لاہور کی شام اپنے مخصوص سکون میں ڈوبی ہوئی تھی۔ رائے ونڈ ہاؤس کے سرسبز لان میں ہلکی ہوا درختوں سے سرگوشیاں کر رہی تھی۔ اندر ڈرائنگ روم میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف حسبِ معمول اخبارات کا مطالعہ کر رہے تھے۔ سرخیوں میں کہیں ترقیاتی منصوبوں کا ذکر تھا تو کہیں مہنگائی اور پٹرول کی نئی قیمتوں پر بحث جاری تھی۔
اسی دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز تیز قدموں سے کمرے میں داخل ہوئیں۔
“السلام علیکم بابا جان!
“وعلیکم السلام بیٹا، خیریت ہے؟ آج کچھ زیادہ سنجیدہ دکھائی دے رہی ہو۔
“بابا جان،آج اتوار ہے چچا جان آنے والے ہیں۔ سوچا آج کچھ ایسی بات ہو جائے جو شاید سرکاری اجلاسوں میں نہیں ہو پاتی۔
اتنے میں کچھ لمحات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کمرے میں داخل ہوئے۔
“السلام علیکم بڑے بھائی… السلام علیکم بیٹا!
مصافحے اور خیریت دریافت کرنے کے بعد شہباز شریف مسکراتے ہوئے بولے۔
“بیٹا! پنجاب میں افتتاحوں کی رفتار دیکھ کر تو لگتا ہے فیتے بنانے والی فیکٹریاں بھی اوور ٹائم کر رہی ہوں گی۔
جس پر نواز شریف اورمریم نواز بھی مسکرا دیئے۔
“چچا جان! فیتے تو اور بھی کٹ جائیں گے، مگر ایک چیز ہے جو ہر افتتاح پر پانی پھیر دیتی ہے۔
“وہ کیا؟
“پٹرول کی قیمت…
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
مریم نواز نے بات آگے بڑھائی۔
“ہم مہینوں منصوبہ بناتے ہیں، دن رات محنت کرتے ہیں، سڑک بنتی ہے، اسپتال تیار ہوتا ہے، سکول کا افتتاح ہوتا ہے، مگر جیسے ہی پٹرول مہنگا ہوتا ہے، اگلے دن سوشل میڈیا پر ہماری ساری محنت ایک میم میں دفن ہو جاتی ہے۔
شہباز شریف نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔بیٹا! حکومت صرف منصوبوں سے نہیں چلتی، عالمی منڈی بھی دیکھنی پڑتی ہے، ڈالر بھی، بجٹ بھی اور درآمدات بھی۔
“چچا جان! عوام کو عالمی منڈی سے کوئی اختلاف نہیں، لیکن ان کی اپنی منڈی ضرور ہر روز بدل جاتی ہے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو سبزی والے کو بھی یاد آ جاتا ہے کہ ڈیزل بڑھ گیا ہے، دودھ والے کو بھینس کا چارہ مہنگا لگنے لگتا ہے، رکشے والے کا میٹر اچانک بیمار ہو جاتا ہے اور نانبائی کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آٹا سیدھا لندن سے درآمد ہو رہا ہو۔
“اور سوشل میڈیا؟وہ تو ہمارا سب سے بڑا اپوزیشن لیڈر ہے۔ ہم ایک فلائی اوور بناتے ہیں، وہ ایک میم بنا دیتے ہیں۔ ہم تقریر کرتے ہیں، وہ تیس سیکنڈ کا کلپ وائرل کر دیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں معیشت بہتر ہو رہی ہے، وہ پٹرول پمپ کا ریٹ بورڈ دکھا دیتے ہیں۔
اسی دوران میاں نواز شریف دونوں کی باتیں غور سے سن رہے تھے ،کبھی بیٹی کی طرف دیکھتے اور کبھی بھائی کی طرف اور بعد ازاں اخبار میز پر رکھتے ہوئے گفتگو میں حصہ لیا۔اور کہا کہشہباز! حکومت کی اصل کامیابی صرف منصوبے نہیں ہوتے۔ عوام کی جیب بھی مطمئن ہونی چاہیے۔
شہباز شریف نے بڑے بھائی کی طرف دیکھا اور بولے۔
“بھائی جان! کوشش تو یہی ہے، لیکن حالات بھی تو آسان نہیں۔
نواز شریف نے سنجیدہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سیاست میں حالات کبھی آسان نہیں ہوتے۔ مگر عوام کو یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ عالمی منڈی مہنگی ہے۔ انہیں تو صرف یہ نظر آتا ہے کہ کل پانچ ہزار میں آنے والا راشن آج چھ ہزار میں کیوں آ رہا ہے۔
مریم نواز نے فوراً کہا،
“بابا جان یہی بات میں چچا جان کو بتانا چا رہی تھی۔ پنجاب میں ہم جتنے بھی منصوبے بنا لیں، اگر بازار میں آٹا، چینی، گھی اور پٹرول ہی عوام کی پہنچ سے دور ہوتے گئے تو مخالفین کو تقریروں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بازار خود ان کی انتخابی مہم چلا دے گا۔
کمرے میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
شہباز شریف نے گہرا سانس لیا۔
“بیٹا! تمہاری بات میں وزن ہے۔ حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ عوام کو ریلیف بھی دینا ہوگا۔
مریم نواز مسکراتے ہوئے بولیں،
“چچا جان! آج کل عوام افتتاحی تختیاں کم اور پٹرول پمپ کے ریٹ زیادہ پڑھتی ہے۔
چند لمحے بعد میاں نواز شریف اپنی نشست سے اٹھے اور بولے،
“چلو، اب چائے منگواتے ہیں۔ سیاست کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ہر مشکل پر ایک نئی میٹنگ ہو جاتی ہے، مگر عوام کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ کبھی مہنگائی پر بھی کوئی ایسی میٹنگ ہو جس کا نتیجہ اگلے ہی دن بازار میں نظر آ جائے۔
خیالی راوی خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ سیاست میں افتتاح کرنا شاید آسان کام ہے، لیکن عوام کی امیدوں کا بوجھ اٹھانا کہیں زیادہ مشکل ہے۔ سڑکیں، پل، اسپتال اور عمارتیں حکومتوں کی کارکردگی ضرور بتاتے ہیں، مگر ووٹوں کا راستہ اکثر سبزی منڈی، آٹے کی دکان اور پٹرول پمپ سے ہو کر گزرتا ہے۔شاید اسی لیے سیاست کا سب سے بڑا افتتاح کسی نئی سڑک کا نہیں بلکہ عوام کے چہروں پر لوٹ آنے والی مسکراہٹ کا ہوتا ہے۔











