گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی داخلہ پالیسی

گورنمنٹ کالج لاہور ایک تاریخی درسگاہ ہے جس نے بڑے نامی گرامی افراد پیدا کئے اور آج ناصرف ملک کے اندر بلکہ پوری دنیا میں یہاں کے فارغ التحصیل طلباء نے اپنا نام پیدا کیا ہے۔ پچھلے سال مجھے اپنی بیٹی کے داخلہ کے لئے اس یونیورسٹی کے سسٹم کو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ بی سیس پروگراموں میں داخلہ کے لئے انٹر میڈیٹ فرسٹ ائیر کے رزلٹ کو معیار بنایا گیا تھا اور پھر ہر شعبہ کے لئے الگ سے داخلہ ٹیسٹ لیا گیا تھا اور انٹرویو کے لئے بھی الگ تاریخوں کا انتخاب کیا گیا تھا۔ یعنی اگر کوئی طالب علم چار مختلف شعبہ جات کے لئے درخواست جمع کرواتا ہے تو اس کو چار بار ٹیسٹ اور انٹرویو کے مراحل سے گزرنا پڑتا تھا جبکہ باقی یونیورسٹیوں میں ایسا نہیں ہے بلکہ ایک ہی ٹیسٹ کی بنیاد پر تمام متعلقہ شعبہ جات میں داخلہ کی اہلیت بن جاتی ہے۔ میری بیٹی نے انگلش اور ایک اور شعبہ میں اپلائی کیا تھا اور دونوں شعبہ جات میں ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد اسے ایک شعبہ سے انٹرویو کے لئے کال موصول ہوئی جس کے لئے باقاعدہ فون کے ذریعہ اور پھر واٹس ایپ میسیج کرکے آگاہ کیا گیا تھا اور اس میں بیٹی کا داخلہ ہو گیا ليکن چونکہ اس کا رحجان انگلش لٹریچر میں تھا اس لئے اس نے انگلش ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے انٹرویو کال کا انتظار کیا لیکن کسی قسم کی اطلاع متعلقہ شعبہ سے موصول نہیں ہوئی جس کے بعد شعبہ سے جاکر معلومات حاصل کی گئیں تو بڑی بے اعتنائی سے جواب ملا کہ اپ کی ٹرین گزر چکی ہے اور داخلے مکمل ہو چکے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے تو انٹرویو کے لئے بلایا ہی نہیں تو جواب موصول ہوا کہ ہمارے پاس اتنا وقت ہے نہ ہی سٹاف ہے کہ ہم سب لوگوں کو بتاتے پھریں بلکہ آپ کو داخلہ پورٹل سے خود دیکھنا چاہئے تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اب اس کا حل کیا ہے تو بتایا گیا کہ مارننگ سیشن کی تمام سیٹیں پہلی ہی لسٹ میں مکمل ہو چکی ہیں اور شام کی کلاسز میں بھی پہلی لسٹ لگ چکی ہے اس لئے اب کچھ نہیں ہو سکتا اس طرح اے پلس گریڈ والی بچی کو چھوڑ کر کم نمبروں والے بچوں کا داخلہ کردیا گیا۔ جس پر میں نے رجسٹرار یونیورسٹی کو ایک ای میل لکھی جس کے جواب میں دوبارہ سفید انکار کردیا گیا چنانچہ میں نے ایک اور ای میل بھیجی کہ ایک طرف تو آپ کہہ رہے ہیں کہ تمام نشستیں پر ہو چکی ہیں اور دوسری طرف شام کی کلاسز کے لئے دوبارہ اخبار میں داخلہ کا اشتہار دے رہے ہیں یہ کیسا مذاق ہے جس پر مجھے جواب ملا کہ آپ دو دن بعد شعبہ انگریزی کے سربراہ سے مل لیں اور دو دن بعد جب میں اپنی بیٹی کے ہمراہ یونیورسٹی پہنچا اور سربراہ سے ملاقات کی تو وہ غصے میں بھرے ہوئے تھے ۔ وہ مجھ پر برسنے لگے کہ اپ نے رجسٹرار کو میل کیوں کی تو مجھے حیرانی ہوئی کہ اس قدر پڑھے لکھے شخص کو یہ بھی معلوم نہیں کہ جب کسی بھی شہری کو کسی ادارے سے مسئلہ درپیش ہوتا ہے تو اس کے لئے حکام بالا کے نوٹس میں معاملہ لے کر آنا نہایت شائستہ اور پڑھا لکھا طریقہ ہے ۔بلکہ یہ تو میرا حق تھا کہ میں عدالت جاتا یا پھر میڈیا میں اس معاملہ کو اٹھاتا تاکہ حکام تک بات پہنچ جاتی ۔ جبکہ یہاں حالت مایوس کن تھی جس پر میں نے انچارج شعبہ سے کہا کہ پہلی بات ہے کہ آپ کو بات کرتے ہوئے پروفیشنل انداز اپنانا چاہیئے کیونکہ یہاں شکایت کنندہ میں ہوں اور آپ میری بات سننے کی بجائے چیخنے چلانے کی کوشش کریں گے تو یہ نہایت غير مناسب رویہ ہے جس کے خلاف میں اعلٰی حکام سے بات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہوں۔ جس کے بعد انھوں نے میری بیٹی کا سرسری انٹرویو کیا جس میں سطحی سے سوالات کئے اور دو منٹ کے بعد مجھے بلا کر کہا کہ میں بچی کو پاس کررہا ہواور انھونے دس میں سے پانچ نمبر دے کر بڑا احسان کیا ۔ دو دن بعد مجھے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں دوسری لسٹ کے لئے طلبا کے نام تھے اور میں حیران تھا کہ صرف ایک ہی بچی کا نام دوسری لسٹ میں شامل تھا جو میری بیٹی تھی۔ مطلب اس ایک نام کے شامل ہونے کے بعد دوسری داخلہ لسٹ میں سیٹیں مکمل ہوگئی تھیں اور آخری نام میری بیٹی کا تھا۔ دو دن بعد جب میں فیس جمع کروانے گیا تو وہاں انٹرویو کے لئے آئے ہوئے بچوں کا رش لگا ہوا تھا۔ وہاں جاکر مجھے معلوم ہوا کہ ایک اور داخلہ ٹیسٹ لیا گیا ہے جس کے بعد انٹرویو کیے جارہے تھے ۔ وہاں مجھے کئی سٹوڈنٹس ملے جن میں سے کچھ پہلے ٹیسٹ کے بعد انٹرویو میں کسی وجہ سے نہ آسکے تھے اور انھیں دوبارہ ٹیسٹ کے لئے بلایا گیا تھا اور ایک طالب علم تو خود گورنمنٹ کالج سے ہی انٹر کرچکا تھا اور اس کا سکور نوے فیصد سے بھی زیادہ تھا۔ اب مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ پہلے ٹیسٹ پاس کرنے والے طلباء کو انٹرویو سے منع کیا گیا تھا کہ ہماری تمام نشستیں مکمل ہو چکی ہیں۔ پھر دوبارہ ٹیسٹ میں بلانے میں کونسی دلیل کارفرما تھی ۔ یہ صورتحال دیکھ کر میں نے بٹیی کا داخلہ منسوخ کروا کر پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ کروادیا ۔ مجھے بعد میں یونیورسٹی ذرائع سے معلوم ہوا کہ کہ اس کے بعد بھی مختلف شعبہ جات میں کئی ٹیسٹ اور انٹرویو کے ادوار ہوئے اور نوبت یہاں تک آگئی کہ ہر اتوار کو واک ان ٹیسٹ اور انٹرویو کا اہتمام بھی کیا جاتا رہا۔ یعنی جو کوئی چلتے پھرتے آیا اسی وقت اس کا ٹیسٹ لیا اور داخلہ کردیا جس کے اندر يقينا نوازشات بھی ہوئی ہوں گی۔ مختصر یہ کہ پورا داخلے کا پراسس شفاف نہیں تھا۔فرسٹ سمسٹر میں داخلہ لینے والے کئی بچوں کا سیکنڈ ائیر کا امتحان بھی پاس نہ ہو سکا اور وہ فرسٹ سمسٹر میں پاس ہوکر دوسرے سمسٹر میں ترقی پاگئے اور کسی کو پتہ تک نہ چلا ۔ دوسری طرف پنجاب یونیورسٹی کا سسٹم بہرحال زیادہ شفاف تھا جہاں تمام داخلہ ٹیسٹ میں پاس ہونے والوں کی ایک ماسٹر لسٹ جاری کی گئی تھی جس میں انٹرویو جیسی فضول پریکٹس شامل نہیں تھی اور یقین جانیئے چار لسٹیں لگنے کے بعد بھی تمام نشستیں پر نہ ہو سکی تھیں تو پھر جی سی یونیورسٹی میں ایسا کیا ہوا کہ پہلی اور دوسری لسٹ میں ہی اعلان کیا گیا کہ اب ہم داخلے بند کررہے ہیں جبکہ ایک ماہ تک داخلے ہوتے رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ نئے وائس چانسلر بڑے پروفئشنل اور سمجھدار انسان ہیں وہ اس معاملہ میں ضرور کوئی ٹھوس حکمت عملی اپنائیں گے تاکہ اس تاریخی ادارہ کی ساکھ کو قائم رکھا جا سکے۔ یہ سب لکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ چند اچھے ادارے جو باقی بچے ہیں ان کو زندہ رکھا جا سکے۔ بدقسمتی ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے ملک میں تعلیم کا معیار تیزی سے گرنے لگا ہے جس کی ایک بڑی وجہ نئی نسل میں پیدا ہونے والی وہ سوچ ہے کہ ڈگریاں اب کسی کام کی نہیں ہیں بلکہ ٹیکنیکل سکلز سیکھنے سے مستقبل میں روزگار کمایا جا سکے گا وہیں پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی نالائقی بھی شامل ہے۔ یہ ابھی بھی کئی سالوں پر محیط ڈگری کورسز کروانے میں مصروف ہیں اور ساتھ ہی داخلہ پالیسی میں بھی بہت بڑے نقائص ہیں جس کی دجہ سے بہت سارے اچھے تعلیمی بیک گراؤنڈ کے بچوں کو ڈس کوالیفائی کرکے ایسے طلباء کو موقع دیا جاتا ہے جن کا رجحان تعلیمی سرگرمیوں میں کم ہی ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لئے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں نے پچھلے چند سالوں داخلہ ٹیسٹ متعارف کروایا ہے جس میں پاس ہونے کے بعد ہی کسی امیدوار کی اہلیت اور نااہلیت کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ یہ داخلہ ٹیسٹ یونیورسٹیوں کے لئے ریونیو کمانے کا بڑا ذریعہ بھی بن چکا ہے اور دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ اکثر یونیورسٹیاں تین سے چار بار ٹیسٹ منعقد کرواتی ہیں جس میں ہزاروں طلباء داخلہ کے لئے اپلائی کرتے ہیں اور پراسس فیس کے نام پر اچھا خاصا پیسہ جمع ہوجاتا ہے لیکن اس عمل سے طلباء کا اعتماد مزید تعلیم سے اٹھتا جارہا ہے۔ یونیورسٹیوں کی انتطامیہ کو چاہیئے کہ داخلہ ٹیسٹ کے عمل کو بند کرکے انٹرمیڈیٹ کے نمبروں کو بنیاد بنا کر داخلے کئے جائیں کیونکہ ایک گھنٹے کے ٹیسٹ کو دو سال کی پرفارمنس سے معتبر سمجھنا کوئی اچھی حکمت عملی نہیں ہے جہاں تک ٹیسٹ ریونیو کی بات ہے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ جب کوئی ادارہ اپنے بنیادی مقصد سے ہٹ کر ثانوی معاملات کو بنیاد بنا کر پیسے کمانا چاہتا ہے تو اس کی بنیادی کوالٹی متاثر ہوتی ہے۔ چنانچہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو فوری طور پر اپنے کورسز اور تعلیم کے عمل کو پریکٹیکل بنانا چاہیئے تاکہ طلبا کو روزگار بھی مل سکے اور ان اداروں کی ساکھ بھی قائم ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں