ہے۔ زرا اندازہ کرو کہ پاک وہند کا اتنا بڑا رائٹر اور میں ایک ہی شہر کے رہنے والے تھے ۔ یہ وہی محمد خالد اختر ہیں جو اردو ادب کے دو بڑے نامور لکھاریوں قدرت اللہ شہاب اور فیض احمد فیض کے محبوب رائٹر ہیں۔ مجھے یہ بات لکھتے ہوئے ویسی ہی مسرت اور انبساط محسوس ہو رہی جیسی کسی سیالکوٹی کو ڈاکٹر اقبال اور فیض احمد فیض کا ھم شہر ہونے کا فخر محسوس ہوتا ہے۔
میں تمہیں یہ بتا کر اور بھی حیران اور impress کرنا چاہوں گا کہ مجھے ایک لحاظ سے اردو ادب کے اتنے بڑے
Giant کا ایک طویل عرصے تک پڑوسی رہنے کا شرف بھی حاصل رہا ہے ۔ میرے والد گورنمنٹ ٹیکنیکل ہائی اسکول کے پرنسپل تھے اور ھم ایک بہت بڑی کوٹھہ میں جو پرنسپل ہاؤس کہلاتا تھا اور ہمارے گھر کے عقب میں بہاولپور کی عظیم الشان اور شاندار لائبریری تھی جو نیک دل نواب نے اپنی رعایا کو علم کی روشنی سے منور کرنے کے لئیے عطیہ کی تھی۔ یہ لائبریری بہاولپور کی خوبصورت اور باوقار ترین عمارتوں میں سے ہے ۔ پرنسپل ہاؤس سے جو راستہ باھر کو جاتا تھا وہ سرکلر روڈ سے محض چند منٹ کی دوری ہے تھا اور گیٹ سے نکلتے ہی آپ سرکلر روڈ پے پاؤں دھرتے تھے۔ سڑک کی دوسری جانب ایک پہلے رنگ کی ایک قدیم کوٹھہ تھی جس کا لکڑی کا براؤن رنگ کا گیٹ تھا اور دیوار پے لکڑی کی تختی ہے لکھا تھا ، مولوی اختر علی ہاؤس،
ڈپٹی کمشنر، بہاولپور ۔
اس کوٹھی سے کوئی ڈپٹی کمشنرانہ شان و شوکت نہی جھلکتی تھی اور یہ محض ایک سادہ اور برد باد
قسم کا تاثر دیتی تھی۔ ہمیں بلکل انداذہ نہی تھا کہ ہمارے عہد کا اتنا بڑا مصنف جس کا ادب کی دنیا میں اتنا بڑا اور معتبر نام ہے یہاں رہائش پذیر ہے ۔
مجھے محمد خالد اختر کی ادیبانہ عظمت کا ادراک بہت بعد میں ہوا۔
میں نے فون کر کے ان سے ملاقات کا وقت طے کیا اور شام آٹھ بجے کا وقت طے پایا۔ اس دوران میں نے اپنے ایک اور محبوب ادیب مشتاق احمد یوسفی صاحب سے ملنا تھا ۔ اسی ملاقات میں جب میں یوسفی صاحب سے رخصت ہو رہا تھا تو انہوں نے محمد خالد اختر صاحب کے بارے میں یہ فقرہ کہا تھا کہ ” آج سے پچاس برس کے بعد اردو ادب میں کوئی نام باقی رہ جائے گا تو وہ محمد خالد اختر کا نام ھو گا۔ ”
یہ ایک بڑے لکھنے والے کا دوسرا بڑے لکھنے والے کو ایک سچا اور مخلصانہ خراج تحسین تھا ۔
یوسفی صاحب سے رخصت ہو کر میں محمد خالد اختر صاحب کے ہاں پہنچا ۔ تھوڑی سی ادھر ادھر کی باتیں ہی ہوئی تھیں کہ ایک صاحب اپنی اہلیہ کے ہمراہ تشریف لائے۔ محمد خالد اختر صاحب نے ان کا تعارف کروایا کہ یہ اجمل کمال صاحب اور ان کی بیگم زینت حسام ہیں ۔ زنیت حسام کاتعلق ھندوستان سے تھا اور انہوں نے اجمل کمال سے شادی کرنے کے بعد کراچی قیام کر لیاتھا۔
اجمل کمال صاحب کے بارے میں پتہ چلا کے وہ ایک مجلہ آج کے نام سے شائع کرتے ہیں اور اس کا شمار پاکستان کے معیاری رسائل میں ہوتا ھے۔ اجمل کمال نے مجھے اگلے دن ایک ہوٹل میں ملنے کے لئیے کہا۔ اگلے دن ہماری ملاقات ہوئی تو دو صاحبان اور بھی تھے ان میں سے ایک نام تو مجھے یاد نہی، البتہ دوسرے صاحب کان زیشان ساحل تھا۔
زیشان ساحل ایک چوٹے قد کا آدمی تھا اور کسی معزوری کی وجہ سے تھوڑا لنگڑا کے چلتا اور اس کے چہرے پے بچوں جیسی معصومیت تھی ۔ ھم نے کافی پی اور اجمل کمال نے مجھے آج کے دو تین شمارے پڑھنے کے لئیے دئیے۔۔
میں صدر میں ایک ہوٹل میں رہ رہا تھا اور جاوید چوہدری نے میرے ٹھہرنے کا بندوبست کیا تھا۔ زیشان نے مجھے اپنا فون نمبر دیا تھا۔ رات میں آج کے شماروں کی پھرولا پھرولی کرتا رہا۔یہ ایک عمدہ میگزین تھا جس میں مختلف سیکشن تھے اردو ادب پے مضامین اور کہانیاں تھیں ۔ نظموں اور غزلوں کا حصے میں مجھے زیشان کی نظمیں پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ یہ جدید طرز کی شاعری تھی اور بڑے شہری لب و لہجے میں تھی۔ سادہ اور معصوم انداز میں کراچی میں زندگی کا احوال تھا اور زیشان کو جیسا محسوس ہوا اسنے اپنے انداز میں بیان کر دیا۔ انہی میں مجھے ایک نظم ۔۔۔۔کتنے دن ہو گئے آسماں کی طرف کھلنے والے دریچے سے کمرے میں تاروں کو آئے ہوئے۔
یہ ایک سادہ ، معصوم سی نظم تھی جو میرے دل میں اتر گئی ۔ خاص طور پر اس کی آخری لائن
خواب تکئیے کے نیچے چھپائے ہوئے کتنے دن ہو گئے۔ اس نظم کی سادگی اور اداسی نے میرے دل کو چھو لیا اور میں بہت بری طرح سے اس کی محبت میں مبتلا ہو گیا ۔بہت بعد جب مجھے اس کی اور نظموں کو پڑھنے اور اس کو جاننے کا موقع ملا تو میں پوری طرح اس کی نظموں کے سحر میں مبتلا ھوتا چلا گیا۔
پیارے پڑہنے والے ! میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کے ایک عجیب واردات ہو گئی تھی کہ میں جب بھی یہ نظم کسی محفل میں یا کسی کو سنانے لگتا تھا تو پہلی لائین پڑھتے ہی میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر جاتی تھیں اور دل میں دھواں سا اٹھنے لگتا تھا۔ اور مجھے لگتا تھا کہ یہ نظم میرے گلے میں اٹک گئی ہے اور مجھے بے حد شرمندگی محسوس ہوتی تھی کہ لوگ کیا کہیں گے کہ میں رو رہا ہوں اور مرد روتے ہوئے اچھے نہی لگتے۔ رونے کو صرف عورتوں سے منسوب کر دیا گیا ھے اور مردوں کے رونے کو شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا ھے۔
لیکن آج مجھے یہ بتانے میں کوئی شرمندگی نہیں کے زیشان کی نظمیں میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر دیتی ہیں اور آج بھی انہیں پڑھتے ہوئے میرا دل دھوئیں سے بھر جاتا ہے ۔لیکن ایک تبدیلی مجھ میں ا گئی ھے ۔ اب میں اس کی نظمیں پڑھتے ہوئے آنسوؤں کے بہہ نکلنے پے شرمندہ نہی ہوتا اور میں انہیں چھپانے کی کوشش بھی نہی کرتا۔۔
میری زیشان سے صرف دو یا تین ملاقاتیں ہوئیں پھر میں امریکہ چلا گیا اور وقت گزرتا رہا اور ہمارے درمیان کوئی رابطہ نہی رہا۔ رابطے رکھنے میں میں ہمیشہ بہت پھسڈی رہا ہوں ۔ کیونکہ میرے خیال میں دوستوں کو رکھنے لئیے صرف ایک ہی جگہ ہوتی ہے اور وہ ہے تمہارا دل۔
میں اس وقت امریکہ میں تھا جب مجھے پتہ چلا کہ زیشان ساحل اب اس دنیا میں نہی رہا ۔ میں بہت سالوں بعد واپس لوٹا ۔ ایک دفعہ
اجمل کمال نے مجھے آج کے کچھ شمارے ، وبا کے دنوں میں محبت اور زیشان کی شاعری کو اجمل ہی نے کلیات کی شکل میں شائع کی تھیں مجھے بھیجیں۔
میں نے پھر سے زیشان ساحل کو پڑھا اور مجھے یوں لگا جیسے وہ اور میں بہت پرانے دوست ہیں ۔ زیشان ساحل کو گزرے بہت وقت بیت چکا ۔میرا دل چاہتا تھا کہ میں اس کے بارے میں کچھ لکھوں لیکن ہر دفع یہ بات ٹل جاتی لیکن یہ بات ہمیشہ میرے دل میں رہی اور یہ خواہش پلتی رہی اور توانا ہوتی رہی ۔ میں نے سوچا کہ میں جب زیشان کے بارے میں لکھوں گا تو جیسے قدرت اللہ شہاب نے اپنی کہانی میں لکھا تھا کہ ” جب مجھے اس سے محبت ہوئی تو اسے مرے ہوئے تیسرا دن تھا” تو میں اس فقرے سے آغاز کروں گا کہ” جب میری زیشان ساحل سے دوستی ہوئی تو اسے مرے ہوئے بارہ برس بیت چکے تھے “

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں