لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو اب معلوم ہوگا کہ ترقی کسے کہتے ہیں۔ پنجاب مصنوعی ذہانت کے جدید دور میں داخل ہو رہا ہے جبکہ خیبر پختونخوا اب بھی پتھر کے دور میں ہے۔
طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ عوام کو شعور دینے کے دعوے کرنے والوں نے ان کی زندگیاں تباہ کردیں۔ پی ٹی آئی نے اپنے اقدامات کے باعث اپنی حکومت خود ختم کی اور یہ پہلا لانگ مارچ تھا جو اپنی ہی حکومت کے خاتمے پر ختم ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ایک صوبے کا دوسرے صوبے یا وفاق پر حملہ آور ہونا قابل سوال ہے۔ اس احتجاج سے خیبر پختونخوا کی حکومت کو نقصان پہنچا اور اب وہاں کے عوام کو ترقی کا فرق معلوم ہوگا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ صوبے میں 3 ہزار الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی جن کا کرایہ 20 روپے ہے۔ یہ سہولت پنجاب کی تمام تحصیلوں تک پہنچائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کی اسکوٹیز کی ماہانہ قسط 3 ہزار روپے رکھی گئی ہے تاکہ خاندانوں پر مالی بوجھ نہ پڑے۔ پنجاب میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کے لیے اے آئی لیبارٹریاں بھی قائم کی جارہی ہیں۔
مریم نواز کے مطابق عہدہ سنبھالتے وقت 80 فیصد جامعات میں وائس چانسلر تعینات نہیں تھے تاہم اب ہر یونیورسٹی میں میرٹ کی بنیاد پر وائس چانسلر مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفارش اپنے گھر سے بھی آئے تو قبول نہیں کرتیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت عوام کو ان کی دہلیز پر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ صوبے میں مریضوں کو ادویات گھروں تک پہنچائی جارہی ہیں جبکہ نوجوانوں کو مختلف ترقیاتی منصوبوں میں شامل کیا گیا ہے۔











