( Thugs of Pakistan)

پیارے پڑہنے والے !
جیسا کہ تم جانتے ہی ہو کہ کسی زمانے میں ہندوستان میں ٹھگ ہوا کرتے تھے جن کا باقاعدہ اپنا قبیلہ تھا ۔ویسے تو تاریخ کے ھر دور میں ٹھگ ہوتے تھے، ہیں اور رہیں گے۔ لیکن ٹھگوں کا یہ قبیلہ آج بھی ہندوستان میں موجود ہے اور آج بھی اپنی دلپزیر کاروائیوں میں مصروف ہے۔ یہ لوگ کالی دیوی کی پوجا کرتے ہیں اور ہر کامیاب واردات کے بعد اس کے سامنے بلی بھی چڑہاتے ہیں۔
آج سے کچھ عرصہ قبل مشہور بھارتی اداکار عامر خان نے ان ٹھگوں پے
” Thugs of India ” کے عنوان سے فلم بھی بنائی تھی
۔
تقسیم کے بعد ھم یہ سمجھتے ہیں یا تھے کہ یہ ٹھگ ھندوستان میں ہی رہ گئے تو یہ ہماری غلط فہمی ہے۔ تقسیم یا بٹوارے کے بعد ہمیں جہاں اور بہت کچھ ملا وہیں ہمارے حصے کے ٹھگ بھی ملے۔۔۔مہاجرین کے ساتھ ساتھ یہ ٹھگ خواتین و حضرات بھی تشریف لے ائے ، ویسے یہ بات ذہن میں رہے کہ ٹھگ لوگ ملک وملت، نظریات اور اعلیٰ اقدار وغیرہ وغیرہ پر یقین نہی رکھتے ۔ اس معاملے میں یہ بے حد روشن خیال ہوتے ہیں اور اس طرح کی لغویات پر بلکل یقین نہی رکھتے۔ ان کا پیشہ نظریات، ملک و ملت اور سرحدوں سے بالا تر ہوتا ھے۔
انکی ٹھگی کی وارداتوں کے قصے بڑے دلچسپ , پر اسرار اور خوفناک ہوتے ہیں ۔ چور اور ڈاکو ان کے مقابلے میں بلکل جاہل اور انپڑھ ھوتے ہیں ۔ ایک دانا بزرگ نے بتایا کہ ڈاکو بے شرم ہوتا ہے وہ بندوق کے زور پے لوٹتا ہے اور صرف مال متاع ہی نہی بلکہ عزتیں بھی لوٹتا ہے اس کے بر عکس چور بہتر ہوتا ہے کہ وہ اپنا کام خاموشی سے کرتا اور اس کے لئیے اندہیرے کا سہارا لیتا ھے۔ آپ کے سامنے نہی اتا۔ ٹھگ ان دونوں کے برعکس سارا کام ہوشیاری اور چالاکی سے کرتا ہے ۔ وہ باقاعدہ منصوبہ بندی کرتا ہے اور دن دیہاڑے اپنے شکار کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے۔
ایک دفعہ میں اور برادرم کرنل شریف تاج ساہیوال جارہے تھے تو
ٹھگی کا ایک قصہ انہوں نے بھی سنایا۔ ایک زمانے میں ان کی پوسٹنگ اوکاڑہ میں تھی ۔ اوکاڑہ سے تھوڑی دوری پر ایک جگہ ہے جو گیمبر کہلاتی ہے وہاں ان ٹھگوں کی کالونی ہے۔
کرنل شریف نے جو قصہ سنایا وہ ٹھگوں کی ذہانت یا مکاری کا شاہکار تھاکہ کس طرح انہوں نے جہلم کے ایک ڈاکٹر سے 80 لاکھ روپیہ لوٹا۔ بقول کرنل شریف کے جب وہ ان ٹھگوں سے ملے اور لوٹا ہوا پیسہ واپس کرنے کا مطالبہ کیا تو ٹھگوں کے سربراہ نے کہا کہ میجر صاحب وہ سامنے عدالت ہے ۔ آپ شوق سے جا کر ھم پے مقدمہ کریں اور ہو سکے تو ھم سے پیسہ وصول کر لیں۔ بقول کرنل شریف کے وہ رتی برابر بھی خوفزدہ نہی تھے اور نہ ہی انہیں پرواہ تھی کہ پاک فوج کا ایک حاضر سروس میجر ان کا کچھ بگاڑ سکتا ہے۔ یہ لوگ آج بھی وہاں آباد ہیں اور اپنی وارداتوں میں مصروف ہیں۔
آپ کے زہن میں ٹھگوں کا ایک مبہم سا خاکہ یا نقشہ ہے اور ان کی خاص طرح کی صورتیں ہیں۔۔جب کہ ایسا ھر گز نہی ۔ٹھگوں کی کوئی پہچان نہی اور نہ ہی انہیں آپ پہچان سکتے اور اگر آپ پہچاننے میں کامیاب ہو گئے تو پھر وہ ٹھگ کس بات کے ٹھگ ہوئے۔ کیسی مزے کی بات ہے کہ یہ ٹھگ آپ کے دائیں بائیں ،اوپر نیچے ھر جگہ مو جود ہیں اور اتنے ہیں کہ مارے حیرت کے آپ ششدر رہ جائیں گے۔
پیارے پڑہنے والے ! مجھے تمہاری زہانت پے کوئی شک نہی اور تم ان لوگوں سے زیادہ زہین ہو جو تم سے کم زہین ہیں لیکن اس کے باوجود ان ٹھگوں کو پوائنٹ آؤٹ کرنے میں میں تمہاری مدد کرتا ہوں۔
یہ ٹھگ تمہارے پورے معاشرے میں پھیلے ہوئے ہیں ہاں رتبے کے لحاظ سے یہ چھوٹے بڑے کے خانوں میں تقسیم کئیے جا سکتے ہیں۔
پچھلے 78 برسوں میں ہم نے اس انڈسٹری میں بہت ترقی کی ہے۔ بلکہ اگر تم میری بات کو غیر سنجیدہ نہ سمجھو تو میں حکومت کو یہ تجویز پیش کرنا چاہوں گاکہ اس پے باقاعدہ ٹیکس لگایا جائے اور اس کی قانونی حیثیت کو تسلیم کیا جائے ۔۔لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ حکومت بھی تو انہی ٹھگوں پر ہی مشتمل ہے۔ آپ کے ھر ادارے میں ٹھگ موجود ہیں ، چاہے وہ عدلیہ ہو یا انتظامیہ یا پولیس۔ کاروباری ادارے ہوں یا تعلیمی ۔ پرائیویٹ سکول ہوں یا مدرسے ۔ مزہبی سکالرز ہوں یا موٹیویشنل سپیکرز۔ شاعر ادیب ہوں یا وکیل، صحافی ہوں یا مداری اینکر ، حکمران جماعت کے وزیر مشیر ہوں یا اپوزیشن میں بیٹھے سیاستدان ۔
زندگی کا کونسا شعبہ ہے جس میں ہمارے پاس ٹھگوں کی کمی ہے ۔ پیروں فقیروں کی شکل میں ، ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی شکل میں ۔ یہ ھر جگہ موجود ہیں ۔ یہ بڑی بڑی کارپوریشنز اور ان کے سی ای اوز ۔۔۔۔یہ سب ٹھگوں کے ہی کے تو ٹولے ہیں۔ ان سب نے سوانگ رچا رکھے ہیں ۔ گیٹ اپ بنا رکھے ہیں ۔رنگ برنگی ٹوپیوں ، پگڑیوں میں ، وردیوں میں، سوٹ اور ٹائیوں میں۔
دیکھئیے وہی چھمک چھلو جو کل تک سکرین پے ای ٹھمکے لگا رہی ہوتی ہے اگلے دن بی بی زلیخا بنی سر پے ڈوپٹہ اوڑھے رمضان شریف کی فیوض و برکات پے لیکچر دے رہی ہوتی ہے ۔ مختلف قسم کے مولانا منہ پے ڈیزائنر ڈاڑھیاں سجائے، بروکیڈ کی ویسٹ کوٹ پہنے آپ کو صراط مستقیم دکھا رہے ہوتے ہیں۔ عامر لیاقت جیسے رنگے سیار آپ کو جنت پہنچا رہے ہوتے ہیں۔
پیارے پڑہنے والے ! اس سے پہلے کہ میری بات لمبی ہو جائے اور تم بور ہو جاؤ ، میں تم سے اجازت چاہوں گا۔
حکیم الامت کا دور گیا اب ہمارے پاس حکیم شہزاد لوہا پاڑ ہے ، حکیم بابر ہے اور چاہت فتح علی خان اور اس کے ہمنوا ہیں۔
کاش ہمارے پاس کوئی عامر خان ہوتا تو ھم بھی ” Thugs of India” کی ٹکر پے ” Thugs of Pakistan” بناتے ۔
ہمارے پاس اس موضوع پر کتنا۔ میٹیریل ہے اور بلکل ضائع جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں