راولپنڈی(نمائندہ خصوصی: رانا حسن) ڈومینین مال کے باہر اپنے حقوق اور سرمایہ کی واپسی کے لیے متاثرین کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں سے آنے والے متاثرین نے احتجاجی کیمپ قائم کر دیے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک ان کا پرامن احتجاج جاری رہے گا۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی داؤ پر لگی ہوئی ہے، مگر متعلقہ اداروں کی جانب سے اب تک کوئی مؤثر پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب ڈویلپر حشمت اقبال کی جانب سے مذاکرات اور کمیٹی سازی کی پیشکش سامنے آئی ہے، تاہم متاثرین نے اسے مسئلے کے مستقل حل کے بجائے وقت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تحریری اور قابلِ عمل معاہدے کے بغیر احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔
یہ صورتحال راولپنڈی کے نئے تعینات آر پی او حسن مشتاق سکھیرا کے لیے بھی ایک اہم امتحان سمجھی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی نئی قیادت متاثرین کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے قانون کے مطابق شفاف اور غیرجانبدارانہ کارروائی کرے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو۔
متاثرین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے بھی فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینکڑوں خاندانوں کی جمع پونجی اس منصوبے میں پھنسی ہوئی ہے، لہٰذا حکومت فوری مداخلت کرتے ہوئے متاثرین کو انصاف فراہم کرے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔











