ٹرمپ سے ملاقات میں چینی صدر کا ایران کیساتھ اسلام آباد معاہدے کی بحالی پر زور

واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جنپنگ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس میں ایران تائیوان تجارت اور امریکا چین تعلقات سمیت اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ملاقات میں شی جنپنگ نے ایران اور امریکا کے درمیان جون میں طے پانے والے مفاہمتی سمجھوتے کی بحالی کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جنگ فوری ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی میں تعمیری کردار ادا کرتا رہا ہے۔

چینی صدر نے تائیوان کے معاملے پر بھی چین کا مؤقف واضح کرتے ہوئے امریکی صدر پر زور دیا کہ وہ تائیوان کی آزادی کی مخالفت کریں اور اس مسئلے کو احتیاط سے سنبھالیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے شی جنپنگ سے ملاقات کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ خوشگوار ماحول میں ہونے والی بات چیت کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ان کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان شکوے گلے دور کرنے اور ایسے فیصلوں پر بات چیت ہوئی جو طویل عرصے تک امن اور خوش حالی کے فروغ میں مدد دے سکتے ہیں۔

شی جنپنگ نے بتایا کہ آئندہ پانچ برسوں میں ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تعلیمی اور ثقافتی تبادلے کے پروگراموں کے تحت چین آنے کی دعوت دی جائے گی۔ انہوں نے چین اور امریکا کے درمیان دوستی کی علامت کے طور پر دو پانڈا امریکا بھیجنے کا اعلان بھی کیا۔

چینی صدر 23 ستمبر کو امریکی صدر کی دعوت پر واشنگٹن پہنچے تھے جہاں صدر ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا تھا۔ شی جنپنگ نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کے دوران دونوں ممالک پر زور دیا تھا کہ اختلافات کے باوجود مذاکرات تعاون اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دیا جائے اور باہمی مسابقت کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں