سان فرانسسکو میرا دلدار ، دل بہار شہر ہے۔ زندگی کے سارے رنگ اس شہر میں ہیں ۔ یہ ایک چھیل چھبیلا اور متوالا شہر ہے جو ہر آنے والے کا کھلی بانہوں اور کھلے دل سے استقبال کرتا ہے ۔ آنے والے کا ماتھا چومتا ہے اور گلے لگاتا ہے ۔ ناچتا گاتا ، ہنستا مسکراتا شہر جس کے ھر کونے سے خوشیوں، خوشبوؤں اور مسرتوں کی قوس قزاحیں پوٹھتی ہیں ۔ فارسٹ ہل کی جانب سے دھند کے اٹھتے ہوئے مرغولے ، سن سٹ ڈسٹرکٹ کے سامنے دامن کشاں پیسفک اوشن ( بحر اوقیانوس)۔
یہیں پے دنیا کی سب سے بل کھاتی خوبصورت لومبارڈ سٹریٹ ہے جسے دیکھنے کے لئیے دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں ۔ یہ سٹریٹ نہ صرف پیچ و خم سے بلکہ صد رنگ پھولوں سے لدی ہوئی ہے ۔ لوگ اس جادوئی سٹریٹ پے تصویریں اترواتے ہیں ۔ یہ میرینہ ڈسٹرکٹ میں واقع ہے ۔ میرینہ ڈسٹرکٹ دولتمند گوروں کا علاقہ ہے جس کی یونین سٹریٹ رنگی برنگی دکانوں ، ریسٹورنٹس اور کلبوں سے بھری ہوئی ہوئی ۔ کرسمس کے دنوں میں اس کو رنگی برنگی روشنیوں سے سجایا جاتا ہے۔ یہ خالصتاً گوروں کا علاقہ ہے ( A pure white neighborhood)۔
دس سال میں میں نے کبھی کسی کالے کو اس گردونواح میں گھومتے پھرتے نہی دیکھا۔ گورے اپنا تعصب بلکل نہی چھپاتے ۔ یہ ایک طرح کا غیر اعلانیہ نو گو ایریا ہے جہاں کالے یا میکسیکن نہی جاتے۔ کوئی قانون آپ کو یہاں آنے سے نہی روکتا لیکن آپ کو برتاؤ سے بتا دیا جاتا ہے کہ آپ بن بلائے مہمان ہیں۔ ( you are not welcome here).
یہ ایک خاموش اعلان ہے۔ اس کے بر عکس مشن ڈسٹرکٹ میں ویلنسیا اور مشن سٹریٹ ہے جہاں سارا سان فرانسسکو ویک اینڈ پے اکھٹا ہوتا ہے ۔
گورے ، کالے میکسیکن ، دنیا جہان کا ہر باشندہ آپ کو یہاں اور ہر طرح کا کھانا بھی۔ رنگ برنگے ریسٹورنٹس اور بار ہیں ۔ عام طور پر سارے ڈانسنگ کلب رات دہائی بجے بند ہو جاتے ہیں لیکن ایک کلب ایسا بھی ہے جوصبح تک کھلا رہتا اس کا نام بھی بڑا مزے دار ہے ( the end up).
جب سارے بار اور کلب بند ہو جاتے ہیں تو سب اس کا رخ کرتے ہیں، اسی لئیے اس کا نام end up ہے۔ سن سیٹ ڈسٹرکٹ اور مشن ڈسٹرکٹ کے بیچ میں ایک علاقہ جسے کاسترو ویلی کہتے ہیں۔ یہاں سان فرانسسکو کے تمام Gay & Lisbin)
پائے جاتے ہیں ۔ سان فرانسسکو میں ان کی تعداد کوئی 94 ہزار کے قریب ہے ۔
انکی زیادہ بڑی تعداد یہیں پائی جاتی ہے۔ یہ واحد مخلوق ہے جو اتوار کی رات بھی پارٹی کرتی ہے لہذا کاسٹرو ویلی میں کلب اور بار اتوار کی رات بھی کھلے رہتے ہیں۔
چونکہ یہاں یہ عددی اکثریت میں لہذا بڑے دھڑلے سے بطور Gay یا لیزبین کے متعارف کراتے ہیں ۔ لیکن وسطی ریاستوں میں ان کو کافی نا پسندیدہ سمجھا جاتا ہے اور کبھی کبھار کوئیناخوشگوار واقعہ ہوتا ہے جس میں کوئی نہ کوئی ، Gay مارا جاتا ہے۔ لیکن سان فرانسسکو میں یہ بڑے دھڑلے سے دھما چوکڑی مچاتے ہیں۔ ھر سال ،Gay Parade ہوتی ہے جس میں دنیا بھر سے Gay & Lisbin شرکت کرتے ہیں۔ پورا شہر دنیا بھر سے آئے ان خواتین و حضرات سے بھر جاتا ہے۔ فنانشل ڈسٹرکٹ سے تھوڑے ہی فاصلے پے چاہنا ٹاؤن ہے۔ امریکہ کا سب سے بڑا چاہنا ٹاؤن اسی شہر میں واقع ہے ۔ چائنیز مصنوعات سے لدی ہوئی دکانیں اور ریسٹورنٹس ہیں۔ سیاحوں کے کشش کی ایک بڑی وجہ یہ چاہنا ٹاؤن بھی ہے ۔
سان فرانسسکو کلبوں ، ریسٹورنٹس اور باروں سے بھرا ہوا ہے ۔ اگر آپ نے ریسٹ روم استعمال کرنا ہو تو آپ کسی کلب ، ریسٹورنٹ ، بار یا ہوٹل چلے جائیں ۔ کوئی آپ کو ریسٹ روم استعمال کرنے سے منع نہیں کرتا ۔ امریکن اس معاملے میں بہت کشادہ دل ہیں۔ لیکن اس کے بر عکس اگر آپ کسی چائینز ریسٹورنٹ یا کلب میں ریسٹ روم استعمال کرنا چاہیں تو ایک پھینا سا چائینز آپ کو دروازے پے ہی روک لے گا اور بڑی کمینگی سے انکار کر دے گا۔ اپنے واہیات بلکہ بھدے چائنیز لہجے میں کہے گا کہ ( only for customers , only for customers) .
