اس وقت پاکستان کی سیاسی فضا میں اگر کوئی ایک بات سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے تو وہ عمران خان کی ممکنہ واپسی ہے۔ بازاروں میں کھڑے لوگ ہوں یا چوراہوں پر سیاسی تبصرے کرنے والے حلقے، سوشل میڈیا کے تجزیہ کار ہوں یا بیرونِ ملک مقیم پاکستانی، تقریباً ہر جگہ یہی سوال سنائی دیتا ہے کہ کیا شہباز شریف کی حکومت اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے؟ کیا اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان پس پردہ رابطے ہو رہے ہیں؟ اور کیا جلد ہی ملک میں ایک بار پھر سیاسی منظرنامہ تبدیل ہونے والا ہے؟
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان نے ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی ہے۔ تحریک انصاف کے کارکن اور حامی اس بیان کو اپنے لیے ایک بڑی سیاسی خوشخبری سمجھ رہے ہیں۔ ان کے نزدیک موجودہ نظام اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے اور عمران خان کی رہائی اور اقتدار میں واپسی اب صرف وقت کی بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی مجوزہ احتجاجی کال کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے اور اسے ایک بڑی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ تاثر صرف تحریک انصاف تک محدود نہیں رہا۔ مختلف شہروں کے بازاروں، چائے خانوں، دفاتر اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی یہی گفتگو سنائی دیتی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں بھی یہی امید پائی جاتی ہے کہ موجودہ حکومت زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گی اور عمران خان دوبارہ اقتدار سنبھالیں گے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عوامی تاثر ہی زمینی حقیقت بھی ہوتا ہے؟
میری رائے میں اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ اگر خدانخواستہ موجودہ حکومت کسی بھی سیاسی یا آئینی وجہ سے اپنی مدت پوری نہ بھی کر سکے تو بھی اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عمران خان فوراً اقتدار میں آ جائیں گے۔ سیاست میں حکومت کا جانا اور کسی مخصوص رہنما کا واپس آنا دو الگ الگ معاملات ہیں۔
اس تمام صورتحال میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر موجودہ حکومت کسی وجہ سے اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکے تو کیا اس کا لازمی نتیجہ عمران خان کی اقتدار میں واپسی ہوگا؟ اس سوال کا جواب اتنا سادہ نہیں۔
اس کی ایک بڑی وجہ موجودہ عسکری قیادت اور عمران خان کے درمیان برسوں سے موجود کشیدگی بھی ہے۔اس کشیدگی کی جڑیں اس دور تک جاتی ہیں جب موجودہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بطور ڈی جی آئی ایس آئی خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس زمانے میں بعض معاملات، جن میں بشریٰ بی بی سے متعلق کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، دونوں شخصیات کے درمیان اختلافات کا باعث بنے۔ بعد ازاں عمران خان کی حکومت نے عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی کے منصب سے ہٹا دیا جسے سیاسی حلقے دونوں کے تعلقات میں ایک اہم موڑ قرار دیتے ہیں۔
بعد ازاں جب نئے آرمی چیف کی تقرری کا مرحلہ آیا تو عمران خان نے اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ اس وقت کے وزیراعظم شہباز شریف نے عاصم منیر کو آرمی چیف مقرر کیا۔ ان تمام واقعات نے دونوں کے درمیان موجود فاصلے مزید نمایاں کر دیئے۔
اسی طرح 9 مئی 2023 کے واقعات بھی پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں۔ ان واقعات کے دوران فوجی تنصیبات اور دیگر حساس مقامات پر حملوں کے الزامات عائد ہوئے، جن کے بعد متعدد مقدمات درج کیے گئے۔ ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ ان واقعات کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق جواب دہ ہونا ہوگا، جبکہ تحریک انصاف ان مقدمات کے حوالے سے اپنا الگ قانونی اور سیاسی مؤقف رکھتی ہے۔ جب تک ان معاملات پر عدالتی اور قانونی عمل مکمل نہیں ہوتا، اس وقت تک کسی بڑی سیاسی مفاہمت یا تبدیلی کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔اس کے علاوہ عمران خان کے خلاف مختلف مقدمات بھی عدالتی مراحل میں ہیں۔ ان قانونی رکاوٹوں کو نظر انداز کر کے صرف سیاسی افواہوں یا سوشل میڈیا کی بحث کی بنیاد پر کسی بڑے سیاسی نتیجے تک پہنچ جانا درست نہیں۔
سابق آئی ایس آئی سربراہ فیض حمید کے خلاف بھی قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان معاملات کی اپنی الگ قانونی حیثیت ہے اور ان کے نتائج بھی عدالتی عمل کے مطابق سامنے آئیں گے۔ ان مقدمات کو سیاسی منظرنامے سے مکمل طور پر الگ رکھنا ممکن نہیں، لیکن ان کی بنیاد پر مستقبل کے سیاسی فیصلوں کا تعین کرنا بھی درست تجزیہ نہیں ہوگا۔
امید اور حقیقت میں ابھی خاصا فاصلہ موجود ہے۔ اگر شہباز شریف کی حکومت ختم بھی ہو جائے تو اس کے بعد کئی آئینی اور سیاسی راستے موجود ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ان تمام راستوں کا اختتام عمران خان کی وزارتِ عظمیٰ پر ہی ہو۔ موجودہ سیاسی ماحول میں افواہوں سے زیادہ آئینی عمل، قانونی تقاضوں اور زمینی حقائق پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
پاکستان کی سیاست میں افواہیں ہمیشہ حقیقت سے زیادہ تیزی سے سفر کرتی ہیں۔ ایک بیان سے توقعات وابستہ کر لینا یا اسے کسی بڑے سیاسی فیصلے کی علامت سمجھ لینا آسان ضرور ہے، لیکن عملی سیاست میں فیصلے جذبات کے بجائے آئینی تقاضوں، قانونی عمل اور زمینی حقائق کے مطابق ہوتے ہیں۔اگر کسی مرحلے پر سیاسی مفاہمت یا مذاکرات ہوتے ہیں تو ان کا فیصلہ بھی ریاستی ادارے، سیاسی قیادت اور آئینی عمل کے دائرے میں ہوگا، نہ کہ بازاروں، چوراہوں یا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی چہ مگوئیوں کی بنیاد پر۔
وزیرداخلہ محسن نقوی کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی بحث اپنی جگہ اہم ضرور ہے، لیکن اسے حتمی حقیقت قرار دینا درست نہیں۔ عمران خان کی سیاسی واپسی ہو یا موجودہ حکومت کی آئینی مدت، یہ دونوں معاملات جذباتی خواہشات سے نہیں بلکہ عدالتوں، آئین اور سیاسی عمل کے ذریعے طے ہوں گے۔ یہی پاکستان کے جمہوری نظام کی اصل آزمائش بھی ہے اور مستقبل کا راستہ بھی۔











