گکھڑمنڈی ۔جی ٹی روڈ گکھڑ میٹرو بس توسیعی منصوبہ مقامی شہریوں اور تاجروں کے سروں پر بجلی بن کر گر پڑا۔
انتظامیہ کی جانب سے جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف واقع کروڑوں روپے مالیت کی نجی و کمرشل اراضی اور عمارتوں کو منہدم کرنے کے نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں
جس کے بعد پورے علاقے میں شدید تشویش اور خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ متاثرہ املاک کے مالکان اور انتظامیہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز اسسٹنٹ کمشنر وزیر آباد نے اہلکاروں کے ہمراہ گکھڑ کا ہنگامی دورہ کیا۔
اس دورے کے فوراً بعد جہاں کمرشل مارکیٹس، شاپنگ مالز، سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کو نوٹسز تھمائے گئے، وہیں صدیوں پرانی مذہبی عبادت گاہیں اور مزارات بھی اس آپریشن کی زد میں آ رہے ہیں۔
نوٹس موصول ہونے والی جگہوں میں مسجد و دربار حضرت پیر عبداللہ شاہ، مزار اقدس حافظ محمد حمید اختر، مسجد شاہ جمال اور مسجد بوہڑ والی سمیت اہم تجارتی مراکز شامل ہیں۔
دلچسپ اور افسوسناک امر یہ ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹسز میں متاثرین کو اپنی املاک خود خالی یا مسمار کرنے کے لیے صرف 24 گھنٹے کا انتہائی مختصر الٹی میٹم دیا گیا ہے۔
اتنے قلیل وقت میں کروڑوں کا کاروبار اور جائیدادیں سمیٹنے کے حکم نے شہریوں کو شدید ذہنی صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اچانک ملنے والے ان نوٹسز اور عمر بھر کی جمع پونجی ڈوبنے کے خوف سے کئی دکاندار اور مالکان شدید پریشانی کا شکار ہیں، جبکہ بعض متاثرین کی حالت غیر ہونے اور صدمے سے بے ہوش ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
متاثرہ شہریوں اور تاجروں نے اس مہم پر گہرے خدشات اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے نام پر شہریوں کو اجاڑنا اور قدیمی مساجد و مزارات کو مسمار کرنا سراسر ناانصافی ہے۔
انہوں نے اعلیٰ حکام، وزیر اعلیٰ پنجاب اور کمشنر گوجرانوالہ سے فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لینے، آپریشن روکنے اور مناسب متبادل یا وقت فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔











