تہران سے قم اور پھر عراق کے شہروں نجف اور کربلا میں زیارت کے بعد شہید آیت اللہ خامنہ ای کو دوبارہ ایران کے شہر مشہد لایا گیا جہاں ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد ان کی تدفین روضہ حضرت امام رضا کے احاطے میں کردی گئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ مشہد میں امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں ادا کی گئی جس میں لاکھوں سوگواروں نے شرکت کی اور اپنے محبوب لیڈر کے لیے دعائے مغفرت کی۔
آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ کی امامت ان کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای نے کی جب کہ ان کے دیگر بھائی بھی پہلی صف میں موجود تھے تاہم موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شریک نہیں تھے۔
اس سے قبل ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے اعلان کیا تھا کہ مشہد میں علی خامنہ ای کے جنازہ آیت اللہ حسین نوری ہمدانی پڑھائیں گے تاہم آج نوری ہمدانی کی عدم موجودگی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔











