تحریر: صدف ملک
انٹرنیشنل آٹزم ڈے — ایک خاموش دنیا کی صدا
دنیا بھر میں ہر سال 2 اپریل کو انٹرنیشنل آٹزم ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں ان خاموش آنکھوں کی زبان سمجھنے کی دعوت دیتا ہے جو بولتی کم ہیں مگر محسوس بہت گہرا کرتی ہیں۔ اس سال ورلڈ آٹزم ڈے 2026 کی تھیم “نیورو ڈائیورسٹی کو فروغ دینا اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا” ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہر ذہن اپنی ایک الگ دنیا رکھتا ہے، اور اصل خوبصورتی اسی میں ہے کہ ہم اس تنوع کو دل سے قبول کریں۔
آٹزم دراصل ایک ایسی کیفیت ہے جو بچے کے سوچنے، سمجھنے اور دوسروں سے جڑنے کے انداز کو مختلف بنا دیتی ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں جسے دوا سے ختم کیا جا سکے، بلکہ یہ ایک الگ طرزِ احساس ہے۔ ایسے بچے اکثر اپنی ہی دنیا میں مگن دکھائی دیتے ہیں، کبھی خاموشی اختیار کر لیتے ہیں اور کبھی ایک ہی بات یا حرکت کو بار بار دہراتے ہیں۔ ان کا یہ رویہ ضد نہیں بلکہ ان کے اندر کی دنیا کی جھلک ہوتا ہے۔
اس کی وجوہات آج بھی مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکیں، لیکن یہ بات ضرور سامنے آئی ہے کہ اس میں پیدائشی اور دماغی نشوونما کے عوامل شامل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات بچے کی نشوونما کے دوران معمولی فرق بھی اس کیفیت کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ یہ کسی کی پرورش کی غلطی یا کوتاہی نہیں ہوتی، اس لیے والدین کو خود کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے حقیقت کو قبول کرنا چاہیے۔
آٹزم ایک ہی شکل میں ظاہر نہیں ہوتا۔ کچھ بچے معمولی فرق کے ساتھ زندگی گزار لیتے ہیں، جبکہ کچھ کو زیادہ توجہ اور مسلسل مدد درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے اسے ایک دائرہ کہا جاتا ہے، جہاں ہر بچہ اپنی الگ پہچان اور ضرورت کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔
والدین کے لیے سب سے اہم مرحلہ اپنے بچے کی ابتدائی نشانیوں کو پہچاننا ہے۔ اگر بچہ نام لینے پر ردعمل نہ دے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرے، بولنے میں غیر معمولی تاخیر ہو یا دوسروں کے ساتھ کھیلنے میں دلچسپی نہ لے تو یہ لمحہ غور کا ہوتا ہے۔ کچھ بچے غیر معمولی طور پر کسی ایک چیز میں الجھے رہتے ہیں یا معمولی آواز اور روشنی سے بھی بے چین ہو جاتے ہیں۔ ایسے اشاروں کو نظر انداز کرنے کے بجائے کسی ماہر سے مشورہ کرنا بہتر ہوتا ہے، کیونکہ جلدی رہنمائی بچے کے مستقبل کو آسان بنا سکتی ہے۔
اکثر والدین یہ سوچ کر انتظار کرتے رہتے ہیں کہ شاید بچہ وقت کے ساتھ خود ٹھیک ہو جائے گا، مگر یہی تاخیر بعض اوقات مشکل پیدا کر دیتی ہے۔ بروقت قدم اٹھانا ہی دانشمندی ہے، کیونکہ ابتدائی عمر میں دی گئی توجہ اور تربیت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ ایک چھوٹا سا قدم بھی بچے کی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔
معاشرہ بھی اس ذمہ داری سے آزاد نہیں۔ ہمیں ایسے بچوں کو ترس یا اجنبیت کی نظر سے دیکھنے کے بجائے انہیں قبول کرنا ہوگا۔ اسکولوں، کھیل کے میدانوں اور عام زندگی کے ہر شعبے میں ان کے لیے جگہ بنانا ہوگی۔ اگر ہم انہیں ساتھ لے کر چلیں گے تو وہ بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق معاشرے کا حصہ بن سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ بچے خاموش ضرور ہوتے ہیں مگر بے احساس نہیں۔ ان کی دنیا رنگوں، احساسات اور اپنے ہی انداز کی خوبصورتی سے بھری ہوتی ہے۔ ہمیں صرف اپنی سوچ کے دروازے کھولنے ہیں اور ان کی اس دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہے۔
آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم فرق کو فاصلے میں نہیں بدلنے دیں گے بلکہ اسے قبولیت میں ڈھالیں گے۔ کیونکہ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جو ہر طرح کے انسان کو اپنے دامن میں جگہ دیتا ہے، چاہے اس کا اندازِ زندگی کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو۔











