پیارے پڑہنے والے ! تم تو جانتے ہی ہو کہ تاریخ ایک دلچسپ سبجیکٹ ہے ۔ گرچہ اس میں حقائق و واقعات کچھ زیادہ قابل اعتبار نہی ہو سکتے اور مورخ بہت دفعہ اپنی پسند نا پسند یا کسی مالی مجبوری کی بناء پر حقائق و واقعات کو سیاہ ، سفید یا سرمئی کر دیتا ہے لیکن پھر بھی یہ دلچسپ اور اہم مضمون ہے ۔ لیکن جو واقعات آپ پر گزرے ہوں یا آپ ان کے عینی شاہد ہوں اور اگر آپ کو کوئی مالی یا فکری مجبوری لاحق نہ ہو تو آپ انہیں ایمانداری سے بلا کم و کاسٹ بیان کر دیں ۔ مجھے بھی کچھ ایسے واقعات کا عینی گواہ ہونے کا اتفاق ہوا ہے لیکن اس میں میری کوئی زاتی کوشش یا قابلیت یا تگ و دو نہی تھی یہ محض اتفاق تھا کہ میں اس وقت میں وہاں موجود تھا مثال ہے کے طور پر جب 9/11 کا واقع ہوا تو میں پینٹاگون سے محض 100 یا 150 گز دوری کے فاصلے پے تھا اور جو جہاز مبینہ طور پر پینٹاگون سے ٹکرایا تھا کہ ٹکرانے کے صرف پانچ منٹ بعد کی بات ہے۔ جو حقائق تم تک پہنچے وہ سراسر لغویات کے پلندے کے سوا کچھ بھی نہی۔خیر اس قصے کو میں پھر کبھی بیان کروں گا۔ فی الحال تو میں انقلاب ایران کی داستان سنانے جارہا ہوں۔ 1977 میں شہنشاہ ایران نے رسم تاجپوشی کا جشن منایا، جس میں دنیا بھر کی اہم شخصیات ، صدور اور وزرائے اعظم نے شرکت کی اس کے لئیے ایک شہر بسایا اور اس تماشے پے کروڑوں روپیہ خرچ کیا گیا ۔ اس جشن کی داد و دہش کے چرچے پوری دنیا میں ہوئے۔ اس سلسلے میں ایک سکاؤٹ جمبوری بھی منعقد ہوئی جسے Second Asia Pacific Jamboree کہا گیا۔
اس میں دنیا بھر کے ممالک سے سکاوٹس نے شرکت کی ۔ پاکستان کو بھی یہ دعوت نامہ ملا اور جن 470 سکاوٹس نے شرکت کی میں بھی ان میں سے ایک تھا ۔
پیارے پڑہنے والے ! میں یہاں تھوڑی سی شیخی بگھارنا چاہوں گا گو کہ میں اس طرح کی باتوں کے حق میں نہیں لیکن کبھی کبھی ایسا کرنے میں کوئی ہرج نہیں ۔ آخر شہنشاہ ایران بھی تو شیخی ہی بگھار رہا تھا۔ تو بتانا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ یہ بندہ ناچیز زمانہ طالبعلمی میں قائد اعظم سکاؤٹ رہ چکا ہے اور یہ پاکستان سکاؤٹ ایسوسی ایشن کا سب سے بڑا
رینک ہوتا ھے۔ تو ہمارا یہ 470 سکاوٹس کا قافلہ بزریعہ ٹرین براستہ بلوچستان، ایران روانہ ہوا ۔یہ ایک دلچسپ سفر تھا اور پہلی مرتبہ ہم ایک بین الاقوامی سفر پے جا رہے تھے۔ ٹرین بلوچستان کے خشک اور سنگلاخ پہاڑوں سے گزرتی، دھواں چھوڑتی اور سیٹیاں بجاتی انوشکی جو پاکستان کا آخری سٹیشن ہے پر پہنچی اور پھر ایران میں داخل ہوئی ۔رات کوئی گیارہ بارہ بجے کے لگ بھگ ھم پہلے ایرانی سٹیشن میر جاوا رکے۔ وہاں امیگریشن کے مرحلے سے گزرنے کے واسطے ہمارے پاسپورٹ ہم سے لئیے گئے اور پتا نہی کتنی دیر بعد ھم وہاں سے روانہ
ہووے ۔ ہم نے بہت تجسس سے دور کسی شہر کی بتیاں جلتی ہوئی دیکھیں۔ ٹرین رات بھر چھکا چھک چلتی رہی اور صبح کسی وقت زاہدان شہر میں داخل ہوئی یہاں ہمارا پہلا پڑاؤ تھا اور ہمیں زاہدان سٹیڈیم میں ٹھہرایا گیا ۔یہ ایک انتہائی ماڈرن اور بے حد فیشن ایبل سٹیڈیم اور ہم آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے اسے دیکھ رہے تھے۔ شام کو ھم کچھ دوست گھومنے نکلے واپسی پے ہمیں گیٹ پے ایک ایرانی پولیس کانسٹیبل ملا ۔ ھم نے اسے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں پوچھا کہ شہنشاہ کہاں رہتا ھے۔ جس پر اس نے ہمیں نرمی سے تنبیہ کی اور کہا کہ شہنشاہ کا نام احترام سے لیا جانا چائیے اور شہنشاہ کا مختصر ترین نام ہے شہنشاہ آریا مہر رضا شاہ پہلوی ہے۔
تو یہ عالم تھا شہنشاہ کے کنٹرول کا ۔ ہم اس وقت نویں جماعت کے طالب علم تھے اور ہمیں اس طرح کی باتوں کا کوئی پتا نہی تھا۔بعد میں پتا چلا کہ شہنشاہ کی اپنی عوام پر بڑی آہنی گرفت تھی اور جاسوسی کا نیٹ ورک ایسا تھا کہ باپ بیٹے کی اور ماں بیٹی کی بلکہ پورا خاندان ہی ایک دوسرے کی مخبری کرتا تھا۔ شہنشاہ کی ایک ایجنسی جس کا نام ساواک تھا، بلکل بر وزن سفاک تھا۔
یہ ایجنسی اپنی بربریت اور سفاکی کے لئیے مشہور تھی اور جو کوئی ان کے ہتھے چڑھ جاتا تھا پھر اس کی واپسی محال ہوتی تھی۔
ایران ترقی کی شاہراہ پر سر پٹ بھاگا جا رہا تھا اور شہنشاہ پے ایران کو ایشیا کا سب سے جدید اور طاقتور ملک بنانے کا بھوت سوار تھا۔ پورا ملک بے شمار پراجیکٹس کی زد میں آیا ہوا تھا اور بذات خود شہنشاہ امریکیوں کا blue eyed boy تھا ۔ ایران میں اس وقت بیس ہزار سے زاید امریکن بطور کنسلٹنٹ کام کر رہے تھے۔ شہنشاہ امریکہ سے دھڑا دھڑ اسلحہ خریدنے میں مصروف تھا اور پینٹاگون کے اکاؤنٹ میں ھر وقت ایرانین دو بلین ڈالر revolving account میں پڑے رہتے تھے۔ شہنشاہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا خریدار تھا۔دنیا بھر سے آئے ہوئے بحری جہاز چھ چھ مہینے سے گودی پر لگنے کے انتظار میں کھڑے تھے کیونکہ بندرگاہ میں Disembarking کے لئیے جگہ ہی نہی تھی۔ نیشاپور میں ہم نے پاکستانی روپوں کے بدلے ایرانی تومان لئیے تو سو روپے کے ستر تومان ملے۔
ایرانی عورتوں پر پابندی تھی کہ وہ مغربی لباس پہنیں اور سر پر حجاب نہ لیں۔جا بجا میڈیکل سٹور تھے اور ان کے ساتھ شراب کی دکانیں تھیں۔ ہم نے پہلی دفعہ شراب کی دکانیں اور سکرٹ پہنے عورتیں دیکھی تھیں۔ لیکن ھم اس وقت نویں جماعت کے بدھو سے طالب علم تھے اور ہمارا سیاسی/ غیر سیاسی شعور نہ ہونے کے برابر بلکہ سرے سے مفقود تھا۔ البتہ یہ سب کچھ ہمارے لئیے باعث حیرت تھا کیونکہ اسوقت پاکستان میں شٹل کاک برقعے چل رہے تھے۔ اس وقت جب امریکی میں LGBT کمیونٹی اور ان کے حقوق کا کسی کو خواب و خیال بھی نہی تھا اس وقت ایران میں دو جرنیلوں کے بیٹوں نے آپس میں شادی کی جس میں شہنشاہ ایران نے شرکت فرما کر تائید شاہی کی مہر ثبت کر دی ۔ ملاؤں کی نقل و حرکت بہت محدود تھی اور کسی قسم کی سیاسی سر گرمی کی اجازت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ شہنشاہ کو سب اچھا کی رپورٹ مل رہی تھی۔
پیارے پڑہنے والے تم تو جانتے ہو کہ ایران رقبے کے اعتبار سے ایک بڑا اور ابادی کے معاملے میں کافی چھوٹا ملک ہے ۔ ہم نے شاہی تقریبات میں حصہ لیا اور ایک پریڈ میں شہنشاہ کو سلامی بھی دی۔
نیشاپور میں ہم نے شیخ سعدی کے مزار پر حاضری دی اور مشہور ایرانی شاعر عمر خیام کا مزار بھی دیکھا جہاں ہمیں چھوٹے چھوٹے گلاسوں میں فانٹا پیش کی گئی ۔ہم بزریعہ ٹرین نیشاپور سے مشہد بھی گئے حضرت امام رضا کے روضے پے حاضری دی۔ روضے سے ملحقہ ایک حسین ترین مسجد جس میں شیشے کا کام ہوا تھا ۔ حضرت امام رضا کے روضے پے دعائئں مانگنے والے زائرین کا بہت بڑا ہجوم تھا اور لوگ حضرت امام کی قبر کو چوم رہے تھے اور بآواز بلند زار و قطار رو رہے تھے اور اس نظارے کو دیکھ دلوں پے ہیبت اور رقت طاری ہوتی تھی۔
ہمیں مشہد میں اکیلے گھومنے سے منع کیا گیا۔ بتایا گیا کہ یہاں عورتیں بندوں کو اغوا کر لیتی ہیں ، جیسے آج کل ڈی ایچ اے کی آنٹیاں مالش کرنے والے لڑکوں کو زیادہ پیسے کا لالچ دے کے لے جاتی ہیں اور پھر ان سے الٹے سیدھے کام کرواتی ہیں۔ جس ٹرین سے ہم مشہد گئے اس کی سرخ رنگ کی ویلوٹ کی نرم اور آرام دہ سیٹیں تھیں اور ہم نے اس سفر کو بہت انجوائے کیا۔
پھر ھم نیشاپور سے تہران گئے جہاں ہمیں ایک سکول میں ٹھہرایا گیا۔ جس محلے میں یہ سکول تھا اس کا نام خیابان پہلوی تھا۔
ہم تہران میں دو دن ٹھہرے اور تہران کی مختلف تاریخی عمارتیں اور مارکیٹیں دیکھیں۔ ویسی مارکیٹوں کا اس وقت پاکستان میں کسی کو خواب و خیال بھی نہ تھا۔ ہمارے لئیے یہ سب کچھ بے حد دلچسپ اور حیرت انگیز تھا۔ یہیں ہمیں پہلی دفعہ برگر کھانے کا اتفاق ہوا ۔یہ بے حد لزیز تھے اور صرف دو ریال کے تھے۔ہمارے پاس جو تومان تھے وہ تقریبا ختم ہونے والے تھے۔
تہران سے ہم واپس زاہدان پہنچے اور پھر بزریعہ ٹرین وطن واپسی کا سفر شروع ہوا۔
پیارے پڑہنے والے ! وہی ایران جہاں شہنشاہ کا پورا نام نہ لینے پے تم گرفتار کئیے جاسکتے تھے اسی ایران میں 1979 محض دو سال کے بعد انقلاب برپا ہوا ۔شہنشاہ کو ایران چھوڑنا پڑا, شاہ کی وفادار فوج نے شاہ کا ساتھ دیا لیکن بلآخر انہیں پاسداران انقلاب کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔
امریکہ نے شہنشاہ کو پناہ دینے سے انکار کر دیا اور دربدر پھرنے کے بعد مصر والوں نے اپنے سابقہ داماد کو پناہ دی، جہاں سال ڈیڑھ سال بعد شاہ کینسر کی وجہ سے وفات پا گیا۔ شاہ کے ساتھ فرار ہونے والی اشرافیہ کی بڑی تعداد لاس اینجلس میں مقیم ہے جہاں وہ 45 برس سے ایران میں تبدیلی حکومت کی منتظر ہے۔ آج کل ٹرمپ اسی تبدیلی کے چکر میں اپنی اور امریکہ کی مٹی پلید کروانے میں مصروف و مشغول ہے۔
پیارے پڑہنے والے !
میں چونکہ طبعاً ایک غیر سیاسی آدمی ہوں اور سیاست کو ایک لغو اور بے ہودہ کاروبار سمجھتا ہوں لیکن اگر تم انقلاب ایران کے بارے میں جاننا چاہو تو میں تمہیں دو بہترین کتابیں تجویز کر سکتا ہوں ۔
ایک تو ہمارے ہم وطن مشہور و معروف مصنف جناب مختار مسعود کی کتاب ” لوح ایام ”
1979 میں مختار مسعود صاحب RCD کے جنرل سیکریٹری تھے اور ان کا دفتر تہران میں تھا جہاں انہوں نے انقلاب ایران کو شروع ہوتے اور پھر اپنے انجام تک پہنچتے دیکھا۔ مختار مسعود کا شمار پاکستان کے نامی گرامی بیوروکریٹس اور بڑے لکھاریوں میں ھوتا ہے ۔ زبان و بیان پے ان کی دسترس غیر معمولی ہے۔
” لوح ایام میں انقلاب کا بہت خوبصورت اور دلچسپ تجزیہ کیا گیا ھے اور اس کی قیمت بھی بے حد مناسب ہے ۔۔۔شاید ایک برگر کے برابر۔
دوسری کتاب میرے فیورٹ جرنلسٹ ریشیارد کاپو شنسکی کی ہے جو پولینڈ کا باشندہ تھا ۔اس نے اپنی اپنی زندگی میں کوئی ستر سے زاید جنگیں اور انقلاب عین موقع واردات سے رپورٹ کئیے۔ کوئی دس برس پہلے اس کا انتقال ھو گیا۔ کاپو شنسکی میرا ہیرو ہے اور وہ ایک ایماندار اور معروضی جرنلسٹ تھا۔ بوقت انقلاب وہ ایران میں تھا ۔ نہ صرف اس نے انقلاب کو رپورٹ کیا بلکہ اس داستان کو کتابی شکل میں شائع بھی کیا۔ غالباً اس کا ٹائٹل ہے
” The emperor of the emperors”
ہو سکتا ہے مجھ سے کتاب کے نام میں غلطی ہو رہی ہو ۔ اس کا ترجمہ اجمل کمال نے
” شہنشاہ” کے عنوان سے کیا ہے ۔ ضخامت کے اعتبار سے یہ کتاب ” لوح ایام ” کے مقابلے میں آدھی بھی نہی لیکن ضخامت معیار کی ضمانت نہیں ہوا کرتی ۔
ریشیارد کاپو شنسکی چونکہ پیشے کے اعتبار سے جرنلسٹ تھا لہذا اس نے واقعات کا تجزیہ حقائق کی بنیاد پر کیا ہے اور واقعات کو بیان کرتے ہوے معروضیت کا دامن ہاتھ سے نہی چھوڑا۔
گرچہ مختار مسعود کی تحریر کا میں مداح ہوں لیکن انقلاب کے تجزئیے کے حوالے سے میں ریشیارد کاپو شنسکی کو ترجیح دوں گا۔











