بشری بی بی رہائی

بشری بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کردی۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ جاری کیا۔
سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتوں نے خواتین کے معاملات میں ہمیشہ نرم رویہ اپنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا گزشتہ 13 ماہ کے دوران طرز عمل قابل اعتراض رہا اور ادارے کی جانب سے متعدد سماعتوں پر التوا بھی لیا گیا۔
وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سزا کے بعد بشریٰ بی بی کی ضمانت اور سزا معطلی کی درخواست کا قانونی جواز موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمے میں زیادہ توجہ بانی پی ٹی آئی کی اپیل پر رہی جبکہ بشریٰ بی بی کے معاملے کو الگ سے دیکھا جانا چاہیے۔
اس موقع پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس مرحلے پر مقدمے کے میرٹ پر نہیں جا رہی بلکہ سزا معطلی کی درخواست پر غور کر رہی ہے۔ جسٹس باقی نجفی نے استفسار کیا کہ مرکزی اپیل کتنی مرتبہ سماعت کے لیے مقرر ہوئی۔
عدالت نے سماعت مکمل ہونے کے بعد سلمان صفدر کو تحریری دلائل کے نکات جمع کرانے کی ہدایت کی اور حکم نامہ جاری کرنے کا کہا۔ بعد ازاں عدالت نے بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں