قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کر دی

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدر مملکت کے اعلان کی توثیق کردی۔ ایمرجنسی کی توثیق کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی جبکہ اپوزیشن نے اس کی مخالفت کی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر وقفہ سوالات ملتوی کرنے کی تحریک پیش کی گئی جس کی اپوزیشن نے مخالفت کی تاہم ایوان نے تحریک کثرت رائے سے منظور کرلی۔

بعد ازاں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔ قرارداد پر بحث کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی ایوان میں موجود تھے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلامیہ دونوں ایوانوں میں پیش کرنا آئینی تقاضا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ طویل غور و خوض کے بعد کیا کیونکہ اندرونی خلفشار سرحد پار سے دراندازی اور صوبائی حکومت کے اقدامات قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے جا رہے تھے۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے اعلان کے بعد دس روز کے اندر معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض ارکان نے اس اقدام کو 12 اکتوبر کے واقعات سے تشبیہ دی تاہم کابینہ میں اس معاملے پر تفصیلی بحث کی گئی تھی۔

وفاقی وزیر قانون کے مطابق گزشتہ برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ افواج پاکستان اور پولیس نے قربانیاں دے کر کامیابیاں حاصل کیں لیکن حالات دوبارہ خراب ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال کے دوران دہشت گردی کے 3 ہزار 700 سے زائد واقعات پیش آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں