معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے صدور نے معاہدے کے حتمی متن پر دستخط کیے جس کے بعد خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بحری آمدورفت کو معمول پر لانے کے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ابتدائی منصوبے کے تحت اس معاہدے پر دستخط جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے تھے تاہم فریقین نے حالات کی نزاکت اور آبنائے ہرمز کی جلد بحالی کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے طے شدہ وقت سے پہلے ہی تمام رسمی کارروائی مکمل کر لی۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی کہ مفاہمتی یادداشت کا حتمی متن منظور ہو چکا ہے اور دونوں صدور اس پر الیکٹرانک دستخط کر چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق جنیوا میں سفارتی رابطے اور مذاکراتی سرگرمیاں بدستور جاری رہیں گی، جبکہ سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا۔