بندہ پوچھے کہ ابے بندر کہیں کے ریسٹ روم استعمال کرنے سے پہلے کیا آرڈر کر سکتا ہوں ۔میں اس کا علاج یہ کرتا تھا کہ دو ڈالر ہاتھ میں پکڑ لیتا تھا اور اس کے بولنے سے پہلے ہی اسے تھما دیتا تھا اور اس پے توجہ دئیے بغیر ریسٹ روم کی راہ لیتا تھا ۔ پیچھے سے وہ پکار پکار کے مجھے ریسٹ روم استعمال کرنے کی اجازت کی صدائیں لگا رہا ہوتا تھا ( yes, yes you can use it، you can use it) .
کاروباری معاملے میں امریکن چینی بڑے کمینے اور خسیس اور تنگدل ہیں۔
پیارے پڑہنے والے ! یہ جو میں تمہیں سان فرانسسکو کا سفر نامہ سنا رہا ہوں تو وجہ یہ ہے کہ ابھی حال ہی میں حافظ آباد میں کوئی اہم پی اے صاحب اپنے فرزند ارجمند کے ہمراہ ڈی پی او حافظ آباد سے ملنے اس کے آفس گئیے۔ جہاں ان کے بیٹے نے ریسٹ روم استعمال کر لیا ۔ وہ غالباً ریسٹ روم سے باہر نکل رہا تھا کہ آنجناب ڈی پی او صاحب تشریف لے آئے اور ریسٹ روم کے بنا اجازت استعمال کرنے پے برہمی کا اظہار کیا۔ نتیجتاً دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور ڈی پی او صاحب نے بزبان انگلشیہ ان صاحب کو دفع ہو جانے کے لئیے Get Lost کہا۔
بات بڑھ گئی ایم پی اے صاحب نے اس توہین ہے جناب ڈی پی او صاحب کا ٹرانسفر کروا دیا۔
اس وقت یہ مسلہ حافظ آباد میں تیسری جنگ عظیم شروع کروا سکتا ہے۔ یار لوگ اس اگ کو بجھانے کے لئیے پیٹرول کا وافر استعمال کر رہے ہیں۔ دی پی او صاحب بھی عالم اشتعال میں ہیں ۔ فرزند ایم پی اے صاحب بھی سوشل میڈیا پے اپنے جاہ و جلال کا مظاہرہ فرما رہے ہیں۔ ابھی تک کوئی نا خوشگوار واقعہ رو نما تو نہی ہوا لیکن ہونے کے امکان خاصے واضح ہیں۔
کاش ڈی پی او صاحب تھوڑے تحمل، تھوڑی درگزر تھوڑی سی وسعت قلبی سے کام لے لیتے تو معاملہ یہاں تک نہ پہنچتا۔
ویسے یہ صورتحال ڈی پی او صاحب کو بھی پیش آ سکتی تھی ۔کیا وہ ھر جگہ اپنا زاتی ریسٹ روم ہمراہ لے کر جاتے ہیں۔ چلیں اگر کوئی سنڈروم کا مسلہ ہے تو ریسٹ روم دھلوا لیتے ۔ لیکن بات یہاں تک بڑہانے کا کوئی تک نہی بنتا۔ اپ اگر Get Lost جیسی دلفریب اصطلاح استعمال نہ کرتے تو ایم پی اے صاحب بھی ان کا ٹرانسفر نہ کرواتے ۔ایم ہی اے صاحب کا بھی پتہ نہی کتنا زور لگا ہو گا۔ کاش دونوں فریقین تھوڑی رواداری ، تھوڑی کشادہ دلی اور کافی ساری عقل سے کام لیں تو آنے والی کسی بھی نا معقول سچویشن سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ بہرحال دشمنی شروع کرنے کے لئیے ریسٹ روم کے استعمال کو محرک بنانا انتہائی احمقانہ بات ہے۔
اللہ تعالیٰ ان سب کو عقل سلیم استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔











