پیارے پڑھنے والے! کبھی کبھی میں بے حد حیران ہوتا ہوں کہ ہمارے پاس کیسے کیسے ڈگریوں والے جاہل اور بے بہرہ لوگ ہیں اور وہ کس قدر افراط میں ہیں ۔
پاکستان ان چار ممالک میں سے ایک ہے جو نظریاتی بنیادوں پے وجود میں آئے ۔ ان میں سے روس، چین ، اسرائیل ہے اور چوتھا ملک پاکستان ہے ۔ روس اور چین پہلے سے موجود تھے لیکن پھر دونوں ممالک کے لوگوں نے اپنے اپنے نظاموں کے خلاف قتل و غارت پے مبنی طویل جنگ لڑی اور خالصتاً نظریاتی بنیادوں پے نئی ریاستوں کی تشکیل نو کی۔ اسی طرح اسرائیل بھی کوئی ملک نہیں تھا لیکن یہودیوں نے ایک نئے ملک کی بنیاد نظریاتی/ مزہبی بنیادوں پے رکھی ۔
پاکستان کا وجود ان سب سے ہٹ کر ایک منفرد اور الگ تشخص رکھتا ھے ۔ ہندوستانی مسلمانوں نے انگریزوں اور ہندوؤں سے جنگ لڑی اور یہ تسلیم کروایا کہ وہ ایک الگ قوم ہیں ۔۔پاکستان کا قیام دو قومی نظرئیے پے بنیاد کرتا ہے۔ اس کے لئیے ہندوستان کے مسلمانوں اور ان کے رہنماوں نے ایک طویل جنگ لڑی ۔ قیام پاکستان کی بنیاد میں دس لاکھ لوگوں کا خون ہے ، اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اس کا وجود کلمے کی بنیاد پے عمل میں آیا۔ یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہے جو انسانوں نے محض اپنے مذہبی نظریات کی بنیاد پر کی ۔
اس موضوع پے کہ اس طویل جنگ میں کس کس نے اور کیسی کیسی قربانیاں دی گئیں پھر بات کریں گے لیکن فی الحال میرا موضوع پرویز ہود بھائی اور اس جیسے احمق مچھندر ہیں جو خود کو دانشور سمجھتے ہیں یا کہلاتے ہیں۔
پچھلے دنوں مجھے ایک ویڈیو کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں موصوف کسی سے مکالمہ فرما رہے تھے ۔ مکالمے میں وہ بانی پاکستان کے بارے میں نہایت ہی عامیانہ سی گفتگو فرما رہے تھے۔
اپنی اس گفتگو میں وہ یہ انکشاف کر رہے تھے کہ مسٹر جناح شراب پیتے تھے، پورک کھاتے تھے ۔ پارسی تھے یا پتہ نہیں شیعہ تھے اور اندر سے انگریز تھے ۔مطلب یہ کہ ایک لایعنی گفتگو کر رہے تھے۔ میں ان موصوف کو جواب دینا چاہتا ہوں کہ دنیا بھر میں ایسے بے شمار مسلمان ہوں گے جو شراب پیتے ہیں اور دیگر حرامزدگیوں میں ملوث ہیں ۔ یہ ہود بھائی صاحب جو قیام پاکستان کے 78 برس بعد محمد علی جناح کے بارے یہ ہرزہ سرائی کر رہے ہیں ۔ یہ موصوف جو غالباََ فزکس کے پروفیسر ہیں اور خود کو بڑا بقراط بنا کے پیش کرتے ہیں، 78، 80 برس بعد محمد علی جناح کے کردار کا پوسٹم مارٹم کیوں فرما رہے ہیں ؟
یہ بہت سوچنے کی اور غور طلب بات ہے کہ ایک فزکس کا پروفیسر جس کا تاریخ سے کچھ لینا دینا نہیں وہ ایک اتنے عظیم رہنما کے بارے میں ایسا کیوں کر رہا ہے ۔
میں اس خود ساختہ دانشور سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ تم ایسی بے معنی اور بے وقت گفتگو سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو۔
پرویز ہود بھائی کی اس لغو بے بنیاد گفتگو پر میں ان سے کچھ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ
1۔ پہلے بات تو یہ کہ محمد علی جناح وفات پا چکے ہیں ۔ بنیادی اخلاقیات بھی اس بات کی اجازت نہی دیتی کہ آپ کسی پر اس کے مرنے کے بعد الزام لگائیں ۔ آپ کس حیثیت میں قاہد اعظم پے شراب نوشی کا الزام لگا رہے ہیں؟
2- دوسرا میں اس آدمی سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ تمہیں نہیں معلوم کے یہ تاریخ انسانی کی سب سے بڑی ہجرت ہے اور اجماع امت کے اتفاق سے اور قربانیوں سے یہ ملک وجود میں آیا ہے۔ قاہد اعظم محمد علی جناح نے اس نظرئیے کی وکالت بطور ایک وکیل کے کی ہے نہ کہ مزہبی پیشوا کے طور پر ۔
ھندوستان کے 2200، علمائے کرائم نے اس فتویٰ پے دستخط کئیے ہیں جس میں تحریک پاکستان اور مطالبہ پاکستان کو غلط اور حرام قرار دیا گیا ہے۔
ان میں سے وہ جماعتیں بھی ہیں جن کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ پاکستان کے قیام کے گناہ میں شامل نہیں ۔ آج وہ اسی پاکستان میں اپنے مزہبی طویلے چلاتی ہیں اور وزارتوں کے مزے لوٹتی پھرتی ہیں ۔ جیسے تم ایک آزاد ملک میں بیٹھ کے اس کے بنانے والوں کیخلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہو۔
مسٹر ہود بھائی تم محض سائنس کے ایک معمولی پروفیسر ہو تم کس حیثیت میں تحریک پاکستان ،قیام پاکستان اور اس کے بانی کے بارے میں یہ ایسی بے بنیاد الزام تراشی کر رہے ہو ۔ تم ہو کون ؟ تمہارا سٹیٹس کیا ہے؟ میں تم سے پوچھتا ہوں کہ تم کس حیثیت سے بانی پاکستان کے بارے میں ایسی رطب و یابس کررہے ہو ؟ تم کس حیثیت میں پاکستان کے 24 کروڑ لوگوں کی دل آزاری کر رہے ہو؟ میں تمہیں محمد علی جناح کے ۔۔۔۔۔ کے برابر بھی نہی سمجھتا۔ تمہاری جرات کیسے ہوئی کہ تم پاکستان میں بیٹھ کے بانی پاکستان کے بارے میں یہ بد زبانی یا گستاخی کر سکو۔
مجھے یہ بتاؤ کہ اس گفتگو سے تمہارے مقاصد کیا ہیں ؟ تم کس ملک کے ایجنٹ ہو ؟ تم کس ایجنڈے پے کام کر رہے ہو ؟ یا پھر تم دشمنوں کے لئیے ایک مفید احمق کا کردار ادا کر رہے ہو۔
پیارے پڑہنے والے!
یہ ہم سب کے لئیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان اس وقت بلکہ روز اول ہی سے طوفانوں کی زد میں ہے۔ ہمارے پاس پرویز ہود بھائی جیسے کم عقل اور خود ساختہ دانشوروں کی کمی نہیں جو اپنی جہالت سے اس ملک کی جڑیں کاٹنے میں جتے ہوئے ہیں۔
چین اس وقت دنیا کی مضبوط ترین معیشت کا مالک ہونے کے باوجود بھی اپنے ملک میں کسی کو اپنے نظریات کے خلاف ایک لفظ بولنے کی اجازت نہی دیتا اور ادھر ایک ہم ہیں کہ جو اٹھتا ہے وہ بانی پاکستان اور نظریہ پاکستان کے خلاف اوول فاول بولنا شروع کر دیتا ھے۔
میں اول و آخر پاکستانی ہوں ۔ میرے پاس میرے ملک کے علاؤہ کچھ بھی نہیں۔ پاکستان کے معاملے میں مجھے نہ تو عربوں کی پرواہ ہے اور نہ ہی ایرانیوں کی۔ مجھے اپنا وطن ان سب سے پیارا ہے ۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں رتی برابر بھی عار نہیں کہ میں ایک متعصب پاکستانی ہوں ۔ میں یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ مجھے پرویز ہود اور اس جیسے جاہلوں سے شدید نفرت ہے جو نظریہ پاکستان کے خلاف یاوہ گوئی اور دریدہ دہنی سے کام لیتے ہیں اور آزادی اظہار کا نقاب اوڑھ کے اس ملک کے بنیادی نظریات کے خلاف بولتے ہیں۔
میری دلی تمنا ہے کہ وہ تمام جماعتیں جو خود کو مطالبہ پاکستان کے گناہ میں شامل نہی سمجھتی تھیں واپس ہندوستان تشریف لے جائیں ۔
انشاء اللہ پاکستان نے 1947 میں بھی اپنا وجود منوایا تھا ۔ پاکستان سلامت تا قیامت رہے گا۔
پاکستان ذندہ باد۔











