اسلام آباد:وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت کو دھرنے سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ اصل توجہ دہشت گردی کے خاتمے پر ہے۔ پیپلز پارٹی نے دھرنا موخر کرنے کی شرط رکھی تھی جبکہ حکومت نے کبھی دھرنا ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ایک ماہ تک خیبر پختونخوا حکومت کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقاتوں میں دہشت گردی کے معاملات پر بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے بعض اضلاع میں حالات انتہائی خراب ہیں اور گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 518 پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق پولیس کو مضبوط بنانے کے لیے مالی معاونت کی پیشکش بھی کی گئی تھی تاہم معاملات آگے نہ بڑھنے پر وفاق کو گورنر راج کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گزشتہ دو سے ڈھائی سال میں دہشت گردی کے واقعات میں 196 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق 11 رکنی ایڈوائزری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ 12 اضلاع کے لیے سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاک فوج بھی تعینات کی گئی ہے۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا حکومت پر دہشت گردوں کو سہولت فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے۔











