اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) ازبکستان کی قومی فضائی کمپنی ازبکستان ایئر ویز نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان فضائی رابطوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے تاشقند، اسلام آباد روٹ پر اضافی باقاعدہ پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئی پروازوں کا آغاز رواں سال 26 اکتوبر سے ہوگا۔
کمپنی کے مطابق اس وقت تاشقند، اسلام آباد، تاشقند روٹ پر ہفتے میں دو پروازیں منگل اور ہفتہ کے روز چلائی جا رہی ہیں، تاہم نئے شیڈول کے تحت 26 اکتوبر سے پروازیں پیر، بدھ اور جمعہ کے روز آپریٹ کی جائیں گی۔
اضافی پروازوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مسافروں کی آمدورفت کی گنجائش بڑھانے کے ساتھ سیاحوں، کاروباری افراد اور ٹرانزٹ مسافروں کو مزید سہولت فراہم کرنا ہے۔ نئے شیڈول سے مسافروں کو سفر کی منصوبہ بندی میں زیادہ لچک ملے گی، جبکہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان کاروباری، سیاحتی اور ثقافتی روابط کو فروغ حاصل ہوگا۔
نئی پروازیں پاکستان سے ازبکستان جانے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافے، مذہبی و زیارتی سیاحت کے فروغ اور ازبکستان کے تاریخی و ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔ بہتر فضائی رابطوں سے سیاحوں کے لیے سمرقند، بخارا اور خیوا جیسے تاریخی شہروں کا سفر مزید آسان ہوگا، جو عظیم شاہراہِ ریشم کے اہم مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ پروازوں کی تعداد میں اضافے سے تاشقند کا علاقائی فضائی مرکز کے طور پر کردار مزید مستحکم ہوگا اور وسطی ایشیا کے دیگر ممالک کے لیے سیاحتی دوروں کے مواقع بھی بڑھیں گے۔
جبکہ 2025ء کے دوران پاکستان سے 20 ہزار سے زائد سیاحوں نے ازبکستان کا دورہ کیا، اور اب رواں سال کے پہلے نو ماہ میں ہی پاکستانی سیاحوں کی تعداد تقریباً 20 ہزار تک پہنچ گئی۔ یہ اعداد و شمار دونوں ممالک کے درمیان سیاحتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے نمایاں امکانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
فی الحال پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ہفتہ وار آٹھ باقاعدہ پروازیں چلائی جا رہی ہیں، جن میں تاشقند، لاہور روٹ پر چار، تاشقند اور اسلام آباد کے درمیان دو، جبکہ تاشقند اور کراچی کے درمیان بھی پروازیں شامل ہیں۔
اسلام آباد روٹ پر اضافی پرواز شروع ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہفتہ وار باقاعدہ پروازوں کی مجموعی تعداد آٹھ سے بڑھ کر نو ہو جائے گی۔ اس اقدام سے فضائی رابطوں میں بہتری کے ساتھ دوطرفہ سیاحت، تجارت، اقتصادی سرگرمیوں، ثقافتی روابط اور عوامی سطح پر تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔











