ٹیلی کام صارفین سے اربوں کی اضافی وصولی، سائبر فراڈ اور بینکنگ خامیوں کا انکشاف

اسلام آباد ( رپورٹ: رانا حسن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات کے اجلاس میں ٹیلی کام صارفین سے مبینہ اضافی وصولیوں، سائبر سیکیورٹی کی خلاف ورزیوں، امیگریشن نظام میں خامیوں اور بینکنگ شعبے کے کمزور تصدیقی نظام سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے آڈٹ پیرا پر تفصیلی بحث ہوئی، جس میں سیلولر آپریٹر جیز کی جانب سے صارفین سے 6.58 ارب روپے کی مبینہ اضافی وصولی کا معاملہ اٹھایا گیا۔ آڈٹ حکام کے مطابق سہ ماہی ٹیرف میں تین فیصد اضافے کی تجویز کے برعکس مناسب طریقہ کار اختیار کیے بغیر 15 فیصد اضافہ کیا گیا۔

پی ٹی اے حکام نے آڈٹ اعتراض سے اختلاف کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 15 فیصد اضافہ ایک مرتبہ منظور شدہ تصحیح تھی اور آڈٹ حکام نے متعلقہ دستاویزات پر موجود دستخطوں کی درست تشریح نہیں کی۔ پی ٹی اے کی جانب سے پیش کیے گئے مصالحتی جائزے میں متنازع رقم 6.58 ارب روپے کے بجائے تقریباً 92 کروڑ روپے قرار دی گئی۔

ٹیرف کے تعین کے قانونی اختیار پر بھی کمیٹی میں بحث ہوئی کہ بڑے مارکیٹ پلیئرز کے ٹیرف کا فیصلہ پی ٹی اے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے یا اس کے لیے کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی منظوری ضروری ہے۔ کمیٹی نے معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کی سربراہی میں خصوصی ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی، جو اپنی رپورٹ کمیٹی کو پیش کرے گی۔

اجلاس میں بینکنگ نظام کے Know Your Customer (KYC) طریقہ کار پر بھی ارکان نے تشویش کا اظہار کیا۔ ارکان کا کہنا تھا کہ معمولی تصدیق کے بعد بینک اکاؤنٹس کھولے جاتے ہیں، جنہیں بعد ازاں غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کارروائی کے بعد بلاک یا بلیک لسٹ کر دیا جاتا ہے۔

امیگریشن نظام سے متعلق بریفنگ میں بھی ویزا اور غیر ملکی شہریوں کی نگرانی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے۔ ارکان نے کہا کہ وزٹ اور بزنس ویزا کے بعض چینلز میں مناسب بیک گراؤنڈ ویریفکیشن اور مؤثر ٹریکنگ کا فقدان ہے، جس کے باعث غیر ملکی شہریوں کے غیر قانونی قیام اور ویزا کے غلط استعمال کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

قومی سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے کمیٹی کو اہم بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق راولپنڈی میں ایک ایسے گروہ کو گرفتار کیا گیا جو پاکستانی سرکاری افسران، اعلیٰ بیوروکریٹس، نادرا ریکارڈز اور کال ڈیٹیل ریکارڈز سمیت حساس معلومات غیر ملکی خریداروں کو فروخت کر رہا تھا۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے کی مشترکہ تحقیقات کے دوران ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے طور پر کام کرنے والے مبینہ جعلی کال سینٹرز کے ذریعے 172 ارب روپے کے مالیاتی فراڈ کا انکشاف ہوا، جبکہ رقم کو مبینہ طور پر کرپٹو کرنسی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیا گیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر نامناسب مواد سے متعلق شکایات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ پی ٹی اے حکام کے مطابق اسے روزانہ تقریباً 500 شکایات موصول ہوتی ہیں۔ کمیٹی نے 16 سال سے کم عمر صارفین کے لیے عمر کی حد اور حفاظتی فریم ورک وضع کرنے کی سفارش کی۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں انٹرنیٹ سروس کی خرابی سے متعلق اٹھائے گئے سوال پر پی ٹی اے نے یقین دہانی کرائی کہ ملک گیر انٹرنیٹ تعطل کے معاملے پر جامع رپورٹ ایک ماہ کے اندر کمیٹی کو پیش کی جائے گی۔

اجلاس میں اتصالات کے 800 ملین ڈالر کے واجبات اور سرکاری افسران کے لیے محفوظ ’’سپر ایپ‘‘ کی تیاری سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو اہم معاملات پر پیش رفت اور تفصیلی رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں