پیارے پڑھنے والے !
منیر نیازی ہمارے عہد کا اک با کمال شاعر تھا جو مختصر ترین لفظوں میں بے پناہ ابلاغ کرنے کی دولت سے مالا مال تھا ۔ وہ اپنی چھوٹی چھوٹی نظموں میں بڑی بڑی باتیں کہنے کا ہنر جانتا تھا۔ ایک فقرے پے مشتمل نظم جس کی پرتیں کھولتے جاؤ تو ان میں کئی جہان معنی ملتے ہیں۔
اس کے فن کی خوبی محض اختصار نہی تھا بلکہ اس کی فنی جادو گری اس کے لفظوں کی صوتی خوبصورتی کا بھی شاہکار تھا۔ ایک سچا اور خالص شاعر جس کے کلام میں حسن و تاثیر کی شاندار اور دل آویز آمیزش تھی ۔
بقول فیض صاحب کے منیر کی شاعری پے مدح و توصیف کے تمام لفظ نچھاور کئیے جا چکے ہیں۔ اس کے کلام کو کسی تحسین و تصدیق کی ضرورت نہی ۔ لوگ اس سے محبت کرتے تھے ، کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اس کی خوبصورت یاد کا دیہ ہمارے دلوں میں سدا روشن رہے گا۔
آج نہ جانے کیوں مجھے اس کی نظم
( شہر کو تو دیکھنے (کو اک تماشہ چاہئیے
آئیے پہلے تو اس سحر انگیز نظم کو آپ کے ساتھ شیئر کرنے کا لطف اٹھاتے ہیں۔
ہے یہ ان کی زندگی کے روگ کا کوئی علاج ،
ابتداء ہی سے ہے شاید شہر والوں کا مزاج،
اپنے اعلیٰ آدمی کو قتل کرنے کا رواج ،
مارنے کے بعد اس کو دیر تک روتے ہیں وہ ،
اور اپنے کردہ جرم سے ایسے رہا ہوتے ہیں وہ۔
منیر نے پانچ لائنوں میں سقراط سے لے کر آج تک کی انسانی تاریخ کی ستم ظریفی، سفاکی، بہیمیت ، بے مہری اور خود غرضی کا خلاصحہ بیان کر دیا ہے۔
طارق عزیز نے بھی اسی بات کو کو کچھ اس طرح سے بیان کیا ہے
روز ازل توں اس دنیا وچ دو قبیلے آئے نیں،
اک جنہاں نے زہر نیں پیتے ، تے اک جنہاں نیں پیائے نیں۔
ایک طرف ظالم ہیں جن کی سرشت میں ظلم ، بے مہری اور شقاوت ہے ۔ وہ اپنے ہی جیسے انسانوں پے ظلم ڈھاتے ہیں۔ ان کے حقوق سے محروم کرتے ہیں ۔ انہیں خود سے کمتر جانتے ہیں ۔ وہ اپنے مفادات اور آسائشوں کے لئیے ان کے منہ کا نوالہ تک چھین لینا چاہتے ہیں۔ وہ غریبوں سے انکی جھونپڑیاں تک چھین لینا چاہتے ہیں۔
یہ تماشہ روز ازل سے جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔ تاریخ کے
مختلف زمانوں میں یہ مختلف بھیس بہروپ بدل کر اپنے ہی جیسے انسانوں کا استحصال کرتے آئے ہیں ۔ کبھی یہ فرعون، نمرود کا بھیس بنا لیتے ہیں۔کبھی یہ بادشاہت کا گھونگھٹ اوڑھ لیتے ہیں۔ کبھی یہ جمہوری تماشہ رچاتے ہیں۔ بھولی بھالی عوام یہ سمجھتی ہے کہ ان کا ووٹ معنی رکھتا ھے۔ وہ بھی ان کو یہی یقیں دلاتے ہیں کہ ہاں، ہاں تمہارا ووٹ ہی سب کچھ ہے اور اندر ہی اندر ان کی سادہ دلی اور سادہ لوحی پر قہقے لگاتے ہیں۔ پہلے پہل بادشاہتیں ہوا کرتی تھیں ۔ لوگ ٹیکسز دے دے کر تنگ آ جاتے تھے اور پھر جب ظلم حد سے بڑھ جاتا تھا تو انقلاب برپا ہو جاتا تھا۔ دریائے سین کے کنارے گلوٹینز لگا دی جاتی تھیں ۔ دھڑ دریائے سین کے سپرد ہو جاتا اور سروں سے مینار بنانے کا کام لیا جاتا تھا۔ پھر سلطانی جمہور کا زمانہ ا گیا تو ان بد زات بادشاہوں کی بچی کھچی نسل نے کارپوریشنز ایجاد کر لیں ۔ پرنس، ڈیوک اور نائٹس کی جگہ CEO, CFO نے لے لی۔ یہی کارپوریشنز اب پورا پورا ملک ہی چرا لیتی ہیں ۔ انتخابات میں ان کا بندہ راتوں رات ملک کا مقبول لیڈر بن جاتا ہے۔ پھر اسے حکومت مل جاتی اور ان کا پلانٹڈ گماشتہ ان کے لئیے وہ سارے کام کرتا ہے جس کے لئیے اسے صدر یا وزیر اعظم بنوایا گیا ہوتا ھے۔ امریکہ کی بد قسمتی دیکھیے کہ ان کی قیادت نیویارک کا ایک ڈویلپر کر رہا ہے جس نے کبھی کتاب کو ہاتھ نہی لگایا۔ نہ اسے بات کرنے کی تمیز ہے اور نہ ہی صدارت جیسے اعلیٰ منصب کی اہلیت ۔ انڈیا کو دیکھ لیجئیے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ دار جسکے حصے میں مودی جیسا مورکھ آیا ہے۔ جو کارپوریشنز کی نمائندگی کر رہا ہے ۔ ھندوں کو مزہب کی بتی کے پیچھے لگا دیا ھے۔
ایک طرف اسرائیل ہے جو دنیا کا سب سے بڑا پاگل خانہ ہے ۔
انکے دماغوں میں بھوسہ بھرا ہوا ہے ۔ یہ خود کو خدا کے منتخب کردہ سمجھتے ہیں اور باقی دنیا کو Goyim یعنی sub.human.
اگر کوئی سچ مچ کا
لیڈر۔۔۔۔اول تو ہوتا ہی نہی اور اگر کہیں پیدا ہو جائے تو یا تو وہ کسی حادثے میں مارا جاتا ہے یا اسے جیل یاترا پے بھیج دیا جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ لوگ اسے بھول جاتے ہیں ۔ جوش و خروش دھیرے دھیرے دم توڑ جاتا ہے ۔ پھانسی لگنے کے چالیس برس بعد اسے بری کر دیا جاتا ہے۔ لوگ اس کی برسیاں مناتے ہیں ۔ اس کی یاد میں مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں ۔۔۔کیونکہ شہر کو تو دیکھنے کو اک تماشہ چاہئے۔











