ادھوری انسانیت

تحریر ۔ شاہد شکیل
انسانیت ایک بہت آسان لفظ ہے، مگر اس پر عمل بہت مشکل ہے۔ ہم انسانیت کی بات بہت کرتے ہیں۔ سچ، عزت، انصاف، تربیت، اخلاق، احترام، ذمہ داری، یہ سب الفاظ ہماری زبان پر اکثر آتے ہیں۔ لیکن کسی معاشرے کی اصل پہچان اس کے الفاظ نہیں، اس کے روزمرہ رویے ہوتے ہیں۔
انسانیت کتابوں میں لکھی جا سکتی ہے، تقریروں میں بیان کی جا سکتی ہے، کالموں میں دہرائی جا سکتی ہے، مگر جب تک وہ گھر، دفتر، سڑک بازار، سکول، خاندان اور فیصلوں میں نظر نہ آئے، وہ صرف لفظ رہتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم انسانیت کو مانتے ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم انسانیت پر عمل بھی کرتے ہیں؟
انسانیت کا پہلا امتحان گھر سے شروع ہوتا ہے۔ گھر میں عورت کے ساتھ رویہ کیسا ہے؟ کیا اسے عزت ملتی ہے یا صرف ذمہ داریاں؟ کیا اس کی رائے سنی جاتی ہے یا اسے خاموش رہنے کا عادی بنایا جاتا ہے؟ کیا بیٹی کو بیٹے جیسی اہمیت ملتی ہے؟ کیا بہن، بیوی، ماں یا بیٹی کو انسان سمجھا جاتا ہے یا صرف رشتوں کے نام سے پہچانا جاتا ہے؟
جس معاشرے میں عورت کو اپنی مکمل طاقت کے ساتھ کھڑا ہونے کا موقع نہیں دیا جاتا، وہاں انسانیت ادھوری رہتی ہے۔ عورت صرف گھر چلانے والی نہیں ہوتی۔ وہ سوچ دیتی ہے، تربیت دیتی ہے، نسل بناتی ہے، گھر کا ماحول بناتی ہے، بچے کے اندر اعتماد یا خوف پیدا کرنے میں اہم کردار رکھتی ہے۔ جس معاشرے نے عورت کو محدود کیا، اس نے اپنی آدھی عقل، آدھی طاقت اور آدھا مستقبل خود روک دیا۔
انسانیت کا دوسرا امتحان بچوں کے ساتھ رویے میں ہے۔ بچے کو صرف کھانا، کپڑا، اسکول اور چھت دینا کافی نہیں۔ بچے کو عزت بھی چاہیے، اعتماد بھی چاہیے، سوال کا حق بھی چاہیے، غلطی کرنے کی جگہ بھی چاہیے، اور اپنا راستہ بنانے کا موقع بھی چاہیے۔ اگر بچہ ہر وقت ڈر میں رہے، ہر سوال پر ڈانٹ کھائے، ہر فیصلے میں والدین کی مرضی کا پابند ہو، تو وہ بڑا ہو کر یا تو ٹوٹ جاتا ہے یا پھر وہی سختی اگلی نسل کو دے دیتا ہے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ بچوں کی تربیت کرنی چاہیے۔ یہ بات درست ہے، لیکن تربیت کا مطلب بچے کو خاموش کرنا نہیں۔ تربیت کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ سوچنا چھوڑ دے اور صرف ماننا سیکھے۔ اچھی تربیت وہ ہے جس میں بچہ احترام بھی سیکھے اور سوال بھی۔ وہ بزرگوں کی قدر بھی کرے اور اپنی عقل بھی استعمال کرے۔ وہ خاندان سے جڑا بھی رہے اور دنیا کو کھلی نظر سے دیکھنے کے قابل بھی بنے۔
انسانیت کا تیسرا امتحان سچ میں ہے۔ سچ بولنا اس وقت آسان ہے جب نقصان نہ ہو۔ اصل سچ وہ ہے جو فائدے کے وقت بھی نہ چھوڑا جائے۔ اگر ہم اپنے فائدے کے لیے جھوٹ کو چالاکی، دھوکے کو ہنر، سفارش کو راستہ، اور قانون توڑنے کو سمجھداری سمجھنے لگیں تو پھر انسانیت صرف باتوں میں رہ جاتی ہے۔
اسی طرح وقت کی پابندی بھی انسانیت کا حصہ ہے۔ دوسرے کا وقت ضائع کرنا بھی ایک طرح کی بے انصافی ہے۔ قانون کا احترام بھی انسانیت ہے، کیونکہ قانون صرف ہمارے لیے نہیں، سب کے لیے ہوتا ہے۔ کمزور کے ساتھ اچھا رویہ بھی انسانیت ہے، کیونکہ طاقتور کے ساتھ تو ہر کوئی نرم ہو جاتا ہے۔ اصل کردار وہاں دکھائی دیتا ہے جہاں سامنے والا ہم سے کمزور ہو۔
ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں اچھی باتیں معلوم نہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ عورت کی عزت کرنی چاہیے۔ ہمیں معلوم ہے کہ بچے کو محبت دینی چاہیے۔ ہمیں معلوم ہے کہ سچ بولنا چاہیے۔ ہمیں معلوم ہے کہ قانون ماننا چاہیے۔ ہمیں معلوم ہے کہ انسان کو انسان سمجھنا چاہیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان باتوں کو اپنی زندگی میں اتارتے کم ہیں۔
بعض معاشرے بڑے بڑے دعووں سے نہیں، چھوٹے چھوٹے رویوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ کوئی آدمی گھر میں کیسا ہے، سڑک پر کیسا ہے، دفتر میں کیسا ہے، کمزور کے ساتھ کیسا ہے، اختلاف رکھنے والے کے ساتھ کیسا ہے، عورت کے سامنے کیسا ہے، بچے کے سوال پر کیسا ہے ، یہی اس کے شعور کا اصل امتحان ہے۔
انسانیت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر وقت بڑی باتیں کرے۔ انسانیت یہ ہے کہ وہ کسی کا حق نہ مارے، عورت کو کمتر نہ سمجھے، بچے کی سوچ نہ دبائے، جھوٹ کو معمول نہ بنائے، کمزور کو ذلیل نہ کرے، اور اپنے عمل سے دوسروں کو تکلیف نہ دے۔
معاشرہ نعروں سے نہیں بدلتا۔ معاشرہ اس وقت بدلتا ہے جب انسان اپنے گھر کے اندر بدلتا ہے، اپنی زبان بدلتا ہے، اپنا رویہ بدلتا ہے، عورت کو عزت دیتا ہے، بچے کو اعتماد دیتا ہے، سچ کو فائدے پر ترجیح دیتا ہے، اور انسان کو انسان سمجھتا ہے۔
انسانیت کتابوں میں نہیں مرتی، انسانیت رویوں میں مر جاتی ہے۔ اور اگر اسے زندہ رکھنا ہے تو اسے الفاظ سے نکال کر عمل میں لانا ہوگا۔ یہی کسی بھی معاشرے کی اصل ترقی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں