یہ کون لوگ ہیں؟

ضروری نوٹ :
ایک وضاحت بے حد ضروری ہے، میں اپنی تحریر کا آغاز اکثر پیارے پڑہنے والے کے الفاظ سے کرتا ہوں ۔ دراصل یہ انگریزی اسلوب Dear Reader کا ترجمہ ہے جس میں پڑھنے والے کو صیغہ واحد متکلم میں مخاطب کیا جاتا ہے جو کچھ یوں بنتا ھے
Dear reader as you know.
پیارے پڑہنے والے! جیسا کے تم جانتے ہو۔
چونکہ انگریزی زبان میں آپ جناب والے تکلفات نہی ہوتے تو پیارے پڑھنے والے تم اسے اپنی توہین نہ سمجھنا کے تمہیں صیغہ جمع متکلم میں مخاطب کیوں نہی کیا گیا۔ یہ ایک دوستانہ بے تکلفی کا انداز ہے ۔ دوسری بات یہ کے یہ انداز میں نے اپنے محبوب لکھنے والے جناب محمد خالد اختر صاحب سے اڑایا ہے ۔ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ انگریزی میں سوچتے اور اردو میں لکھتے تھے۔ دیکھنے میں ایسا لگتا ہے جیسے ان کے اسلوب کو نقل کرنا بے حد آسان ہے لیکن یقین مانیئے اوروں کا تو پتہ نہی البتہ میرے فرشتوں کے بھی بس کا روگ نہی کے ان کے اسلوب کو کاپی کر سکوں۔ شکریہ

پیارے پڑہنے والے ! عام طور پر لکھتے ہوئے میں بے حد محتاط رہتا ہوں کے میرے الفاظ کسی کے لئیے دل آزاری کا باعث نہ بنیں اور میں اپنی بات گول مول یا جسے عرف عام میں Diplomatic way می کہہ جاؤں ۔ لیکن اس کوشش میں، میں کچھ زیادہ کامیاب نہی ہو سکا کیونکہ اس کے لئیے جتنی مقدار میں برداشت/ زہانت/منافقت اور ریاکاری درکار ہے اس کا اس فقیر میں کافی شدید بحران / فقدان ہے۔ذندگی میں اپنی ذیادہ تر ناکامیوں کے خلاف میں اس عزر لنگ کو بطور عزر شرعی استعمال کرتا رہا ہوں۔ جس کا کوئی اور فاہدہ ہو نہ ہو یہ خاکسار خود کو درست سمجھنے کی غلط/ خوش فہمی کا شکار رہا ہے ۔ اسی سے ملتی جلتی بات منیر نیازی نے بھی کہی تھی کہ
گزری ہے کس مزے سے خیالوں میں زندگی ،
دوری کا یہ طلسم بھی بڑا کار گر رہا ۔ صاحبو !
خود کو راستی پے سمجھنے میں بھی سو بوتلوں کا نشہ ہے۔ بقول شاعر
ہزار بار مقتل میں لے گیا ہے مجھے،
وہ ایک قطرہ خوں جو رگ گلو میں ہے۔
سو یہی قطرہ خوں یا کلمہ حق سقراط کو جیل سے بھاگنے نہی دیتا اور گلیلو دھیرے دھیرے وہی دہراتا رہتا ہے جو اسے درست لگتا ھے۔ ابھی تک سائنس کوئی ایسا فارمولہ ، کوئی ایسی گولی ، کوئی ایسا کیپسول ایجاد نہیں کر پائی جو لوگوں کو سچ بولنے سے روک سکے۔پتا نہی وہ کونسی طاقت ہے کہ یہ جانتے بوجھتے بھی کے اس راہ میں خسارہ ہی خسارہ ہے، نرا گھاٹا ہی گھاٹا ہے۔ لیکن لوگ اس راہ پے چلنے سے باز نہی آتے ۔ شاہی قلعے کے عقوبت خانے ، قید تنہائی ،ٹکٹکی پے کوڑے کھانے کے باوجود نعرہ حق بلند کرنے والے، نیم تاریک راہوں میں مارے جانے والے ، بازار میں پا بہ جولاں چلنے والے ، وطن بدر کر دئیے جانے والے، غزہ کے مظلوموں کے لئیے آواز بلند کرنے والے جن کا ان سا بظاہر انسانیت کے سوا کوئی ناطہ نہی ، کوئی رشتہ نہی ۔۔۔ آخر یہ کون لوگ ہیں ؟
پتہ نہیں کیوں مجھے مولانا حسرت موہانی یاد ا رہے ہیں کہ انگریز کی جیل میں تھے تو ھر روز چکی پیسنے کی مشقت بھی کرتے تھے اور پیٹھ پے کوڑے بھی کھاتے تھے۔ مولانا کی شاعری پڑہیں تو لگتا ہے کہ کوئی عرب شہزادہ ہے جس نے کبھی اپنی عشرت گاہ سے قدم باھر نہی نکالا ۔
شاعری میں اس قدر حسن ، اتنا جمال
۔۔سبحان اللہ
زرا شعر ملاحظہ فرمائیے
روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام ،
دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام۔
دوسری طرف علامہ عنایت اللہ مشرقی بھی جنہوں نے خاکسار تحریک کی بنیاد رکھی اور جب تک گرفتار ہو کر جیل گئے تو دوسرے ہی دن معافی نامہ لکھ کر دیدیا۔
صاحبو ! بات خوامخواہ لمبی ہوتی جا رہی ہے ۔ میں اسے اس شعر پے ختم کرتا ہوں

راستی پر ہوں تو مجھے اور بھی محکم کرنا ،
اور اگر حرف غلط ہوں تو مٹا بھی دینا ۔
و ما علینا الاالبلاغ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں